← Al IslamAl Islam
نصرت کا اصول
Urdu · 15 min
جو شخص صراط مستقیم پر ہو، اس کے لیے وعدہ ہے کہ اس کو اللہ کی نصرت حاصل ہوگی۔ ويهديك صراطًا مستقيمًا، وينصرك الله نصرًا عزيزًا. سورہ فتح، آیت 3۔ اور تاکہ اللہ تجھ کو صراط مستقیم کی ہدایت کرے، اور مدد کرے تمہاری زبردست مدد۔
نصرتِ الٰہی جتنی یقینی ہے، اتنی ہی یقینی یہ بات ہے کہ استحقاقِ نصرت کے بغیر نصرتِ الٰہی کسی کو نہیں ملتی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے، اور سنت اللہ میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ سورہ فاطر، آیت 43۔ اگر ایک شخص مقامِ اضطرار پر ہو تو صرف دعا ہی نصرت کو کھینچنے کے لیے کافی ہے۔
أما يجيب المضطر إذا دعاه ويكشف السوء. نمل، 62۔ کون قبول کرتا ہے دعا مضطر کی، جبکہ وہ پکارتا ہے اور اس کی مصیبت دور کر دیتا ہے؟ گویا جو شخص مضطر ہو، اس کے لیے مستحقِ نصرت ہونے کی شرط صرف کلماتِ دعا سے پوری ہو جاتی ہے، اور خدا کی نصرت اسے پہنچ جاتی ہے۔
لیکن جو شخص یا گروہ مقامِ اضطرار پر نہ ہو، اس کے لیے دعا کے علاوہ دو مزید شرطیں ہیں: ایک یہ کہ وہ دعا کے موافق عمل کرے۔ إليه يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعوه. فاطر، 10۔ اس کی طرف چڑھتے کلماتِ پاکیزہ اور عملِ صالح اس کو بلند کرتا ہے۔
دعا کے لحاظ سے عملِ صالح، یا دوسرے لفظوں میں موافقِ عمل، کیا ہے؟ یہ اس دعا سے متعین ہوتا ہے جو کسی معاملے میں نصرت کو طلب کرنے کے لیے آدمی مانگ رہا ہو۔ اگر کوئی شخص قرآن کے اسرار و حکم جاننے کی دعا کر رہا ہو، تو اس کے لیے اس دعا کے موافق عمل یہ ہوگا کہ وہ کتابِ الٰہی میں تدبر کرے۔ سورہ صاد، آیت 29۔
کوئی شخص نصرتِ معاش کا طلب گار ہے، تو اپنی دعا کے ساتھ اس کو معاش کی راہوں میں اپنی ممکن جدوجہد صرف کرنی ہوگی۔ سورہ جمعہ، آیت 10۔ اغیار کے خلاف نصرتِ رعب مطلوب ہے، تو اپنے درمیان اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ انفال، 46۔
اگر اعدائے اسلام پر نصرتِ فتح کی دعا کی جا رہی ہے، تو اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ ان کے اوپر دعوتِ الٰہی کا کام شروع کیا جائے، اور اس کو اتمامِ حجت کی حد تک لے جانے کی کوشش کی جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ کسی گروہ کو پوری طرح آگاہ کرنے سے پہلے ہلاک نہیں کرتا۔ انعام، 131۔ نصرت کا استحقاق ثابت کرنے کے لیے دوسری ضروری چیز صبر ہے، یعنی جس کے خلاف خدا کی نصرت مانگی جا رہی ہے، اس کی ایذا پر صبر کیا جائے۔ سورہ ابراہیم، آیت 12۔
یہ صبر مذکورہ بالا ایجابی عمل کا سلبی پہلو ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حریف کے خلاف کوئی بے تابانہ اقدام نہ کیا جائے؛ اس کے وار کو اس کی طرف لوٹانے کے بجائے اپنے اوپر لیا جاتا رہے۔ اس کی خدمت میں عرضداشت پیش کرنے کے بجائے اس کے ڈالے ہوئے مصائب کو برداشت کیا جائے؛ اس سے مطالبہ کرنے کے بجائے خاموش مقاومت کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ ان شرائط کے ساتھ جو نصرت مانگی جائے، اس کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ یہ ہے کہ اہلِ اسلام اگر 20 کی تعداد میں ہوں تو اہلِ باطل کے 200 آدمیوں پر غالب آئیں گے۔
انفال، 65۔ یہ تناسب اس سے بھی کم ہو سکتا ہے، جیسا کہ اسلامی تاریخ کے متعدد واقعات سے ثابت ہے، مگر بنیادی بات یہ ہے کہ دونوں گروہوں کے درمیان جو فرق ہو، وہ بااعتبارِ کمیت ہو، نہ کہ بااعتبارِ نوعیت۔ یعنی اہلِ باطل جس چیز میں 200 ہوں، اہلِ حق کو اسی چیز میں 20 ہونا چاہیے، نہ کہ کسی اور چیز میں۔ مثال کے طور پر، اہلِ باطل اگر 200 بندوقوں سے مسلح ہوں، تو اہلِ اسلام کے پاس بھی 20 بندوقیں ہونی چاہییں۔
اس کے برعکس، اگر ایسا ہو کہ ایک طرف 200 بندوقیں ہوں اور دوسری طرف 20 تلواریں، تو یہ وعدہ متحقق نہ ہوگا۔ اس کے برعکس، اگر ایسا ہو کہ ایک طرف 200 بندوقیں ہوں اور دوسری طرف 20 تلواریں، تو یہ وعدہ متحقق نہ ہوگا، کیونکہ اس دوسری صورت میں فرق کمیت کا نہ رہا، نوعیت کا ہو گیا۔ اسی طرح، اگر اہلِ اسلام کے پاس روایتی علم ہو اور اہلِ باطل کے پاس سائنسی علم، اہلِ اسلام جوش سے مسلح ہوں اور اہلِ باطل نے ہوش کا خزانہ جمع کر رکھا ہو، اہلِ اسلام کے پاس زمانے سے بے خبری ہو اور اہلِ باطل کے پاس زمانے سے آگاہی، اہلِ اسلام کے پاس اختلاف کا سرمایہ ہو اور اہلِ باطل کے پاس اتحاد کا، اہلِ اسلام کے پاس بے ترتیبی ہو اور اہلِ باطل کے پاس منصوبہ بندی، اہلِ اسلام قدیم قوتوں کے مالک ہوں اور اہلِ باطل جدید قوتوں کے، تو اہلِ اسلام کو کبھی یہ توقع نہ رکھنی چاہیے کہ وہ اپنے حریف کے مقابلے میں نصرتِ خداوندی کے مستحق قرار پا سکتے ہیں، کیونکہ ان تمام صورتوں میں دونوں گروہوں کے درمیان نوعی فرق ہے۔ اور جب نوعی فرق پایا جائے تو کسی بھی تعداد پر کوئی نصرت نازل نہیں ہوتی۔
جب بھی ایسا ہو کہ دونوں گروہوں کے درمیان فرق بااعتبارِ نوعیت ہو جائے، تو اہلِ اسلام کا پہلا کام یہ ہوگا کہ اس کو ختم کر کے کمیت کی سطح پر لے آئیں۔ اس کے بعد ہی وہ نصرتِ الٰہی کے مستحق قرار پا سکتے ہیں۔ صراطِ مستقیم پر چلنے والا خدا کی مدد سے کامیاب ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کو نقصان نہیں اٹھانا پڑتا۔
جدوجہد کے دوران میں بلاشبہ اس کو بھی اسی طرح کے نقصانات اور وقتی ہزیمتوں سے سابقہ پیش آتا ہے، جس طرح فریقِ ثانی کو پیش آتا ہے۔ سورہ آل عمران، آیت 140۔ تاہم آخری کامیابی اسی گروہ کو ملتی ہے جو خدا کی صراطِ مستقیم کو وفاداری کے ساتھ پکڑ لے اور اس پر پوری طرح قائم ہو جائے۔ اسلام کی تاریخ میں مسلمانوں کو متعدد بار نقصانات سے سابقہ پیش آیا۔
احد، شوال، سن 3 ہجری میں ایک جنگی ہدایت کی نادانستہ خلاف ورزی سے مسلمانوں کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا۔ حنین، شوال، سن 8 ہجری میں مسلمانوں کا جاسوسی نظام مکمل نہ تھا۔ اسلامی لشکر جب وادی میں اتر گیا تو اس کے دونوں طرف پہاڑیوں میں چھپے ہوئے دشمن نے اسلامی لشکر کو تیروں کی زد میں اس طرح لے لیا کہ ان کے پاس بچاؤ کی کوئی سبیل نہ تھی۔ طائف کا محاصرہ، ذیقعدہ، سن 8 ہجری، جس کو تین ہفتے بعد نقصان اٹھا کر واپس لینا پڑا۔
اور موتہ، جماد الاول، سن 8 ہجری، جس میں 3000 مسلمانوں میں سے 700 شہید ہو گئے، اور اسلامی کمانڈر نے بہترین جنگی حکمت عملی یہ سمجھی کہ بقیہ کو بچا کر مدینہ واپس لے جائیں۔ ان دونوں غزوات میں پیشگی یہ اندازہ نہ کیا جا سکا تھا کہ حریف کی تیاری کی نوعیت کیا ہے۔ تاہم قرآن کے وعدے کے مطابق لوگوں کو یقین تھا کہ یہ وقتی ہزیمتیں ہیں جو انسانی جدوجہد میں بہرحال پیش آتی ہیں۔ عام طور پر مسلمانوں میں یہ ذہنی فضا بن گئی تھی کہ ہم میں سے کچھ لوگوں کا کام آ جانا نقصان کی بات نہیں، کیونکہ مرنے والا خود تو مر کر جنت میں پہنچ جاتا ہے، اور اس کی قربانی زندہ رہنے والوں کے لیے نصرتِ الٰہی کا وہ استحقاق پیدا کرتی ہے جو ان کے لیے فتح کا نیا دروازہ کھول دیتی ہے۔
خلافتِ فاروقی کے زمانے میں جب ربیع بن عامر رستم کے دربار میں گئے اور اس کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی، تو اس سلسلے میں انہوں نے کہا: "ہم اس وقت تک مقابلہ کرتے رہیں گے جب تک خدا کے وعدے، یعنی موعود اللہ، کو نہ پہنچ جائیں۔ " اس نے کہا: "خدا کا وعدہ کیا ہے؟ " ربیع بن عامر نے جواب دیا: الجنة لمن مات علی قتال من أبى، والظفر لمن بقی۔ الهدایہ، الهدایہ والنہایہ۔
جنت اس کے لیے جو منکرین سے لڑتے ہوئے شہید ہوا، اور فتح اس کے لیے جو باقی رہا۔ اس میں شک نہیں کہ عزم اور وفاداری کا جو معیار پیغمبرِ اسلام کے اصحاب نے دکھایا، اگر وہ معیار کسی گروہ میں پیدا ہو جائے تو خدا کی نصرت یقینی ہو جاتی ہے، اور خدا کی نصرت ہی کا دوسرا نام کامیابی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے کہ جب بیعت کرتے تو یہ سمجھ کر کرتے کہ اسلام کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دینے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے تقاضوں کو آخری حد تک نبھایا جائے، خواہ اس راہ میں اپنے کو فنا کر دینا پڑے۔ بیعت ان کے لیے موت کے ہم معنی تھی۔
أخرج البخاری عن سلمۃ رضی اللہ عنہ قال: "بايعة النبی صلى الله عليه وسلم ثم عدلت إلى ظل الشجرة فلما خف الناس قال: يا ابن الأكوع ألا تبايع؟ قال: قلت: قد بايعت يا رسول الله. قال: أيضاً: فبايعته الثانية فقلت له: يا أبا مسلم على أي شيء كنتم تبايعون يومئذ؟ قال: على الموت." حضرت سلمہ کہتے ہیں: "میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے بیعت کی، پھر ایک درخت کے سائے میں چلا گیا۔
جب مجمع کم ہوا، آپ نے فرمایا: اے ابنِ اکوع، تم بیعت نہیں کرتے؟ میں نے کہا: اے خدا کے رسول، میں بیعت کر چکا۔ فرمایا: پھر کر لو۔ چنانچہ میں نے دوبارہ آپ سے بیعت کی۔
" راوی کہتے ہیں: "میں نے حضرت سلمہ سے پوچھا: تم لوگ ان دنوں کس چیز پر بیعت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: موت پر۔ " ان کے جذبۂ اطاعت کا یہ عالم تھا کہ جو کہا جاتا، اسے فوراً کرنے کے لیے تیار ہو جاتے۔ عن أبي سعلبة الخشني رضی اللہ عنہ قال: "كان الناس إذا نزلوا تفرقوا في الشعاب والأودية فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن تفرقكم في الشعاب والأودية إنما ذلكم من الشيطان، فلم ينزلوا بعد ذلك منزلاً إلا انضم بعضهم إلى بعض حتى لو بسط عليهم ثوب لوسعهم." حضرت ابو سالبہ خشنی کہتے ہیں: "رسول اللہ کے اصحاب سفروں میں کسی مقام پر اترتے تو وہ گھاٹیوں اور وادیوں میں منتشر ہو جاتے۔
آپ نے فرمایا: وادیوں اور گھاٹیوں میں تمہارا منتشر ہو جانا شیطان کی جانب سے ہے۔ " اس کے بعد یہ حال ہو گیا کہ لوگ جب کہیں اترتے تو ایک دوسرے سے ملے رہتے، حتیٰ کہ ایسا معلوم ہوتا کہ ان کے اوپر ایک کپڑا پھیلا دیا جائے تو سب اس کے نیچے آ جائیں گے۔ جب وہ اسلام میں داخل ہو گئے تو اپنی کسی چیز کو اس سے محفوظ نہ رکھا۔ جنگِ بدر سے پہلے جب نبی صلى الله عليه وسلم نے لوگوں کی رائے پوچھی تو حضرت سعد ابن معاذ نے انصار کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا: "یا رسول اللہ!
خذ من أموالنا ما شئت وأعطنا ما شئت، وما أخذت منا كان أحب إلينا مما تركت." اے خدا کے رسول! ہمارے مالوں میں سے آپ جو چاہیں لے لیں، اور جتنا چاہیں ہمیں دیں، اور جو آپ ہم سے لیں گے وہ ہمیں اس سے زیادہ محبوب ہوگا جو آپ ہمیں عطا کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہر قسم کے تحفظات اور نفسیاتی پیچیدگیوں سے اپنے کو آزاد کر کے خدا کے دین میں داخل ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ اگر چند سو کی تعداد میں بھی اکٹھا ہو جائیں تو وہ تاریخِ انسانی کو ایسا دھکا دے سکتے ہیں جس کے اثرات اس وقت تک ختم نہ ہوں جب تک وہ دور ہی ختم نہ ہو جائے، جب تک وہ دور ہی ختم نہ ہو جائے جس میں وہ دھکا دیا گیا تھا۔