← Al IslamAl Islam
کشمیر میں اسلام—
Urdu · 8 min
کشمیر میں اسلام کا ابتدائی داخلہ، اگرچہ محمد ابن قاسم 66-96 ہجری کے زمانے میں ہوا، تاہم ریاست میں اسلام کی نمایاں اشاعت غالباً سید بلبل شاہ قلندر ترکستانی کے وقت سے شروع ہوئی۔ 700 سال پہلے کشمیر میں ایک بودھ راجہ، رینچن شاہ کی حکومت 1320-23 عیسوی تھی۔ یہ راجہ سید بلبل شاہ کے ہاتھ پر مسلمان ہوا۔ اس زمانے میں لوگ اپنے سرداروں کے دین پر ہوتے تھے۔
راجہ کو دیکھ کر کشمیریوں کی ایک تعداد مسلمان ہو گئی۔ حضرت بلبل شاہ صاحب فقہی مسلک کے اعتبار سے حنفی تھے، چنانچہ اس وقت جو لوگ مسلمان ہوئے، ان کے اثر سے وہ حنفی مسلک کے مطابق عبادت کرنے لگے۔ میر سید علی ہمدانی کی تبلیغ سے جب کشمیری باشندے مسلمان ہونے لگے تو ایک مسئلہ پیدا ہو گیا: یہ نو مسلم کس فقہی مسلک پر عبادت کریں؟ حضرت امیر کبیر خود شافعی المسلک تھے، اور اس وقت کشمیر میں جو مسلمان تھے وہ حنفی المسلک۔
امیر کبیر اگر ان نو مسلموں کو اپنے فقہی مسلک کی تلقین کرتے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا کہ مسلمانوں میں دو گروہ بن جاتے: ایک امیر کبیر کے ہاتھ پر اسلام لائے ہوئے لوگوں کا، دوسرا بقیہ کشمیری مسلمانوں کا۔ حنفی اور شافعی کا یہ جھگڑا نہ صرف دونوں کے مدرسوں اور مسجدوں کو الگ کر دیتا، بلکہ اپنے اپنے فقہی مسلک کی صحت و افضلیت ثابت کرنے کی کوشش میں اصل تبلیغی کام پسِ پشت پڑ جاتا۔ کشمیری مسلمان دو جتھوں کی صورت اختیار کر کے ایک دوسرے سے لڑنا شروع کر دیتے۔ وہ قوت جو دینِ حق کی اشاعت میں صرف ہوتی، آپس کے جھگڑوں میں برباد ہو جاتی۔
نسلیں گزر جاتیں، مگر یہ اختلاف کبھی ختم نہ ہوتا۔ میر سید علی ہمدانی نے صرف اثاثاتِ دین کی تبلیغ کی، انہوں نے فقہی مسالک کی کوئی بحث نہیں چھیڑی۔ انہوں نے یہاں تک احتیاط کی کہ اپنا شافعی المسلک ہونا اپنے پیروں سے پوشیدہ رکھا، عام مسلمانوں کے ساتھ خود بھی حنفی طریقے پر نماز پڑھتے اور اپنے ساتھیوں کو بھی اسی کے مطابق عبادت کرنے کی تلقین کرتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کشمیر میں ان کو کام کرنے کے مکمل مواقع ملے۔
ان کو ہر طبقے کا تعاون حاصل رہا۔ غیر متعلق مسائل کے الجھاؤں سے وہ بالکل محفوظ رہے۔ اپنی دعوتی جدوجہد میں ان کو اتنی کامیابی ہوئی کہ کشمیر دائمی طور پر مسلم اکثریت کا علاقہ بن گیا۔ امیر کبیر اگر یہاں حنفی مسلک اور شافعی مسلک کی بحثیں چھیڑتے تو ان کو یہ کامیابی نہیں ہو سکتی تھی۔
اور بالفرض اگر کوئی کامیابی ہوتی تو وہ بھی اس قیمت پر کہ ان کی آمد کشمیری مسلمانوں کو دو متحارب فریقوں میں بانٹ دینے کا سبب بن جاتی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو لوگ اس راہ پر چلیں ان کا کسی سے اختلاف نہیں ہوگا۔ بامقصد آدمی کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ خود امیر کبیر کے حالات بتاتے ہیں کہ 73 سال کی عمر میں موزہ پکھلی یعنی کشمیر کے کچھ شریر لوگوں نے آپ کو زہر دے دیا، اور اسی میں آپ کا انتقال ہوا۔
تاہم اس قسم کا اختلاف محض ذاتی وجوہ سے ہوتا ہے، اور وہ داعی کو صرف ذاتی نقصان پہنچاتا ہے، جبکہ ایک غیر دینی مسئلے کو دینی بنانا دین میں فرقہ بندی کو جنم دیتا ہے، جو اتنا بڑا جرم ہے کہ کسی گروہ سے وہ تمام نعمتیں چھن جاتی ہیں جو کتابِ الہی کا حامل ہونے کی حیثیت سے اس کے لیے مقدر کی گئی تھیں۔ امیر کبیر سید علی ہمدانی کی زندگی اسلامی طریقہ کار کی نہایت کامیاب عملی مثال ہے۔ اپنی دعوتی جدوجہد میں انہوں نے جس چیز کو مرکزِ توجہ بنایا وہ توحید و آخرت کا مسئلہ تھا۔ اس کے علاوہ سیاسی مسئلے، معاشی مسئلے، فقہی مسئلے انہوں نے بالکل نہیں چھیڑے۔
وہ اصل دین پر یکسو رہے، نہ کہ متفرقاتِ دین پر۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کے نزدیک سیاست اور معاش دین سے خارج تھی، یا عبادت کی ادائیگی میں آداب اور مناسک کے لحاظ کو وہ غیر ضروری سمجھتے تھے۔ وہ ہر ایک کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے، اور ہر چیز کو انہوں نے بالفعل اختیار کیا۔ تاہم انہوں نے جس چیز کو دعوت و اقامت کا عنوان بنایا، وہ متفق علیہ دین تھا، نہ کہ سبلِ متفرقہ۔
امیر کبیر فقہ کی تمام شرائط کے مطابق مکمل نماز پڑھتے تھے، مگر فقہی اختلافات کے پیچھے پڑنا ایک مسلک کو غلط ثابت کر کے اس کی جگہ دوسرے مسلک کی ترجیح قائم کرنا انہوں نے اپنا مشن نہیں بنایا۔ اسی طرح معاشیات کے سلسلے میں انہوں نے ایک راستہ اختیار کیا۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو وہ اور ان کے ساتھی زندہ کیسے رہ سکتے تھے؟ مگر معاشی مسائل کو حل کرنے یا اس کو پوری ملت کا مشترک مسئلہ بنا کر اس کی بنیاد پر تحریک چلانے کا طریقہ انہوں نے اختیار نہیں کیا۔
اسی طرح سیاست کا نعرہ نہ لگانے کے باوجود ان کی ایک سیاست تھی، بلکہ نہایت گہری سیاست تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آج کشمیر کو یہ مقام نہ ملتا کہ یہاں صرف مسلم وزارت بنتی ہے۔ دوسری وزارت بننے کا یہاں کوئی سوال نہیں۔ کشمیر کو یہ سیاسی عطیہ تمام تر امیر کبیر کی دین ہے۔
اگرچہ معروف معنوں میں انہوں نے کوئی سیاسی پروگرام اپنی زندگی میں نہیں چلایا، اور نہ کوئی ان کو سیاسی لیڈر کی حیثیت سے جانتا تھا۔ امیر کبیر ہر چیز کے پیچھے نہیں دوڑے۔ انہوں نے صرف یہ کیا کہ حقیقت کا سرا پکڑ لیا۔ اس کے بعد سب چیزیں خود بخود ان کی طرف آتی چلی گئیں۔