Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Al-Risala April 2012
Al-Risala April 2012

امت ِ مسلمہ کا المیہ

Urdu · 5 min read

حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إنما أخاف علی أمتی الأئمۃَ المُضِلِّین، وإذا وُضع السیف فی أمتی، لم یُرفع عنہم إلی یوم القیامۃ (سنن أبی داؤد، رقم الحدیث :5427 ) یعنی میںاپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ گم راہ کن لیڈروں سے ڈرتا ہوں، اور جب میری امت کے اندر تلوار داخل ہوگی تو اس کے بعد وہ قیامت تک اُس سے اٹھائی نہ جائے گی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تاریخ بتاتی ہے کہ امتِ محمدی کے اندر یہ تلوار حضرت عثمان کی خلافت کے زمانے میں داخل ہوئی۔ یہ معاملہ گمراہ کن لیڈروں کے ذریعہ پیش آیا اور عملاً وہ آج تک مختلف صورتوں میں جاری ہے۔ اصل یہ ہے کہ اسلام کا اصل ماڈل دعوتی ماڈل ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں یہی ماڈل امت کے درمیان جاری رہا۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد اس میں تبدیلی آئی۔ اب امت کے اندر غیردعوتی ماڈل رائج ہوگیا۔

دعوتی ماڈل پر امن مشن کا ماڈل ہے۔ اِس ماڈل میں مثبت سوچ ہوتی ہے، تعمیری سرگرمیاں ہوتی ہیں، تمام سرگرمیاں دعوت کے مرکزی تصور کے تحت تشکیل پاتی ہیں، ٹکراؤ کے بجائے مصالحت کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ دشمن کو دوست بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، اختلاف کوگفت وشنید (negotiation) کے ذریعے حل کیا جاتا ہے، وغیرہ۔

غیر دعوتی ماڈل کا معاملہ اِس سے مختلف ہے۔ اس میں نفرت اور تشدد اور ٹکراؤ جیسی چیزیں فروغ پاتی ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد امت میں غیر دعوتی ماڈل رائج ہوگیا۔ اس کے بعد امت کے اندر کوئی ایسی طاقت ور شخصیت نہیں ابھری جو غیر دعوتی ماڈل کو ختم کرے اور امت کے اندر دوبارہ دعوتی ماڈل کو رائج کرے۔ یہی امتِ مسلمہ کا اصل المیہ ہے۔ ضرورت ہے کہ اِس المیہ کو دورکرکے امت کو دوبارہ دعوتی ماڈل پر لایاجائے۔ اِس کے بغیر امت کا کوئی مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔

امتِ مسلمہ کے اندر تلوار کا داخل ہونا کیا ہے۔ یہ دراصل تاریخی اسباب کے تحت پیش آنے والا ایک واقعہ ہے۔ اسلام کے ابتدائی تیرہ سالہ دور کو مکی دور کہاجاتا ہے۔ اِس دور میں اسلام کا جو ماڈل بنا، وہ پوزیشن آف ماڈسٹی (position of modesty) پرمبنی ایک ماڈل تھا۔

مدنی دور کے بعد، اسلامی تاریخ کا جو دور آیا، وہ تقریباً ہزار سال تک جاری رہا۔ اِسی بعد کے دور میں، اسلام کا کتب خانہ وجود میں آیا۔ وہ چیز جس کو مسلم فکر کہا جاتا ہے، وہ تمام تر اِس بعد کے دور میں بنا جو کہ پوزیشن آف اسٹرینتھ (position of strength) کا دور تھا۔

مکی دور میں جو حالات تھے، اس کے مطابق، اُس زمانے کا مسلم فکر تمام تر صبر پر مبنی تھا۔ اُس زمانے کے مسلمان، اپنے حالات کے مطابق، امن کی اصطلاحوں میں سوچتے تھے، نہ کہ جنگ کی اصطلاحوں میں۔ اُس زمانے میں، مسلمانوں کے اندر دعوت کا چرچا تھا، نہ کہ جہاد کا چرچا۔ اُس زمانے کے مسلمان ترغیب (persuasion) میں یقین رکھتے تھے، نہ کہ نفاذ (implementation) میں۔ اُس زمانے کے مسلمان دوسروں کو مدعو کی نظر سے دیکھتے تھے، نہ کہ حریف (rival) کی نظر سے۔

اِس قسم کی صفات کے نتیجے میںاُس زمانے کے مسلمانوں کے اندر جو ذہن بنا، وہ تمام تر داعیانہ ذہن تھا۔ سیکولر اصطلاح میں، اِس ذہن کو ایک غیر سیاسی ذہن (non-political mind) کہاجاسکتا ہے۔ اِس کے برعکس، پوزیشن آف اسٹرنتھ کے دور میں جو ذہن بنا، وہ ہر اعتبار سے، مذکورہ ذہن سے مختلف تھا۔ بعد کے دور میں جو اسلامی لٹریچر تیار ہوا، اس میں صبر کو منسوخ سمجھ لیاگیا۔ تالیفِ قلب ایک غیر ضروری روش قرار پائی۔ اب غیر مسلموں کے لیے ’’کفار‘‘ کی اصطلاح استعمال ہونے لگی۔ مسلمان یہ سمجھنے لگے کہ مسلم علاقہ دارالاسلام ہے اور غیر مسلم علاقہ دار الکفر یا دار الحرب۔ اب یہ ذہن بن گیا کہ ہم کو پُرامن دعوت دینے کی ضرورت نہیں، حاکمانہ طاقت کے زور پر ہم، لوگوں سے اپنی بات منوا سکتے ہیں۔ اب یہ سمجھا جانے لگا کہ مسلمان خیرامت ہیں اور دوسرے لوگ کافرانہ امت۔اِسی دور میں ایک عرب شاعر نے مسلم دبدبے کو اِن الفاظ میں بیان کیا تھا کہ — جہاں دوسرے لوگ ایک فوج بھیجتے ہیں، وہاں ہم صرف ایک خط بھیج دیتے ہیں:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

إذا ما أرسل الأمراء جیشاً إلی الأعداء، أرسلنا الکتابا

ہزار سالہ اقتدار کے دور میں یہی چیزیں مسلمانوں کے ذہن کی تشکیل کرتی رہیں۔ یہ فکر نسل در نسل چلتا رہا، یہاں تک کہ پوزیشن آف اسٹرنتھ کے تصور کے تحت پوری امتِ مسلمہ کی کنڈیشننگ ہوگئی۔ تمام دنیا کے مسلمان اِسی انداز پر سوچنے لگے۔ کسی اور انداز پر سوچنا ان کے لیے ناممکن ہوگیا۔

اٹھارھویں صدی کے خاتمے کے ساتھ مسلم امت کے لیے پوزیشن آف اسٹرنتھ کا دور ختم ہو گیا۔ اب ساری دنیا میں مسلم ایمپائر کے بجائے، مغربی ایمپائر قائم ہوگیا۔ مسلم تہذیب کی جگہ مغربی تہذیب کو ساری مسلم دنیا میں غلبہ حاصل ہوگیا۔ مسلمانوں کی شوکت ختم ہوگئی اور غیر مسلموں کی شوکت ہر جگہ قائم ہوگئی۔ یہ وقت مسلم رہنماؤں کے لیے سخت امتحان کا وقت تھا۔ مسلم رہنماؤں کو چاہیے تھا کہ وہ تاریخ کے فیصلے کو سمجھیں اور مسلمانوں کو مشورہ دیں کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ تم مکی ماڈل کی طرف لوٹو، یعنی پوزیشن آف ماڈسٹی کے ماڈل کی طرف۔ لیکن مسلم رہنماؤں نے اِس کے برعکس، یہ کیا کہ انھوں نے ’’تحفظِ ملت‘‘ کے نام پر مسلمانوں کو ابھارا کہ وہ پوزیشن آف اسٹرنتھ کی حالت کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے مفروضہ ظالموں کے خلاف جنگ چھیڑ دیں۔ مسلمانوں کے اندر یہ غیر دانش مندانہ جنگ تقریباً دو سو سال سے جاری ہے— اب آخری وقت آگیا ہے کہ مسلمان اپنی اِس تباہ کُن روش کو بدلیں۔ وہ حقائق کی بنیاد پر اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کریں۔ اِس کے سوا، کوئی بھی دوسرا راستہ اُن کو کامیابی تک پہنچانے والا نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content