موجودہ زمانہ سوشل موبلائزیشن (social mobilization) کا زمانہ ہے۔ اِس بنا پر ہر جگہ ایک نیا ظاہرہ پیدا ہوا ہے، وہ یہ کہ ہر جگہ مختلف مذاہب کے لوگ ایک ساتھ رہنے لگے ہیں۔ اِس بنا پر کانفرنسوں اور سیمیناروں میں ایک نیا بحث کا موضوع بن گیا ہے، وہ یہ کہ مختلف مذاہب کے سماج (multi-religious society) کے درمیان کس طرح ہم آہنگی پیدا کی جائے۔ اِس سوال کو لے کر جگہ جگہ ایسے سیمینار کئے جارہے ہیں جن کا موضوع بین مذاہب ہم آہنگی (interfaith harmony) ہوتا ہے۔
اِس طرح کے سیمناروں اور کانفرنسوں کی کثرت کے باوجود اصل مسئلہ بدستور باقی ہے۔ اِس طرح کے اجتماعات کسی بھی درجے میں سماجی اتحاد کے مطلوب مقصد کو پورا نہ کرسکے۔اِس ناکامی کا سبب یہ ہے کہ اِس معاملے میں خود مطالعے کا زاویہ درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس مسئلے کا تعلق بین مذاہب اتحاد (interfaith harmony) سے نہیں ہے، بلکہ وہ اہلِ مذاہب کے درمیان اتحاد (harmony among the people of faith) سے ہے۔
اپنی نوعیت کے اعتبار سے، یہ ایک سماجی مسئلہ ہے، نہ کہ اعتقادی مسئلہ۔ اِس مسئلے کے حل کے لیے ہم کو سماجی اتحاد کا فارمولا دریافت کرنا ہے۔ مذہبی اتحاد کی بات ایک علاحدہ بات ہے، اُس کا اِس مسئلے سے کوئی تعلق نہیں۔
اہلِ مذاہب کے درمیان اتحاد کے لیے ہمیں کوئی نیا فارمولا وضع کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ وہی آزمودہ فارمولا ہے جو تمام قوموں کے درمیان عملاً تسلیم کرلیا گیا ہے، اور وہ ہے، پر امن بقائے باہم (peaceful co-existence) کا فارمولا۔ اِس معاملے میں لوگوں کے اندر جو ذہن بنانا ہے، وہ ہے ایک دوسرے کا باہمی احترام کرتے ہوئے وسیع تر سماجی مفاد کے لیے متحد ہو کر کام کرنا— وحدتِ ادیان (unity of faiths) اور سماجی اتحاد(social unity) دونوں ایک دوسرے سے الگ موضوعات ہیں۔ اِس مسئلے کا حل صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھا جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.