ایک مفکر (thinker) کا ایک با معنی قول اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہےکہ— انسان کی زندگی ’کاما‘ سے بھری ہوئی ہے، زندگی میں کبھی ’فل اسٹاپ‘ نہیں آتا:
Life is full of ‘commas’, there is no ‘fullstop’ in life.
یہ قول زیادہ بہتر طور پر ذہنی ارتقا کے معاملے میں صادق آتا ہے- انسان کا ذہن اپنے اندر لامحدود صلاحیت رکھتا ہے- یہ صلاحیتیں مسلسل طور پر انفولڈ (unfold) ہوتی رہتی ہیں- یہ ایک لامتناہی عمل (unending process) ہے- آدمی کا ذہن اگر کہیں اٹکا ہوا نہ ہو تو یہ عمل اس کے اندر اپنے آپ جاری رہے گا- انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی پوری عمر کے لیے متعلم اور متلاشی (seeker) بنا رہے، وہ کھلے ذہن کے ساتھ چیزوں کو دیکھے، وہ بلا تفریق ہر چیز کا مطالعہ کرے، وہ کسی تعصب کے بغیر لوگوں کے ساتھ انٹریکشن کرے، وہ اپنے آپ کو ہمیشہ طالب سمجھے، اس کی تلاش ایک ایسی تلاش ہو جو ہمیشہ جاری رہے، اُس کے لیے کبھی فل اسٹاپ نہ آئے-ابدی طلب کا یہ مزاج مومن کے اندر کامل معنوں میں پایا جاتا ہے- مومن کے لیے صرف اللہ کے کلام کی حیثیت فائنل ورڈ (final word) کی ہوتی ہے، اللہ کے سوا کسی اور کو یہ درجہ حاصل نہیں- اِس کا مطلب یہ ہے کہ مومن کا ذہن اُس طرزِ فکر سے بالکل خالی ہوتا ہے جس کو دورِ جاہلیت کے ایک شاعر عنترہ العبسی (وفات: 600ء) نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے کہ — شعرا نے پیوند لگانے کے بقدر بھی کوئی جگہ باقی نہیں چھوڑی:
ہل غَادَرَ الشعراءُ من مُتَرَدَّمِ
یعنی جو کچھ کہنے کی بات تھی، وہ سب کہی جا چکی ہے، اب اُس پر نقد یا اضافے کی کوئی گنجائش باقی نہیں- یہ ذہن آدمی کے اندر سے تخلیقیت (creativity) کو ختم کردیتا ہے- اِس کے فطری نتیجے کے طورپر ایسی سوچ رکھنے والے لوگ ذہنی جمود کا شکار ہوجاتے ہیں- مومن اِس قسم کی متعصبانہ سوچ سے مکمل طورپر خالی ہوتا ہے، اِس لیے اُس کے ذہن میں فکری ارتقا کا عمل کبھی نہیں رکتا، وہ زندگی کے آخری لمحے تک جاری رہتا ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔