Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala April 2012
Al-Risala April 2012

ٹکراؤ سے اعتراف ِ حقیقت تک

Urdu · 3 min read

میڈیا میں دو خبریں ایک ساتھ آئی ہیں— ایک، یہ کہ پاکستانی لیڈر شپ نے کشمیر کے اِشو کو وقتی طور پر ختم کردیا ہے۔ یہ خبر نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (27 فروری 2012 ) میں اِس عنوان کے تحت چھپی ہے— پاکستان، کشمیر کے اشو کو وقتی طورپر ردّی اشیا کے خانے میں ڈال سکتا ہے:

Pakistan may junk Kashmir issue temporarily

دوسری خبر کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کا خفیہ رہائشی کمپاؤنڈ واقع تھا۔ 3 مئی 2011 کو امریکا نے ایک ٹارگیٹڈ اٹیک (targetted attack) کے ذریعے وہاں اسامہ بن لادن کو ہلاک کردیا۔ اب خبر ہے کہ خود پاکستانی حکومت نے اسامہ بن لادن کے اِس رہائشی کمپاؤنڈ کو 25 فروری 2012 کو رات کے اندھیرے میں ڈھا دیا۔ اُس کا ملبہ وہاں سے دور پھینک دیاہے۔ اِس واقعے کی تصویر ٹائمس آف انڈیا (27 فروری 2012 ) کے صفحہ 18پر شائع ہوئی ہے۔

اِن دونوں خبروں کا خلاصہ صرف ایک ہے، وہ یہ کہ کشمیر میں جہاد کے نام سے جو متشددانہ جدوجہد شروع کی گئی تھی، وہ اب اپنے فطری انجام کو پہنچ کر ختم ہوگئی ہے، مذکورہ خبر میں ’’وقتی طورپر‘‘ (for the time being) کا لفظ محض ڈپلومیٹک ہے۔ اپنے اصل مفہوم کے اعتبار سے، اُس کا مطلب صرف یہ ہے کہ پاکستان نے اب ہمیشہ کے لیے اِس بے نتیجہ اشو کو ترک کردیا ہے، یہاں تک کہ اب اس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان میں متشددانہ جدوجہد کی علامتوں تک کو مٹا دیا جائے۔ اِس کی ایک مثال پاکستان میں اسامہ بن لادن کی رہائش گاہ کی مسماری ہے۔

کشمیر کی نام نہاد جنگ، کشمیریوں کی اپنی آواز نہ تھی، وہ مکمل طورپر پاکستان کی برآمد کردہ جنگ (exported war) تھی۔ پاکستان نے اب حالات کی مجبوری کے تحت اُس کا خاتمہ کردیا ہے۔ ایسی حالت میں اب کشمیر کی نام نہاد جنگ کو جاری رکھنے کا نہ کوئی جواز ہے اور نہ کوئی امکان۔ اب اہلِ کشمیر کے لیے متعدد انتخابات (options) نہیں رہے۔ اب اُن کے لیے ایک ہی ممکن انتخاب ہے، یہ کہ وہ ہتھیار اور ہتھیار کی سیاست دونوں کا مکمل خاتمہ کردیں، اور پُرامن جدوجہد کے ذریعے اپنے مستقبل کی تعمیر کریں۔

اجتماعی زندگی میں اقدام کی دو صورتیں ہوتی ہیں— ایک، یہ صورت کہ وہ اپنے مطلوب انجام تک پہنچے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اپنے انجام کے اعتبار سے، کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) ثابت ہو، یعنی الٹا نتیجہ برآمد کرنے والا۔ پاکستان کی طرف سے چھیڑی ہوئی کشمیری جنگ کا یہی دوسرا انجام ہوا ہے۔ اِس جنگ میں پاکستان نے بہت زیادہ کھویا، لیکن وہ اپنے مطلوب کو نہ پاسکا۔

پاکستان کے لیے یہ ایک حقیقت پسندانہ فیصلہ ہے کہ وہ اس تباہ کُن جنگ سے اپنے آپ کو الگ کررہا ہے، مگر اہلِ پاکستان کے لیے زیادہ بڑا مسئلہ تصحیحِ فکر کا ہے، یعنی منفی سوچ کو چھوڑ کر مثبت سوچ کو اختیار کرنا۔ اِس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کھلے طورپر یہ اعلان کرے کہ کشمیر کی جنگ چھیڑنا ہماری ایک مہلک غلطی تھی۔ غلطی کے کھلے اعلان کے بغیر پاکستان کو اس کا کوئی حقیقی فائدہ ملنے والا نہیں۔ غلطی کے اعلان کا فائدہ یہ ہوگا کہ پاکستان میں ایک نئی مثبت سوچ (positive thinking) کا آغاز ہوجائے گا۔ پاکستان کے لوگ اِس معاملے میں اپنی منفی نفسیات کی بنا پر غیر حقیقت پسندانہ سوچ کا شکار ہوگئے۔ اِس طرح کا اعلان اُن کو ایک نئی رہنمائی دے گا۔ وہ مثبت سوچ میں جینے لگیں گے۔ اُن کی قومی پالیسی جواب تک غیر حقیقت پسندانہ طرز فکر پر کھڑی ہوئی تھی، وہ حقیقت پسندانہ طرز فکر پر قائم ہوجائے گی۔ یہ واقعہ پاکستان اور اس کے حلیفوں کے لیے بلا شبہہ ایک انقلابی واقعہ ہوگا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.