Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Al Islam
Al Islam

سیرت ایک تحریک کی حیثیت سے

Urdu · 4 min

پیغمبرِ اسلام کی جو سیرتیں لکھی گئی ہیں، ان کا انداز عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ گویا آمنہ کے پیٹ سے ایک پرعجوبہ شخصیت نکلی، اور اس نے پراسرار طریقوں سے پورے عرب کو مسخر کر ڈالا۔ سیرت کی کتابیں انسانی تاریخ سے زیادہ کرامات و معجزات کی ایک طلسماتی داستان نظر آتی ہیں۔ یہ ذوق اتنا بڑھا کہ جن واقعات میں کوئی معجزاتی پہلو نہ تھا، وہاں بھی لوگوں نے اپنے قوتِ تخیل سے کوئی نہ کوئی چیز ڈھونڈ نکالی۔ مثال کے طور پر صہیب بن سنان کی ہجرت کے بارے میں آتا ہے کہ جب وہ مکے سے روانہ ہوئے تو قریش کے کچھ نوجوانوں نے انہیں آگے بڑھ کر روکا۔

صہیب نے کہا، "اگر میں تمہیں اپنا مال دے دوں تو کیا تم مجھے جانے دو گے؟ " انہوں نے کہا، "ہاں۔ " چنانچہ چند اوقیہ سونا جو صہیب کے پاس تھا، وہ سب انہوں نے ان کو دے دیا اور مدینہ پہنچ گئے۔ بیہقی کی ایک روایت میں ان کی طرف یہ قول منسوب کیا گیا ہے: فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: يَا أَبَا يَحْيَى رَبِّحَ الْبَيْعَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا سَبَقَنِي إِلَيْكَ أَحَدٌ وَمَا أَخْبَرَكَ إِلَّا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ حضرت صہیب کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مدینے میں دیکھا تو فرمایا: "اے ابو یحییٰ!

تمہاری یہ تجارت بڑی نفع بخش رہی۔ " میں نے کہا: "یا رسول اللہ! مجھ سے پہلے آپ تک مکے سے کوئی نہیں آیا، یہ خبر یقیناً آپ کو جبریل فرشتے نے دی ہے۔ " مگر یہی واقعہ ابنِ مردویہ اور ابنِ سعد نے نقل کیا ہے، تو اس کے الفاظ یہ ہیں: فَخَرَجْتُ حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ: رَبِّهَا صُهَيْبٌ رَبِّهَا صُهَيْبٌ میں قریش کے لوگوں کو اپنا مال دے کر مکے سے روانہ ہوا، یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گیا۔

اس کی اطلاع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا: "صہیب کی تجارت نفع بخش رہی، صہیب کی تجارت نفع بخش رہی۔ " حقیقت یہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام کی پوری زندگی ایک سادہ انسانی واقعہ ہے، اور اسی لیے وہ ہمارے لیے نمونہ ہے۔ آپ کو راستہ چلتے ہوئے اسی طرح ٹھوکر لگی جس طرح عام انسان کو لگتی ہے۔ بخاری آپ کے مخاطبین اولین کو آپ کا صاحبِ الہام ہونا اس لیے ناقابلِ فہم نظر آیا کہ آپ انہیں بظاہر اپنے ہی جیسے ایک انسان نظر آتے تھے۔

فَإِنَّكَ تَقُومُ بِالْأَسْوَاقِ وَتَلْتَمِسُ الْمَعَاشَ كَمَا نَلْتَمِسُهُ الْبِدَاءَ وَالنِّهَاءَ آپ بازار میں خرید و فروخت کرتے ہیں، اور اسی طرح تلاشِ معاش کرتے ہیں جس طرح ہم کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبرِ خدا کی زندگی کی عظمت اس کے انسانی واقعہ ہونے میں ہے، نہ کہ پراسرار معجزاتی داستان ہونے میں۔ آپ کی کامیابی نصرتِ الہی کے تحت ہوئی، اس لحاظ سے بلاشبہ وہ معجزہ تھی۔ مگر اس معجزۂ الہی کا ظہور بشرِ رسول کی سطح پر ہوا، نہ کہ کراماتی شخصیت کی سطح پر۔

قرآن میں پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی جو تصویر دی گئی ہے، اس کو سامنے رکھا جائے تو آپ کی یہی تصویر اس کے مطابق نظر آئے گی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.