← Al-Risala April 2014Al-Risala April 2014
مسلم سیرت نگار
Urdu · 7 min read
مولانا سید سلیمان ندوی (وفات: 1953) مشہور عالم اور مصنف تھے- ان کے صاحب زادے ڈاکٹر سید سلمان ندوی نے دارالعلوم ندوة العلما (لکھنؤ) میں اپنے والد کے بارے میں ایک تقریر کی- انھوں نے بتایا کہ مولانا سید سلیمان ندوی نے اپنے مرشد مولانا اشرف علی تھانوی کے نام ایک خط میں اپنے بارے میں لکھا تھاکہ: ’’یورپ کے مذہبی وعلمی حملوں کے مقابلے میں، اسلام کی خدمت کا ولولہ ہے، اور اب تک پچیس برس کا زمانہ اِنھیں مشاغل میں گزرا‘‘- (ماہ نامہ الفرقان، لکھنؤ، فروری 2010، صفحہ 37)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِن الفاظ میں جس ذہن کا بیان ہے، وہی ذہن موجودہ زمانے کے تمام مسلم علما کے اندر پایا جاتا ہے، عرب علما کے اندر بھی اور غیر علما کے اندر بھی-وہ یہ کہ موجودہ زمانے کے مسلم علما نے مغرب کو صرف اِس حیثیت سے جانا کہ وہ اسلام کے خلاف حملوں کا مرتکب ہے- حالاں کہ یہ تمام تر خود مسلم علما کی اپنی منفی سوچ کا نتیجہ تھا، وہ مغرب کی اسلام دشمنی کا نتیجہ نہ تھا-
مغربی قوتوں کی نسبت سے دوسرے دو اہم پہلو تھے جن سے مسلم علما بالکل بے خبر رہے- ایک یہ کہ مغربی لوگ بالفرض اگر اسلام یا مسلمانوں کے بارے میں مخالفانہ جذبات رکھتے ہوں، تب بھی ان کی حیثیت مدعو کی ہے- ہمارا فرض ہے کہ ہم مغربی قوموں کے مخالفانہ رویّے کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کو مثبت انداز میں اسلام کی دعوت پہنچائیں، اور انسانی خیر خواہی کے جذبے سے ان کی اصلاح کے طالب ہوں-
اِس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہمارے علما نے مغربی اقوام کو صرف نوآبادیاتی اقوام کے ہم معنی سمجھ لیا، حالاںکہ اِن اقوام کی ایک اور حیثیت تھی جو اِس سے بہت زیادہ اہمیت رکھتی تھی، وہ یہ کہ اِن مغربی اقوام نے تاریخ میں پہلی بار اُس علم کو پیدا کیا جس کو جدید سائنس کہاجاتا ہے- جدید طبیعی سائنس اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے عین وہی چیز تھی جس کو قرآن میں آفاق وانفس (41:53) کی آیات کا ظہور بتایا گیا ہے- یہ آیتیں (signs) اسلامی دعوت کے حق میں عظیم تائید کے ہم معنی تھیں، مگر علما نے اِن آیتوں (نشانیوں) کو نہ تو سمجھا اور نہ ان کو اسلامی دعوت کے حق میں استعمال کیا-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پرنٹنگ پریس کے زمانے میں مسلم سیرت نگاروں نے کثرت سے سیرت پر کتابیں لکھیں ہیں- یہ کتابیں مختلف زبانوں میں شائع ہوئی ہیں- لیکن ان کا جائزہ لیجئے تو غالباً سیرت کے موضوع پر کوئی ایک قابلِ ذکر کتاب ایسی نہیں ہے جس میں پیغمبر کی داعیانہ حیثیت کو بنیادی حیثیت سے نمایاں کیاگیا ہو- جس میں رسول اللہ کے اسوۂ دعوت کو اصل حیثیت دے کر بیان کیاگیا ہو- یہ ایک ایسی کمی ہے جو موجودہ زمانے کے تمام مسلم سیرت نگاروں کے یہاں پائی جاتی ہے- اس کا سبب بظاہر یہ ہے کہ ان سیرت نگاروں نے سیرت رسول کا مطالعہ اس نقطۂ نظر سے نہیں کیا کہ وہ آپ کے اصل داعیانہ منصب کو اجاگر کریں-
اِسی معاملے کو میں نے اپنے ایک تجربے سے سمجھا ہے- میں1964-66 کے دوران لکھنؤمیں تھا- میرا معمول تھا کہ میں روزانہ شام کو آچاریہ نریندر دیو لائبریری جاتا جو وہاں گومتی ندی کے کنارے واقع تھی- اس لائبریری کی اوپری منزل پر ایک ہال تھا- اس میں بہت سی میزیں تھیں- ان میزوں کے اوپر انگلش اور ہندی کے تمام اخبارات رکھے جاتے تھے- میں دیکھتا تھا کہ نوجوان لڑکے بڑی تعداد میں وہاں آتے اور دیر تک اخباروں کو الٹ پلٹ کردیکھتے- میں نے ایک روز اُن میں سے بعض لڑکوں سے گفتگو کی اور ملک کے سیاسی حالات پر اُن کا نقطہ نظر جاننا چاہا، مگر معلوم ہواکہ وہ سیاسی یا نیشنل موضوعات سے بے خبر تھے- ان موضوعات پر وہ اپنی کوئی رائے نہ دے سکے-مزید تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ یہ نوجوان حقیقةً اخبار پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ اخبار میں جاب کے اشتہارات پڑھنے کے لئے آتے ہیں- چناںچہ وہ اخبارات میں امپلائمنٹ کالم (employment column) کو دیکھتے ہیں اور پھر واپس چلے جاتے ہیں-
تقریباً یہی حال مسلم سیرت نگاروں کا ہے- وہ جس ذہن(mindset) کو لے کر سیرت کی کتابیں پڑھتے ہیں، وہ اصلاً دعوت کا ذہن نہیں ہوتا- اس لئے انھیں اپنے ذہن کے مطابق زیادہ تر دوسری چیزیں ملتی ہیں اور اس کو وہ نمایاں طورپر بیان کرتے ہیں- مثلاً مصر کے حسین ہیکل کے ذہن پرمستشرقین کی باتوں کا غلبہ تھا چنانچہ سیرت کے موضوع پر ان کی عربی کتاب ’حیات محمد‘ کا تقریباً نصف حصہ مستشرقین کے جوابات پر مشتمل ہے-
تقریباً یہی معاملہ دوسرے مسلم سیرت نگاروں کا ہے- جنھوں نے فخر کی نفسیات کے تحت سیرت کا مطالعہ کیا، انھوں نے سیرت کو فخر کے انداز میں بیان کیا- جو مولفین سیاسی ذہن کے مالک تھے، انھوں نے سیرت کو سیاست وحکومت کے نمونہ (pattern) پر ڈھال دیا- جو لوگ فقہی مسائل کو اہمیت دیتے تھے، انھوں نے رسول اللہ کی سیرت کو ایک قسم کی فقہی سیرت بنا دیا- جو لوگ کرامات اور معجزات کا مزاج رکھتے تھے، انھوں نے سیرت رسول کو اس طرح مرتب کیا کہ سیرت کی کتاب کرامات اور معجزات کا مجموعہ بن گئی- جہاں تک دعوت کا سوال ہے ،وہ جزئی طورپر نسبتاً غیر اہم انداز میں ضرور موجود ہے، لیکن اس طرح نہیں کہ قاری جب سیرت کی کتاب کو پڑھ کر ختم کرے تو اس کے اندر یہ سوچ پیدا ہوجائے کہ میرے لیےپیغمبر اسلام کی پیروی کا سب سے بڑا خارجی میدان یہ ہے کہ میں آپ کے پیغام کو تمام انسانوں تک پہنچاؤں- دوسری قوموں کو مدعو سمجھوں اور ان کے خلاف شکایتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے ساتھ پوری خیر خواہی کرتے ہوئے پیغام رسانی کا کام انجام دوں-
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ڈاکٹر سید سلمان ندوی کی معلوماتی تقریر میں جو باتیں کہی گئی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ مولانا شبلی نعمانی (وفات: 1914) نے اپنے مرض الموت کے آخری دنوں میں اپنے شاگرد مولانا سیدسلیمان ندوی کو بلایا اور اُن سے کہا کہ ’’سیرت میری تمام عمر کی کمائی ہے- سب کام چھوڑ کر سیرت تیار کرو-‘‘ (صفحہ 28)- مولانا شبلی نعمانی کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے جو عقیدت تھی، اس کا اظہار ان کی کتاب ’’سیرت النبی‘‘ میں سرنامہ کے اِن الفاظ سے ہوتا ہے: ایک گدائے بے نوا شہنشاہِ کونین کے دربار میں اخلاص وعقیدت کی نذر لے کر آیا ہے: زچشمم آستیں بردار وگوہر را تماشا کن!
unverifiedAttribution could not be verified automatically
مولانا سید سلیمان ند وی نے اپنی کتاب ’’حیاتِ شبلی‘‘ میں استاذ کے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ’’انھوں نے اپنی زندگی میں اور اپنی زندگی کے بعد بھی بہ شکلِ وصیت اس کو (مجھ کو) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سرکارِ اقدس میں، جہاں وہ سب سے آخر میں پہنچے تھے، سب سے اول پہنچایا‘‘(صفحہ 28)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
مولانا شبلی نعمانی اور مولانا سید سلیمان ندوی دونوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت تھی- دونوں نے سیرتِ رسول کے موضوع پر اپنی زندگیاں وقف کردیں، لیکن عجیب بات ہے کہ دونوں میں سے کسی نے بھی اِس حقیقت کو نہیں سمجھا کہ رسول اللہ کی اصل حیثیت یہ تھی کہ وہ اللہ کا پیغام پہنچانے والے تھے- وہ تمام انسانیت کے لیے بشیر و نذیر تھے- رسول اللہ کے ساتھ محبت کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ رسول اللہ کی سنتِ دعوت کو زندہ کیا جائے، لیکن مولانا شبلی نعمانی اور مولانا سید سلیمان ندوی دونوں جذبۂـ محبت کے باوجود جذبۂ دعوت سے خالی رہے-
یہی دوسرے مسلم علما اور مسلم رہنماؤں کا حال ہے- وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کی حد تک تعلق کا اظہار کرتے ہیں، لیکن ہر ایک کا یہ حال ہوا کہ وہ اِس بات سے بے خبر رہا کہ رسول اللہ سے تعلق کا اصل تقاضا کیا ہے، وہ بلا شبہہ یہی ہے کہ رسول اللہ کی سنت ِ دعوت کو زندہ کیا جائے اور ہر دور کے انسانوںکو اس کا مخاطب بنایا جائے-رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کا لازمی تقاضہ یہ ہے کہ رسول اللہ کے دعوتی مشن کو ہر دور میں زندہ رکھا جائے- یہی دعوتی فریضہ ہے جس کو نہ مسلم سیرت نگاروں نے سمجھا اور نہ اُس کے لیے کوئی کام کیا-