امام ابن تیمیہ (وفات: 1328 ء) اسلامی تاریخ کے انتہائی مشہور عالم ہیں۔ اُن کو ’’شیخ الاسلام‘‘ کہا جاتا ہے۔ شتمِ رسول کے موضوع پر ان کی ایک ضخیم کتاب ہے۔ اس کا نام یہ ہے: الصّارم المسلول علی شاتم الرسول۔ کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ جو آدمی شتمِ رسول کا مرتکب ہو، اُس کو حد کے طورپر قتل کردیا جائے۔ شتمِ رسول کی اِس سزا کو جائز ثابت کرنے کے لیے انھوں نے لمبی بحثیں کی ہیں، لیکن حقیقی طورپر اُن کے اِس موقف کے لیے نہ قرآن میں کوئی دلیل ہے اور نہ حدیث میں۔
کتاب کے مطابق، بہ ظاہر صرف ایک ’’روایت‘‘ ہے جس سے صراحت کے ساتھ شاتمِ رسول کے لیے قتل کا حکم معلوم ہوتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ خود ابنِ تیمیہ اِس روایت کو منکَر اور ضعیف بتاتے ہیں۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ اِس روایت کے راوی غیر ثقہ ہیں۔ اِس اعتراف کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ: فإن کان محفوظاً فہو دلیلٌ علی وجوب قتل مَن سبّ نبیاً من الأنبیاء (صفحہ 93 ) یعنی اگر یہ روایت درست ہو، تو وہ اِس کی ایک دلیل ہے کہ جو شخص نبیوں میں سے کسی نبی کا سبّ وشتم کرے، اُس کو قتل کردیا جائے۔
امام ابنِ تیمیہ حدیث کے بہت بڑے عالم مانے جاتے ہیں۔ اُن کے بارے میں امام الذہبی کا یہ قول ہے کہ — ہر وہ حدیث جس کو ابن تیمیہ نہ جانتے ہوں، وہ حدیث نہیں (کلّ حدیث لایعرفہ ابن تیمیۃ، فہو لیس بحدیث)۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ جب خود حافظِ حدیث ابن تیمیہ اِس روایت کو غیرثقہ مانتے ہوں تو پھر ایسی غیر ثابت شدہ روایت سے قتلِ شاتم کا استدلال کیسے درست ہوسکتا ہے۔ اِس قسم کا استدلال بلا شبہہ غیر دینی بھی ہے اور غیر علمی بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ شاتم کو قتل کرنے کے بارے میں نہ قرآن میں کوئی حکم ہے اور نہ حدیث میں۔ اِس معاملے میں مسلمانوں نے اپنے قومی جذبات کو شرعی حکم کا درجہ دے دیا ہے۔ یہ بلاشبہہ سرکشی کا فعل ہے۔ یہ خود ایک اہانتِ رسول ہے کہ رسول کے نام پر کسی انسان کو ناحق قتل کیا جائے۔ شتم اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک اختلافِ رائے ہے، اور اختلاف رائے کے مقابلے میں جو چیز مطلوب ہے، وہ علمی استدلال ہے، نہ کہ بندوق اور تلوار۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔