عرب میں اسلام سے پہلے جو دور تھا، اُس کو جاہلیت کا دور کہا جاتا ہے- اِس دور میں عرب قبائل میں شعر وشاعری کا رواج تھا- عام طورپر لوگ شعر کی زبان میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے- یہ اشعار ابتداء ً مخطوطات کی شکل میں تھے- چھپائی کازمانہ آیا، تو اِن اشعار کے مجموعے کتابی شکل میں چھپ کر عام ہوگئے- مثال کے طورپر دیوان الحماسہ، جمہرةُ اشعار العرب، سبعہ معلّقہ کے شعرا کے دواوین، وغیرہ- اسلام کے ظہور کے بعد عرب میں شعر وشاعری کا زور ختم ہوگیا-
کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن فہمی کا اصل ذریعہ یہی کلام ِ عرب ہے- قرآن اِسی عربی زبان میں اترا تھا، اِس لیے قرآن کو سمجھنے کے لیے سب سے بڑا ذریعہ یہ ہے کہ دورِ جاہلیت کے شعرا کے کلام کو گہرائی کے ساتھ پڑھا جائے اور اِس سے عربی اسالیب کو سمجھا جائے، اِس کے بغیر قرآن کو سمجھنا ممکن نہیں- یہ لوگ اِس حد تک جاتے ہیں کہ پوری تاریخ میں کسی نے قرآن کو نہیں سمجھا، کیوں کہ انھوں نے عرب جاہلیت کے کلام کو بنیاد بنا کر قرآن کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی- یہ بلاشبہ ایک بے اصل بات ہے-
اِس نظریے کو درست ماننے کے لیے یہ فرض کرنا پڑے گا کہ نزولِ قرآن کے وقت وہ عربی زبان ختم ہوگئی تھی جس میں قرآن اتارا گیا تھا- اِس بنا پر دورِ اوّل کے جن لوگوں نے قرآن کی تفسیر کی، وہ اصل عربی زبان سے ناواقف ہوچکے تھے- یہ بات بداہةً غلط ہے- جیسا کہ معلوم ہے، دورِ اول میں جوتفسیریں لکھی گئیں، وہ احادیثِ رسول اور صحابہ وتابعین کے اقوال پر مبنی ہوتی تھیں- یہ سب لوگ وہ تھے جن کی مادری زبان وہی عربی تھی جس میں قرآن اتارا گیا- جس زبان کو آج کا کوئی عالم ، قدیم اشعارِ عرب کو پڑھ کر جانتا ہے، اس کو براہِ راست طورپر دورِ اول کے لوگ خود اُس ماحول سے جان لیتے تھے جس میں وہ پیدا ہوئے تھے- یہی عربی زبان ان کی مادری زبان تھی-
قرآن فہمی کے لیے کلامِ عرب کا مطالعہ جزئی طورپر درست ہے، مگر اس کو اساسی اہمیت کا درجہ دینا درست نہیں- اِس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ قرآن فہمی کے اصول کو خود قرآن سے اخذ کیا جائے، نہ کہ ذاتی مفروضات کے ذریعے- قرآن جس طرح اسلام کی تعلیمات کو جاننے کا ذریعہ ہے، اُسی طرح وہ اِس بات کو جاننے کا ذریعہ بھی ہے کہ قرآن کے لیے بنیادی طورپر کن چیزوں کی اہمیت ہے-
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ وہ عربی مبین (26:195) کی زبان میں اترا، دوسری طرف قرآن میں اس کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: بَلْ ہُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ (29:49)- قرآن کے اِن بیانات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن فہمی کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے —-لسانِ عرب اور لسانِ فطرت- قرآن کے طالب علم کو ایک طرف یہ کرنا ہے کہ وہ اُس عربی مبین سے واقف ہو جو رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں عربوں کے درمیان بولی اور سمجھی جاتی تھی، خاص طورپر قبیلہ قریش کی زبان- قرآن کسی لسانِ ماضی میں نہیں اترا، بلکہ وہ لسانِ حال میں اترا، اور یہ لسانِ حال عملاً وہی تھی جو خاص طور پر قریش کے درمیان رائج تھی- یہ عربی مبین قرآن وحدیث میں ممارست کی بنا پر اہلِ حجاز کے درمیان اب بھی عملاً موجود ہے-
اِس سلسلے میں دوسری چیز انسان کی وہ فطرت ہے جس پر اللہ نے اُس کو پیدا کیا ہے (30:30)- قرآن اپنے الفاظ کے اعتبار سے عربی زبان میں ہے، لیکن اپنے خطاب کے اعتبار سے، وہ انسان کی فطرت کو ایڈریس کرتاہے- اِس لیے قرآن فہمی کے لیے دوسری اہم ضرورت یہ ہے کہ قرآن کے طالبِ علم کے اندر فطرت شناسی کا مادہ موجود ہو- اس کے اندر یہ صلاحیت پائی جاتی ہو کہ وہ انسان کی فطرت، بہ الفاظ دیگر نفسیاتِ انسانی کو گہرائی کے ساتھ جانتا ہو- قرآن فہمی کے لیے یہ دونوں چیزیں یکساں طور پر ضروری ہیں-
قرآن کو اس کے گہرے معانی کے ساتھ سمجھنے کے لیے نہ تنہا عربی زبان کافی ہوسکتی ہے اور نہ تنہا فطرتِ انسانی سے واقفیت- عربی زبان سے واقفیت آدمی کے اندر متن شناسی کی صلاحیت پیدا کرتی ہے اور فطرتِ انسانی سے واقفیت آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتی ہے کہ وہ قرآن کے معانی تک رسائی حاصل کرسکے- فطرتِ انسانی سے واقفیت کے بغیر لسانی مہارت صرف ایک فنی مہارت ہے اور محض فنی مہارت قرآن فہمی کے لیے ہرگز کافی نہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔