پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینہ میں خلافت کے سوال پر مہاجرین اور انصار کے درمیان اختلاف پیدا ہوا۔ انصار کا یہ کہنا تھا کہ: منا أمیر، ومنکم أمیر(ایک امیر مہاجرین میں سے اور ایک امیر انصار میں سے)۔ آخر کار حضرت عمر کے اس قول پر فیصلہ ہوا : نحن الأمراء، وأنتم الوزراء (مہاجرین میں سے امیر ہوں اور انصار میں سے وزیر)۔ لیکن بعد کو اِس وعدے پر عمل نہ ہوسکا۔ حضرت عمر فاروق نے اپنے آخری زمانے میں کہا کہ — ہم نے انصار سے وعدہ کیا تھا کہ ہم خلافت کے کام میں انصار کو وزیر بنائیں گے، لیکن ہم ایسا نہ کرسکے: واللہ ما وفینا لہم، کما عاہدناہم علیہ (مسند البزّار، رقم الحدیث: 281)یہ وعدہ خلافی کی بات نہ تھی، بلکہ وہ اجتماعی حکمت کی بات تھی۔ اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ جب کوئی وعدہ کیا جائے تو اُس کو پورا کیا جائے، مگر یہ حکم انفرادی معاملات کے لیے ہے۔ انفرادی معاملات میں ایک فرد کو یہ اختیار ہوتاہے کہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر اپنے وعدے کو پورا کرسکے، اِس لیے فرد کے اوپر یہ لازم ہے کہ جب وہ کسی سے وعدہ کرلے تو وہ اُس کو ہر حال میں پورا کرے، وہ کسی بھی عذر کی بنا پر اپنے وعدے کے خلاف عمل نہ کرے۔
مگر اجتماعی زندگی کا معاملہ اِس سے مختلف ہے۔ جو وعدہ سیاسی اور اجتماعی زندگی سے تعلق رکھتاہو، وہ عام معنوں میں ایک وعدہ نہیں ہوتا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، چوں کہ اجتماعی حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے، مختلف قسم کے تقاضے اُس کے اوپر فیصلہ کن طور پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں، اِس لیے اِس قسم کے وعدے کبھی حتمی نہیں ہوتے، وہ حالات کے اعتبار سے بدلتے رہتے ہیں۔ اجتماعی وعدوں کے معاملے میں طرفین کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ حالات کے تقاضے کو سمجھیں۔ وہ ابتدائی الفاظ پر اصرار کرنے کے بجائے بعد کے پیدا شدہ حالات سے مطابقت پر راضی ہوجائیں— اجتماعی زندگی کے معاملات کبھی آئڈیل وزڈم (ideal wisdom) پرطے نہیں ہوتے، وہ ہمیشہ پریکٹکل وزڈم (practical wisdom) پر طے ہوتے ہیں۔ یہی اسلام کا تقاضا ہے، اور یہی عقل کا تقاضا بھی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔