نزاعی امور میں کبھی غیر اصولی موقف اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ ایسا موقف ہمیشہ کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہوتا ہے، یعنی الٹا نتیجہ پیدا کرنے والا۔
اِس معاملے کی ایک تازہ مثال پاکستان ہے۔ پاکستان نے انڈیا کے خلاف ’’لڑائی‘‘ میں ایک غیر اصولی موقف اختیار کیا۔ انھوں نے غیر حکومتی تنظیموں کو ہتھیار دیا اور ان کی فوجی تربیت کی، تاکہ وہ انڈیا کے خلاف پراکسی وار (proxy war) لڑسکیں۔ یہ کام پاکستان میں بہت بڑے پیمانے پر کیا گیا۔پاکستان کے تمام لوگ اِس واقعے کو جانتے تھے، مگر میرے علم کے مطابق، پاکستان کے کسی بھی شخص یا جماعت نے بالاعلان اس کی مذمت نہیں کی۔ کسی نے بھی اِس معاملے میں نہی عن المنکر کا فریضہ انجام نہیں دیا۔ اب 60 برس سے زیادہ مدت گزرنے کے بعد یہ پالیسی خود پاکستان کے لیے تباہ کن ثابت ہورہی ہے۔اِس تباہی کی خبریں روزانہ میڈیا میں آرہی ہیں۔
یہ طریقہ سراسر اصول کے خلاف تھا۔ مسلمہ اصول کے مطابق، ہتھیار کااستعمال صرف ایک قائم شدہ حکومت کے لے جائز ہے۔ غیر حکومتی تنظیموں (NGOs) کے لیے کسی بھی عذر کی بنا پر ہتھیار اٹھانا ہر گز جائز نہیں۔ غیر حکومتی تنظیموں کے لیے صرف دو میں سے ایک کا اختیار حاصل ہے، یا تووہ کامل طورپر امن کے دائرے میں اپنی کوشش انجام دیں، یا پھر وہ خاموشی کا طریقہ اختیار کرلیں۔ اِس کے بجائے، ہتھیار اٹھانا یا تشدد کرنا اُن کے لیے تھرڈ آپشن (third option) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور اِس معاملے میں تھرڈ آپشن لینا اپنے آپ میں ایک جرم ہے، وہ ہرگز کوئی اصلاحی اقدام نہیں۔
آدمی کو چاہیے کہ اجتماعی زندگی میں جب بھی وہ کوئی اقدام کرے تو وہ عقلی طورپر جائز اقدام (rationally justified action) ہو۔اجتماعی زندگی میں اقدام کا معاملہ بے حد نازک ہوتا ہے۔ اِس معاملے میں آدمی کو چاہئے کہ وہ جائز اقدام کرے اور اگر جائز اقدام ممکن نہ ہو تو وہ عملاً معاملے سے الگ رہ کراس کی اصلاح کے لئے اللہ سے دعا کرے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.