قرآن کی سورہ الانعام میں اللہ کے عذاب کی ایک صورت یہ بتائی گئی ہے کہ اللہ لوگوں کو دو گروہوں میں بانٹ دے اور یہ دونوں گروہ باہم ایک دوسرے کے خلاف خونیں لڑائی اور خونیں جنگ شروع کردیں۔ چناں چہ فرمایا کہ: أویلبسکم شیعا ویُذیق بعضکم بأس بعض(6: 65) یہ بلاشبہہ عذاب کی نہایت بری صورت ہے، کیوں کہ یہ عذاب بھی ہے اور اِسی کے ساتھ ذلت بھی۔
قرآن کی اِس آیت میں جس عذاب کا ذکر ہے، اُس کا تعلق صرف غیر مسلموںسے نہیں، بلکہ اُس کا تعلق خود مسلمانوں سے بھی ہے۔ یہ بات مختلف احادیث سے ثابت ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو انتباہ دیتے ہوئے فرمایاتھا: لا ترجعوا بعدی کفّاراً، یضرب بعضُکم رِقابَ بعض (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1739) یعنی میرے بعد تم لوگ دوبارہ کافر نہ ہوجانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔اِسی طرح آپ نے فرمایا کہ: مَن حمل علینا السلاح، فلیس منا (صحیح البخاری، رقم الحدیث:6874 ) یعنی جو شخص ہمارے اوپر ہتھیار اٹھائے، وہ ہم میں سے نہیں۔ نیز فرمایا کہ: سباب المسلم فسوقٌ وقتالہ کُفرٌ (صحیح البخاری، رقم الحدیث:6044) یعنی مسلمان پر سب وشتم کرنا فسق ہے اور اُس سے جنگ کرنا کفر ہے۔ قرآن میں یہاں تک آیا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے، ا س کی سزا جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور اُس پر اللہ کا غضب اور اللہ کی لعنت ہے۔ اور اللہ نے اُس کے لیے بڑا عذاب تیار کررکھا ہے (4: 93) ۔
موجودہ زمانے میں مسلم ملکوں میں جو باہمی لڑائیاں ہو رہی ہیں، وہ بلاشبہہ اِن آیتوں اور حدیثوں کا مصداق ہیں۔ اِن لڑائیوں میں مسلمان دو طبقے میں بٹ گئے ہیں— ایک، حکمراں طبقہ اور دوسرا، غیر حکمراں طبقہ۔ دونوں ایک دوسرے کے خلاف خونیں لڑائی لڑ رہے ہیں۔ یہ باہمی لڑائیاں بلاشبہہ فعلِ حرام کا درجہ رکھتی ہیں۔ یہ واقعہ اِن مسلمانوں کے لیے دنیا میں ذلت کا سبب ہے اور آخرت میں عذاب کا سبب۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔