Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Al Islam
Al Islam

امیر حمدانی کی مثال

Urdu · 8 min

مذکورہ اسلامی طریقۂ کار کی ایک مثال کشمیر کی تاریخ میں پائی جاتی ہے۔ کشمیر کو عام طور پر لوگ اس کے قدرتی حسن کی وجہ سے جانتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہاں اس سے بھی زیادہ بڑی چیز موجود ہے: یہ اسلامی طریقۂ کار کا وہ نمونہ ہے جو میر سید علی حمدانی 1314 تا 1384 عیسوی کی زندگی میں ملتا ہے۔ موصوف نے جن کو کشمیری عام طور پر "امیر کبیر" کہتے ہیں، اپنے عمل سے ایک عظیم قابلِ تقلید نمونہ قائم کیا ہے، جس کی مثال حالیہ صدیوں میں کم ملے گی۔ کشمیر اپنے قدرتی مناظر کی وجہ سے اگر جنت نظیر ہے تو اپنے تاریخی نمونے کے ذریعے وہ ہم کو اسلام کے طریقِ دعوت کی طرف رہنمائی کرتا ہے، جو اس سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔

ڈاکٹر محمد اقبال 1877 تا 1938 نے امیر کبیر کی بابت کہا تھا: "دستِ او معمارِ تقدیرِ امم"۔ امیر کبیر کی بابت یہ الفاظ صد فیصد درست ہیں۔ موجودہ مسلم کشمیر زیادہ تر آپ ہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے، مگر امیر کبیر کا—مگر امیر کبیر نے یہ کام شمشیر السنا یا با زمانہ ستیز کے ذریعے نہیں کیا، جو موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں کا سب سے زیادہ محبوب مشغلہ رہا ہے۔ انہوں نے یہ کامیابی شمشیر السنا کو ترک کر کے حاصل کی۔

ان کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اسلام کو زندہ کرنا چاہتے ہو تو مقابلہ آرائی کے ذہن کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دو۔ مذہبی اور سیاسی جھگڑے کھڑے کرنے سے مکمل پرہیز کرو۔ اس کے بعد تم کو خدا کی نصرتیں ملیں گی، اور اسلام اور مسلمانوں کو عزت و سربلندی حاصل ہوگی۔ میر سید علی حمدانی ایران کے رہنے والے اور تیمور لنگ 1335 تا 1405 عیسوی کے ہم عصر تھے۔

شاہ تیمور ان سے کسی بات پر ناراض ہو گیا اور ان کو ایران سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ اب امیر کبیر کے لیے ایک راستہ یہ تھا کہ وہ تیمور لنگ کے خلاف جہاد کا نعرہ لگائیں اور ایران میں حکومتِ صالحہ قائم کرنے کی جدوجہد کریں، خواہ اس کے نتیجے میں ان کو شہید ہو جانا پڑے۔ مگر امیر کبیر نے سیاسی تصادم سے پرہیز کیا۔ وہ اپنے چالیس ساتھیوں کو لے کر اپنے وطن حمدان سے نکل پڑے۔

افغانستان ہوتے ہوئے یہ قافلہ 781 ہجری میں کشمیر پہنچا، جس کو امیر کبیر اس سے پہلے 762 ہجری میں سیاحت کے دوران دیکھ چکے تھے۔ کشمیر پہنچ کر دوبارہ موقع تھا کہ یہاں سے شاہ تیمور کے خلاف سیاسی تحریک چلائی جائے۔ تیمور کے معاصرین میں ایسے لوگ تھے جو سیاسی وجوہ سے اس سے بغض رکھتے تھے۔ امیر کبیر ان کے ساتھ متحدہ محاذ بنا کر تیموری اقتدار کو ختم کرنے کی مہم جاری رکھ سکتے تھے، مگر امیر کبیر نے اس قسم کی کسی بھی کارروائی سے مکمل پرہیز کیا۔

اسی طرح قیادت کا ایک اور راستہ ان کے لیے پوری طرح کھلا ہوا تھا۔ یہ اس وقت کے کشمیری مسلمانوں کی اقلیت کے معاشی اور سماجی حقوق کا مسئلہ تھا۔ اس وقت کشمیر میں اگرچہ ایک مسلم خاندان کا راج تھا، مگر کشمیری مسلمان ریاست میں ایک کمزور اور غریب اقلیت کی حیثیت رکھتے تھے۔ حتیٰ کہ کہا جاتا ہے کہ ان سے جبراً بت خانوں کے نذرانے وصول کیے جاتے تھے۔

امیر کبیر ان کی طرف سے حقوق طلبی کی مہم چلا کر فی الفور مسلمانوں کے قائد بن سکتے تھے، مگر امیر کبیر نے اس قسم کی ملی سیاست سے بھی کوئی سروکار نہ رکھا۔ اسی طرح امیر کبیر کے لیے ایک راستہ یہ تھا کہ وہ انسانیت کے پیامبر بن کر اٹھیں اور ریاست کے مختلف فرقوں کو امن کے ساتھ رہنے کا وعدہ سنائیں۔ ایسا کر کے وہ بہت جلد دونوں فرقوں کے درمیان ہردل عزیزی اور مقبولیت حاصل کر سکتے تھے، کیونکہ ہر وہ تحریک لوگوں کو بہت پسند آتی ہے جس میں حق و باطل کا مسئلہ چھیڑے بغیر رواداری اور میل جول کا اُپدیش دیا گیا ہو۔ جس میں کوئی اپنے اوپر زد پڑتی ہوئی محسوس نہ کرے۔

مگر اس قسم کی تحریک جلسوں اور تقریروں کی سطح پر خواہ کتنی ہی کامیاب نظر آئے، عملی نتیجے کے اعتبار سے وہ ہمیشہ بے فائدہ ثابت ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ اس کام کا اسلامی دعوت سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔ اس قسم کا کام اپنی ظاہری خوشنمائی کے باوجود صرف مسائلِ دنیا کی طرف متوجہ کرنے کا کام ہے، جبکہ اسلامی دعوت کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو مسائلِ آخرت کی طرف متوجہ کیا جائے۔ امیر کبیر کا پروگرام نہ شاہ تیمور کے خلاف ردِعمل کے طور پر بنا اور نہ کشمیری مسلمانوں کے وقتی حالات سے متاثر ہو کر۔

اس وقت کشمیر میں ایک مسلم راجہ، یعنی سلطان قطب الدین کی حکومت تھی۔ اس کے اندر بہت سی اعتقادی اور عملی خرابیاں موجود تھیں۔ آپ نے سلطان کو ناصحانہ انداز کے خطوط بھیج کر اصلاحِ حال کی طرف متوجہ کیا، تاہم آپ نے اس کو اقتدار سے ہٹانے اور اس کی جگہ صالح حکمران لانے کی کوئی مہم نہیں چلائی۔ امیر کبیر نے ان تمام عوامل سے اوپر اٹھ کر سوچا اور خود اپنے مثبت فکر کے تحت اپنا پروگرام بنایا۔

پھر یہ پروگرام بھی کوئی کنونشن یا کانفرنس کا انعقاد نہ تھا۔ یہ تمام تر ایک خاموش عملی پروگرام تھا۔ وہ اور ان کے رفقاء ریاست کے مختلف حصوں میں پھیل گئے اور خاموشی کے ساتھ یہاں کے باشندوں میں اسلام کی تبلیغ کرنے لگے۔ انہوں نے کشمیریوں کی زبان سیکھی، یہاں کے حالات سے اپنے کو ہم آہنگ کیا، اجنبی دیس میں اپنے لیے جگہ بنانے کی مصیبتیں اٹھائیں۔

اس طرح صبر و برداشت کی ایک زندگی گزارتے ہوئے اپنے خاموش دعوتی مشن کو جاری رکھا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.