Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Al Islam
Al Islam

اسلام کا طریقِ دعوت

Urdu · 8 min

قرآن میں ارشاد ہوا ہے: «شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّيْنَا نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ». «وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ: أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ، كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ». سورہ شوریٰ، آیت 13: اللہ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا اس نے نوح کو حکم دیا تھا، اور جس کی وحی ہم نے تمہاری طرف کی ہے، اور جس کا حکم ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا تھا، یہ کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں پھوٹ نہ ڈالو۔ مشرکوں پر وہ بات بہت گراں ہے جس کی طرف تم ان کو بلاتے ہو۔

اقامت دین کی اس آیت کے الفاظ یہ نہیں ہیں کہ دین کو قائم کرو، باطل کو مت قائم کرو؛ بلکہ یہ فرمایا کہ دین کو قائم کرو، دین میں متفرق نہ ہو۔ جس حالت کو اختیار کرنے کا حکم ہے، اور جس حالت سے منع فرمایا گیا ہے، دونوں آیت کے الفاظ کے مطابق خود دین سے متعلق حالتیں ہیں، اور ان دونوں حالتوں میں سے ایک دینی حالت کو چھوڑنے اور دوسری دینی حالت کو اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ گویا اس آیت میں جو حکم ہے، وہ اقامت باطل کے مقابلے میں اقامت دین کا نہیں ہے، بلکہ تفریق فی الدین کے مقابلے میں اقامت دین کا ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ اس آیت میں دین سے مراد صرف اثاثی دین ہے، کیونکہ اثاثی دین تمام انبیاء کے درمیان یکساں تھا، اور اسی میں سب کی مشترک پیروی کی جا سکتی ہے۔

تفصیلی شریعت قرآن کی تصریح «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْ هَاجَةٍ» کے مطابق ان کے درمیان مختلف تھی، اس لیے تفصیلی شریعت میں بیک وقت سارے نبیوں کی پیروی ممکن نہیں۔ تفصیلی شریعت میں نبیوں کے درمیان جو فرق تھا، وہ کسی ارتقائی تشریح کی بنا پر نہ تھا، بلکہ حالات اور دعوتی مراحل میں فرق کی بنا پر تھا۔ یہ فرق مختلف مسلم گروہوں کے درمیان آج بھی ہے، اور ہمیشہ پایا جاتا رہے گا۔ اس بات کو دوسرے لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ دین کے دو حصے ہیں: ایک وہ جو دائمی طور پر یکساں حالت میں مطلوب ہے، دوسرا وہ جو حالات کے تابع ہوتا ہے۔

پہلا حصہ اثاثی تعلیم سے متعلق ہے، اور اس کو قرآن میں «الدین» سورہ شوریٰ کہا گیا ہے۔ دوسرا حصہ شرع اور منہاج سورہ مائدہ آیت 48 کا ہے، یعنی فریق قوانین اور طریقہ کار۔ پہلے حصہ دین کو قرآن میں سبیل یعنی راستے سے تعبیر کیا گیا ہے، اور دوسرے حصہ دین کو سبل یعنی راستے کہا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلا حصہ ہمیشہ ایک رہتا ہے، وہ ہر زمانے کے لیے واحد شاہراہ ہے۔

اس کے برعکس دوسرے حصے دین کا تعلق حالات سے ہے، اور اس میں ایک سے زیادہ صورتوں کی گنجائش رہتی ہے۔ حکم ہے کہ دعوت و اقامت کا موضوع الدین کو بناؤ۔ سبل متفرقہ کو مت بناؤ۔ متفق علیہ دین کو قائم کرنے میں لگو۔

مختلف فی دین کے پیچھے پڑ کر ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو جاؤ۔ قرآن میں مختلف مقامات پر اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اللہ نے تمہارے لیے عمل کی ایک شاہراہ مقرر کر دی ہے، تم اسی پر چلو، ادھر ادھر کے راستوں پر مت چلو، ورنہ تم اصل خدائی شاہراہ سے بھٹک جاؤ گے۔ اس شاہراہ کو قرآن میں «دین قیم» سورہ بینا، «حبل اللہ» سورہ آل عمران، «سواء السبیل» سورہ مائدہ، اور «صراط مستقیم» سورہ انعام وغیرہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ سورہ انعام کے انیسویں رکوع میں چند بنیادی چیزوں کا حکم دینے کے بعد ارشاد ہوا ہے: «وَأَنَّ هَذَا سِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِ ذَٰلِكُمْ وَصَّيْتُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ».

انعام 153: کہہ دو کہ یہ ہے میرا سیدھا راستہ، سو تم اسی پر چلو، اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ تم کو اصل راہ سے جدا کر دیں گی۔ اللہ تم کو حکم دیتا ہے تاکہ تم متقی بنو۔ اس آیت میں متفرق راستے یعنی سبل سے مراد کفر و شرک کے راستے نہیں ہیں، بلکہ وہ راستے ہیں جو دین میں دین کے نام پر نکالے جاتے ہیں۔ قال مجاہد: السُّبُلُ الْبِدَعُ.

قرطبی: اللہ تعالی کو اپنے بندوں سے جو کچھ مطلوب ہے، وہ واضح الفاظ میں قرآن میں بیان کر دیا گیا ہے۔ یہ قرآنی تعلیمات عملاً زندگی میں کس طرح متشکل ہوتی ہیں؟ یہ قرآنی تعلیمات عملاً زندگی میں کس طرح متشکل ہوتی ہیں؟ اس کا واضح نمونہ رسول اور اصحاب رسول کی زندگیوں میں موجود ہے۔

آدمی کو چاہیے کہ وہ عقیدہ اور عمل کے اعتبار سے اسی ثابت شدہ الدین پر قائم رہے۔ اس کے سوا دین میں ایسی باتیں نکالنا جو قرآن اور سنت سے بلا اختلاف ثابت نہ ہوں، ادھر ادھر کے راستوں پر بھٹکنا ہے، جو آدمی کو اصل خدائی راستے سے دور کر دیتا ہے۔ بطور خود آدمی سمجھتا ہے کہ وہ دین پر چل رہا ہے، حالانکہ اصل خدائی دین سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.