Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Al-Risala April 2012
Al-Risala April 2012

امتِ مسلمہ کے مسائل اور اُن کاحل

Urdu · 6 min read

جولائی 2011 میں ایک عرب ملک میں ایک عالمی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اِس کانفرنس میں 76 ملکوں کے 222 نمائندے شریک ہوئے۔ کانفرنس کے شرکا میں مسلم علما کے علاوہ، عرب ملکوں کے اعلیٰ ذمے داران بھی شریک ہوئے۔ اِس کانفرنس کا عنوان یہ تھا — عالمِ اسلام: دشواریاں اور حل:

العالم الإسلامی: المشکلات والحلول (The Muslim World: Issues and Solutions)

کانفرنس کے شرکا نے اپنے مقالات میں جو باتیں کہیں، رپورٹ کے مطابق، اس کا خلاصہ یہ تھا:

ایک صاحب نے اپنے مقالے میں امتِ مسلمہ میں فرقہ وارانہ اختلافات کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ مسئلہ بہت زیادہ سنگین ہے، کیوں کہ اَعدائِ اسلام کی طرف سے اِس کا استحصال کیا جارہا ہے۔ اِسی طرح مسلم حکومتوں سے درخواست کی گئی کہ سیاسی اختلافات کے لیے مذہب کو آلۂ کار نہ بنایا جائے۔ اِسی طرح ایک صاحب نے کہا کہ مسلمانوں میں امت ہونے کا تصور ختم ہوگیا ہے اور مسلمانوں نے علاقائیت کو اختیار کرلیا ہے، حالاں کہ مسلمانوں کے لیے باہمی رشتے کی بنیاد دین ہے، نہ کہ کوئی خطۂ زمین۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہمارے فقہی ذخیرے میں عبادات پر تو بے شمار کتابیں ہیں، لیکن اسلام کے نظامِ سیاست پر محض چند کتابیں پائی جاتی ہیں۔ ضرورت ہے کہ اسلام کا باضابطہ مجموعۂ قوانین مرتب کیا جائے۔ اِسی طرح ایک صاحب نے کہا کہ مسلم ممالک کا فریضہ ہے کہ وہ جدید صنعت و ٹکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھیں، ورنہ وہ دوسری قوموں کے محتاج ہو کر رہ جائیں گے، وغیرہ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

یہ تمام باتیں اصل مسئلے کی نسبت سے، غیر متعلق (irrelevant) ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں، مسلم امت کا مسئلہ صرف ایک ہے، اوروہ یہ ہے کہ اس نے اپنے اصل منصبی فریضے کو چھوڑ دیا ہے، یہ دعوت الی اللہ کا فریضہ ہے۔ اِس بناپر موجودہ زمانے کے مسلمان نصرتِ الٰہی سے محروم ہوگئے ہیں۔ تمام مسائل دراصل اِسی دعوتی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ امتِ مسلمہ کے موجودہ مسائل کے حل کا نقطۂ آغاز یہ ہے کہ مسلمان دعوت الی اللہ کی اہمیت کو سمجھیں اور وہ اس کے لیے منصوبہ بند انداز میں عمل کریں۔ دعوت کا فریضہ ادا کرنے ہی سے امت کے مسائل حل ہوں گے، اِس کے سوا، کوئی اور تدبیر امت کے مسائل کو حل کرنے والی نہیں۔ دوسری تمام تدبیروں سے اُن کے مسائل میں صرف اضافہ ہوگا، اِس کے سوا اور کچھ نہیں۔

دعوت کیا ہے۔ دعوت سادہ طورپر اعلان (announcement) کا نام نہیں۔ دعوت ایک انقلابی مشن ہے جو داعی کی پوری زندگی میں بھونچال کی طرح داخل ہوتا ہے اور اس کی زندگی کے ہر پہلو کو ایک نیا رخ دے دیتاہے۔ کہاجاتا ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان بہت سے مسائل سے دوچار ہیں۔ اِس معاملے میں اصل سوال خود مسائل کی موجودگی کا نہیں ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ مسائل کیوں پیدا ہوئے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ماضی میں مسلمانوں کی یہ حالت نہ تھی۔ یہ صرف موجودہ زمانے کی بات ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو اِن مسائل میں مبتلا پارہے ہیں۔ اِس فرق کے مطالعے ہی میں اِس سوال کا جواب ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے مسائل کا حل کیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس معاملے میں قرآن کی ایک آیت ایک رہنما آیت کی حیثیت رکھتی ہے۔ قرآن کی سورہ الانفال میں قوموں کے عروج وزوال کا قانون اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: ذلک بأن اللہ لم یک مغیّراً نعمۃً أنعمہا علیٰ قوم حتی یغیروا ما بأنفسہم(8: 53) ۔ ایک اور قرآنی آیت: وأمّا ما ینفع الناس فیمکث فی الأرض (13: 17) کو شامل کرکے اِس معاملے کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ دنیا میں عزت اور استحکام کا راز یہ ہے کہ قوم دوسروں کے لیے دینے والی (giver) بنی ہوئی ہو۔ اِس کے برعکس، جب کوئی قوم لینے والی (taker) بن جائے تو اس کو عزت واستحکام حاصل نہیں رہتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دورِ اول کے مسلمان، دعوت کے تصور پر کھڑے ہوئے تھے، یعنی وہ دنیا کو زندگی کی بہتر آئڈیالوجی دے رہے تھے۔ اِس لیے ان کو قوموں کے درمیان عزت ووقار کا درجہ حاصل تھا۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے نفع بخشی کی یہ حیثیت کھو دی ہے۔ اب اُن کے پاس صرف شکایت اور احتجاج کی زبان ہے۔ مسلمان صرف یہ اعلان کررہے ہیں کہ دنیا ہم کو ہمارے حقوق نہیں دے رہی ہے۔ اورفطرت کا یہ قانون ہے کہ جو قوم نفع بخشی کی صلاحیت کھو دے، اس کو کبھی عزت ووقار کا درجہ نہ ملے۔

دورِ قدیم کے مسلمانوں کی نفع بخشی کا اعتراف مورخین نے عام طورپر کیا ہے۔ مثلاً پنڈت جواہر لال نہرو نے لکھا ہے کہ عرب جب انڈیا میں آئے تو انھوں نے انڈیا کو ایک شان دار کلچر (brilliant culture) دیا۔ سوامی وویکا نند نے اعتراف کیا ہے کہ انڈیا کو مسلمانوں سے مساوات کا تحفہ ملا۔ بریفالٹ (Briffault)نے اعتراف کیا ہے کہ قرونِ وسطی میں مسلمانوں نے جو علمی ترقیاں کیں، اُس سے مغرب کی جدید سائنس وجود میں آئی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قدیم زمانے کے مسلمانوں میں نفع بخشی کی یہ صلاحیت کیسے پیدا ہوئی۔ اِس کا اصل راز یہ تھا کہ وہ دینِ توحید کے مبلغ بن گئے۔ توحید کا تصور ایک انقلابی تصور تھا۔ اِس تصور نے اُن کو ایک ایسی آئڈیالوجی دی جس کی ضرورت تمام دنیا کو تھی۔ توحید کی آئڈیالوجی نے مسلمانوں میں بیداری کی ایک نئی لہر پیدا کردی۔ وہ زندگی کے ہر میدان میں عزم وحوصلے کے ساتھ داخل ہوگئے۔ اُن کو یقین تھا کہ ان کے پاس دنیا کو دینے کے لیے وہ چیز ہے جو دنیا کے پاس نہیں ہے۔ اِس یقین نے اُن کے اندر ایک تسخیری شخصیت پیدا کردی۔ اِس یقین کے فکری نتیجے کے طور پر ان کی تمام فکری اور عملی صلاحیتیں جاگ اٹھیں۔

دورِ اول کے مسلمانوں اور موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے درمیان اصل فرق یہی ہے۔ جب تک یہ فرق دور نہ کیا جائے، اُس وقت تک موجودہ صورتِ حال بدلنے والی نہیں۔ یہی وہ فطری حقیقت ہے جس کو امام مالک نے اِن الفاظ میں بیان کیا تھا: لا یصلح آخر ہذہ الأمۃ إلا ما أصلح أولہ (مسند الموطأ: رقم: 783) یعنی اِس امت کے آخری دور کے معاملات بھی اُسی طرح درست ہوں گے جس طرح دورِ اول کے مسلمانوں کے معاملات درست ہوئے تھے۔ خلاصہ یہ کہ اگر کسی فرد یا گروہ کا احساس یہ ہو کہ اس کے پاس دوسروں کو دینے کے لیے کوئی چیز ہے تو یہ احساس اس کے لیے ایک انقلابی واقعہ بن جائے گا۔ یہ احساس اس کی تمام صلاحیتوں کو جگا دیتا ہے۔ اس کے اندر بے پناہ عزم پیدا ہوجاتاہے۔ وہ زندگی کے ہر میدان میں حوصلے کے ساتھ داخل ہوجاتا ہے۔ وہ اِس کا انتظار نہیں کرتا کہ دوسرے لوگ اس کے مسائل کو حل کریں۔ وہ خود اپنی ذاتی جدوجہدسے اپنے تمام مسائل کو حل کر ڈالتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content