دین میں اصل اہمیت کی چیز یہ ہے کہ آدمی شرک سے مکمل طور پر بچے، اور صرف خدائے واحد کو اپنا مرکزِ توجہ بنائے۔ اسی سے پوری زندگی سدھرتی ہے۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ اسی کی سب سے زیادہ تاکید کریں، اور اسی کو دعوت و تبلیغ کی بنیاد بنائیں۔ اس کے بعد تفصیلی معاملات میں دین کے جو تقاضے مطلوب ہیں، ان میں حالات کے مطابق کوئی نہ کوئی طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے۔
تاہم ان چیزوں کو دعوتی مہم کے طور پر اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری نوعیت کے کسی مسئلے کو جب آدمی مدارِ دعوت بناتا ہے تو گویا وہ ایک فری مسئلے کو اثاثی مسئلے کے مقام پر رکھتا ہے۔ اس قسم کا کوئی عمل دین کے نظام کو درہم برہم کر دینے والا ہے۔ آپ ایک خاص فقہی مسلک کو اپنے لیے پسند کرتے ہیں تو کیجیے، مگر اس کی بنیاد پر مسجد اور مدرسہ نہ بنائیے۔
آپ ایک طریقے کے تقدس کے قائل ہیں تو قائل رہیے، مگر اس کو دوسروں کی اسلامیت ناپنے کا پیمانہ مت قرار دیجیے۔ کسی مسلم حکمران نے بنیادی جمہوریت کا نظام قائم کر رکھا ہے، اور آپ اس کے مقابلے میں عوامی جمہوریت کو صحیح سمجھتے ہیں تو ناصحانہ انداز میں اپنی بات دوسروں تک پہنچائیے، مگر اس مسئلے کو لے کر ملک کو سیاسی اکھاڑا مت بنائیے۔ اگر آپ کی نظر— اگر آپ کو نظر آتا ہے کہ آپ کی ملت کے معاشی اور سماجی حقوق پامال ہو رہے ہیں، تو لوگوں میں یہ جذبہ ابھاریے کہ وہ قوت و امانت سورہ قصص آیت 26 کے ذریعے اپنا مسئلہ آپ حل کرنے کی کوشش کریں، مگر اس کو لے کر مفروضہ ظالموں کے خلاف احتجاج اور مطالبات کا طوفان برپا نہ کیجیے۔ اس قسم کی ہر تحریک دین کے سبیلِ واحد کو چھوڑ کر سبولِ متفرقہ پر دوڑنا ہے۔
ایسی کوششیں، خواہ وہ کتنی ہی نیک نیتی کے ساتھ کی جائیں، عملاً صرف فساد برپا کرتی ہیں۔ وہ نہ صرف آدمی کو حقیقی خدا پرستی سے دور کر دیتی ہیں، بلکہ امت کو مختلف ٹولیوں اور جماعتوں میں تقسیم کر دینے کا باعث بنتی ہیں۔ اور امت کا تقسیم ہونا اللہ تعالیٰ کو اتنا زیادہ ناپسند ہے کہ ایسے لوگوں سے اللہ کی اجتماعی نصرتیں اٹھا لی جاتی ہیں، اور وہ اس وقت تک واپس نہیں آتیں جب تک امت اپنی تفریقات کو ختم کر کے دوبارہ امتِ واحدہ نہ بن جائے۔ نوٹ: یہ مقالہ جمیعت اہل حدیث جموں و کشمیر کے سالانہ اجلاس بمقام سری نگر کے موقع پر 30 جولائی 1978 کو پڑھا گیا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.