Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala April 2012
Al-Risala April 2012

امن اور ترقی

Urdu · 2 min read

فروری 2012 میں اسلام آباد (پاکستان) کے ایک معروف عالم انڈیا آئے۔ انھوں نے انڈیا کے مختلف شہروں کا سفر کیا۔ اِن سفروں کے دوران اُن کو یہ موقع ملا کہ وہ انڈیا کے مسلمانوں کے حالات قریب سے دیکھ سکیں۔ دہلی میں 7 فروری 2012 کو اُن سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے تعجب کے انداز میں کہا کہ— انڈیا میں بہت زیادہ امن پایا جاتا ہے، اور انڈیا کے مسلمان کافی ترقی کررہے ہیں۔ مذکورہ عالم کے لیے یہ بات خلافِ توقع تھی، کیوں کہ پاکستانی میڈیا کے ذریعے انھوں نے یہ سمجھا تھا کہ انڈیا کے مسلمان ہر اعتبار سے تباہی کا شکار ہیں، انڈیا کے مسلمانوں کو نہ آزادی حاصل ہے اور نہ وہ یہاں ترقی کرسکتے ہیں، وغیرہ۔

حقیقت یہ ہے کہ ترقی کا تعلق اِس سے نہیں ہے کہ مسلمانوں کا علاحدہ بلاک بنایا جائے۔ یا نظامِ مصطفی کے نام پر ہنگامہ خیز تحریکیں چلائی جائیں۔ اِس قسم کی تحریکیں ترقی کے لیے بالکل غیر متعلق ہیں۔ ترقی کے لیے صرف دو چیزوں کی ضرورت ہے — امن اور آزادی۔ یہ دونوں چیزیں انڈیا میں پوری طرح موجودہیں۔ یہی وہ چیزیں ہیں جس نے انڈیا کے مسلمانوں کو یہ موقع دیا کہ وہ یہاں ترقی کرسکیں۔

ترقی ہمیشہ معتدل حالات میں ہوتی ہے۔ اِسی معتدل حالت کو امن کہا جاتا ہے۔ امن کے حصول کا راز ایک لفظ میں، اسٹیٹس کو ازم (statusquoism) ہے۔ جو لوگ ترقی چاہتے ہوں، اُن کو یہ کرنا چاہئے کہ وہ نام نہاد انقلابی تحریکوں کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ وہ موجود صورتِ حال (statusquo) کو علی حالہ مان لیں۔ وہ موجود امکانات کو پر امن طورپر استعمال کریں اور بقیہ تمام چیزوں کو مستقبل کے خانے میں ڈال دیں۔اِسی تعمیری طریقے کا نام دانش مندانہ منصوبہ بندی ہے۔ اِس دنیا میں کوئی نتیجہ خیز کام صرف دانش مندانہ منصوبہ کے ذریعے انجام پاتاہے، نہ کہ جذباتی ہنگامہ آرائی کے ذریعے۔ جذباتی ہنگامہ آرائی صرف نقصان میں اضافہ کرتی ہے، وہ کسی مفید نتیجے تک پہنچنے والی نہیں — یہ واقعہ اہلِ کشمیر کے لیے ایک رہنما سبق کی حیثیت رکھتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.