20-24 جنوری 2012 کے دوران راجستھان میں جے پور لٹریچر فیسٹول (Jaipur Literature Festival) ہوا۔یہ ایک انٹرنیشنل فیسٹول تھا۔ اِس میں مختلف ملکوں کے آرٹسٹ اور اہلِ علم بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اِس فیسٹول میں سلمان رشدی (مقیم لندن) کو بھی بلایا گیا تھا، مگرانڈیا کی مسلم تنظیموں نے اِس کے خلاف شدید احتجاج کیا اور یہ مانگ کی کہ رشدی انڈیا میں نہ آنے پائیں، کیوں کہ انھوں نے اپنی کتاب (The Satanic Verses) میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے۔ حکومتِ ہند نے سیاسی مصالح کے تحت، مسلمانوں کے اِس مطالبے کو مان لیااور سلمان رشدی کے دورۂ ہند کو منسوخ کردیا گیا۔ہندستان کے مسلمانوں نے یہ مطالبہ بہ ظاہر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کیا تھا، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ پیغمبر اسلام کے اُسوہ (model) کی نفی تھا۔ یہ بہ ظاہر فتح، اپنے نتیجے کے اعتبار سے، صرف بدترین شکست کے ہم معنی تھی۔ اِس طرح کے معاملے میں پیغمبر اسلام کا اسوہ یہ ہے کہ اس کو غیر جذباتی انداز میں دیکھا جائے، مسئلہ (problem) کو نظر انداز کرتے ہوئے موقع (opportunity) کو استعمال (avail) کیا جائے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی زمانے میں کعبہ میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ یہ بلاشبہہ ایک مسئلہ تھا، لیکن اِسی کے ساتھ اِس معاملے کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ اِنھیں بتوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں وہاں مشرک زائرین آتے تھے۔ پیغمبر اسلام نے کعبہ میں بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کیا اور مشرک زائرین کے سامنے قرآن کا پیغام پیش کیا۔ جے پور لٹریچر فیسٹول کے موقع پر مسلمانوں کو یہی کام کرنا تھا۔ اِس فیسٹول میں ہندستانی اور غیر ہندستانی لوگ بڑی تعداد میں شریک ہورہے تھے۔ مسلمانوں کو یہ کرنا چاہئے تھا کہ وہ فیسٹول کے ناخوش گوار پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کو ایک موقع دعوت (Dawah opportunity) کے طورپر استعمال کریں۔ وہ وہاں اپنا اسٹال لگائیں اور لوگوں کو قرآن کا ترجمہ اور دوسری اسلامی کتابیں پڑھنے کے لیے دیں۔ یہی اِس معاملے میں پیغمبر اسلام کا نمونہ ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.