6 فروری 2012 کو پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اسلام آباد میں ایک بیان دیا۔ یہ بیان پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا دونوں میں عمومی طورپر رپورٹ کیا گیا۔ اِس بیان میں انھوںنے کہا تھا کہ ’’کشمیر کے لیے پاکستان اب مزید جنگ کا تحمل نہیں کرسکتا۔ انھوں نے کہا کہ اِس سے پہلے کشمیر کے لیے ہم نے انڈیا سے چار مرتبہ (1948, 1965, 1971, 1999) جنگ کی ہے، لیکن اِس جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ کشمیر کا مسئلہ صرف بات چیت کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔‘‘
وزیر اعظم پاکستان کا یہ بیان ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی کے ہم معنی ہے۔ جنگ کرنا پاکستان کی پہلی غلطی تھی۔ دوسری غلطی یہ ہے کہ باہمی تعلقات کو آخری حد تک بگاڑ کر بات چیت کی پیش کش کی جائے۔ جنگ کسی سادہ واقعے کا نام نہیں۔ جنگ انتہائی قسم کا وہ منفی اقدام ہے جس کا نتیجہ ہمیشہ یہ ہوتاہے کہ فریقِ ثانی کے اندر نفرت اور دوری کے جذبات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ جو علاقہ پہلے صرف ایک جغرافی علاقے کی حیثیت رکھتا تھا، وہ اب اُس کے لیے وقار کا سوال (prestige issue) بن جاتا ہے، اور جب جنگ کا انجام یک طرفہ شکست کی صورت میں نکلے تو اس کے بعد فاتح فریق کے اندر اپنے موقف کی صداقت پر یقین بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
ماضی کی ناکام لڑائیوں کے یہ نتائج اب پوری طرح واقعہ بن چکے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ سے پہلے جو معتدل فضا پائی جاتی تھی، وہ اب پوری طرح برباد ہوچکی ہے۔ ایسی حالت میں یہ امکان ختم ہوچکا ہے کہ میز کی بات چیت (negotiation) کا کوئی مفید نتیجہ برآمدہو۔ بات چیت کے لیے معتدل فضا لازمی طورپر ضروری ہے، جب کہ دونوں ملکوں کے درمیان یہ معتدل فضا اب موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اب خود اپنی نادانیوں کے نتیجے میں پاکستان کے لیے بات چیت کا انتخاب (choice) سرے سے باقی نہیں رہا۔ اب پاکستان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ کشمیر کو فراموشی کے خانے میں ڈال دے۔ وہ کشمیر کے بغیر پاکستان کی تعمیر کی منصوبہ بندی کرے، وہ ملے ہوئے کی بنیاد پر پاکستان کی ترقی کی عمارت کھڑی کرے۔ پاکستان کے لیے یہی واحد دانش مندی کا طریقہ ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔