← Al IslamAl Islam
اجتماعی صراط مستقیم
Urdu · 29 min
پیغمبر کے ذریعے جس طرح نماز روزے کا طریقہ بتایا گیا، اسی طرح یہ بھی بتایا گیا کہ تحریک کس طرح چلائی جائے۔ حریف طاقتوں کا مقابلہ کس طرح کیا جائے، اور اسلام کو کس طرح دنیا میں غالب کیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں، جس طرح انفرادی زندگی کی ایک صراط مستقیم ہے، اسی طرح اجتماعی زندگی کی بھی ایک صراط مستقیم ہے۔
صلح حدیبیہ سن 628 عیسوی، اسلام کی اجتماعی جدوجہد کا اہم ترین واقعہ ہے۔ قرآن کی 48ویں سورہ میں اس کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: وَلِتَكُونَ آيَةً لِّلْمُؤْمِنِينَ وَيَهْدِيَكُمْ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا سورہ فتح آیت 20۔ اور تاکہ ایک نمونہ ہو اہلِ ایمان کے لیے، اور تاکہ تم کو دکھا دے سیدھی راہ۔ صلح حدیبیہ کے سیاق میں اس آیت کا آنا صاف ظاہر کرتا ہے کہ جس طرح عبادات اور اخلاق میں ایک صراط مستقیم ہے، اسی طرح صلح و مقابلے کے معاملات میں بھی ایک صراط مستقیم ہے۔
جو شخص صراط مستقیم پر ہو، دوسرے لفظوں میں، اس مقامِ انسانیت پر ہو جہاں فیصلے تمام تر سمو بصر و فواد کی بنیاد پر ہوتے ہیں، نہ کہ ضد اور ردِعمل کی بنیاد پر، اس کو انتہائی دور رس نگاہ حاصل ہو جاتی ہے۔ وہ تمام جذباتی محرکات اور اضافی پہلوؤں سے گزر کر براہِ راست اصل حقیقت کو دیکھنے لگتا ہے۔ اس حقیقت رسی کی بنا پر اس کی منصوبہ بندی نہایت صحیح اور قطعی ہوتی ہے۔ وہ اتنا بے پناہ ہو جاتا ہے کہ اس کا نشانہ کبھی نہ چوکے۔
اس کا وار کبھی خطا نہ کرے۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے: اتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللَّهِ مومن کی فراست سے بچو، کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ قرآن میں جہاں یہ قانون بتایا گیا ہے کہ اہلِ ایمان اپنے مقابلے میں 10 گنا زیادہ تعداد پر غالب رہیں گے، وہاں کثرتِ تعداد کے باوجود حریف کی شکست کی وجہ یہی بتائی گئی ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے۔ إِيَّكُمْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِئَتَيْنِ وَإِيَّكُمْ مِنْكُمْ مِئَةٌ يَغْلِبُ أَلْفًا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَفْقَهُونَ انفال 65۔
اگر تم میں 20 صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ 200 پر غالب رہیں گے، اور 100 ہوں گے تو وہ 1000 منکروں پر غالب آئیں گے، اس لیے کہ وہ سمجھ نہیں رکھتے۔ صلح حدیبیہ کا واقعہ اس سلسلے کی ایک نمایاں مثال ہے۔ یہ صلح صریح طور پر دب کر کی گئی۔ عقلِ حیوانی اس کے لیے کسی طرح تیار نہ ہو سکتی تھی کہ ڈیڑھ ہزار جان نثار ساتھیوں کے ہوتے ہوئے ایسے صلح نامے پر دستخط کر دیے جائیں جس کا مسودہ تمام تر دشمن کے مطالبات کی بنیاد پر بنایا گیا ہو۔
مگر عقلِ انسانی جو حقائق کو بے آمیز شکل میں دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس کو نظر آ رہا تھا کہ یہ صریح طور پر فتح مبین (سورہ فتح آیت 1) کا معاملہ ہے۔ اسی طرح زندگی کے تمام معاملات اور دنیا و آخرت کے سارے مسائل کے لیے ایک صراط مستقیم یا سبیل اللہ بتا دی گئی ہے۔ کائنات مکمل طور پر اسی سبیل اللہ پر چل رہی ہے۔ انسان کے لیے بھی نجات اور کامیابی کا راستہ یہی ہے۔
اس فرق کے ساتھ کہ کائنات طَوْعًا وَكَرْهًا (حمِم سجدہ 11) اس پر چلنے کی پابند ہے، اور انسان کو خود اپنی مرضی سے اسی راہ پر چلنا ہے۔ قرآن نے جس طرح فرد کے ذاتی سفر کے لیے صراط مستقیم کے خطوط متعین کر دیے ہیں، اسی طرح اجتماعی معاملات میں بھی صراط مستقیم کی وضاحت کے لیے یہ اہتمام کیا ہے کہ ایک طرف حقیقی تجربات کی شکل میں کچھ مثالیں ہمارے سامنے رکھ دی ہیں، جیسا کہ صلح حدیبیہ کی حکمتیں بیان کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے: وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا سورہ فتح آیت 2۔ دوسری طرف کچھ ایسے بنیادی اصول بتائے ہیں جو بیشتر عملی معاملات کا احاطہ کر لیتے ہیں۔ اور اگر انسان اپنے آپ کو مقامِ حیوانیت سے بلند کر کے مقامِ انسانیت پر پہنچا لے، تو وہ کبھی یہ سمجھنے میں غلطی نہیں کر سکتا کہ کسی خاص اجتماعی معاملے میں اسے کون سا رویہ اختیار کرنا چاہیے، جو اس کو نصرتِ الہی اور فتح کی طرف لے جانے والا ہو۔
نمبر 1۔ اس سلسلے کا پہلا بنیادی اصول یہ ہے کہ منفی ذہن کے تحت کبھی کوئی اقدام نہ کیا جائے۔ ہمیشہ مثبت طور پر اپنا اصل مقصد سامنے رکھا جائے، اور اپنی ساری اجتماعی منصوبہ بندی انہی مثبت مقاصد کے مطابق کی جائے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآءُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَنْ لَا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِالتَّقْوٰى سورہ مائدہ آیت 9۔
اے ایمان والو! اللہ کے لیے اٹھنے والے، عدل کی گواہی دینے والے بنو۔ اور کسی گروہ کی عداوت تم کو نہ ابھارے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو، وہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔
غور سے دیکھیے تو تاریخ کی بیشتر ناکامیوں کا سبب یہی ملے گا کہ ضد، نفرت، بغض، جھنجھلاہٹ اور مخالفت سے متاثر ہو کر کسی کے خلاف اقدام کیا گیا۔ جب بھی کوئی شخص یا گروہ اس قسم کے جذبات سے متاثر ہو کر اپنا عملی نقشہ بنائے گا، وہ لازماً غلط راہ پر پڑ جائے گا۔ اس کے برعکس، اگر یہ بنیادی ہدایت سامنے ہو، اور آدمی اپنی عقل کو حیوانی سطح سے اٹھا کر انسانی سطح پر پہنچا چکا ہو، تو ممکن نہیں کہ وہ منفی جذبات کا شکار ہو۔ وہ لازماً مثبت بنیادوں پر اپنی منصوبہ بندی کرے گا۔
اور جو منصوبہ بندی مثبت بنیادوں پر کی جائے، وہ کبھی ناکام نہیں ہوتی۔ اجتماعی معاملات میں صراط مستقیم کا یہ بنیادی اصول صلح حدیبیہ کے ذیل میں نہایت واضح طور پر بیان کیا گیا ہے: إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى وَكَانُوا أَحَقَّ بِهَا وَأَهْلَهَا وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا سورہ فتح آیت 26۔ جب رکھی منکروں نے اپنے دل میں ضد، نادانی کی ضد، پھر اللہ نے اپنی طرف سے رسول اور مومنوں کو تحمل عطا کیا، اور ان کو تقویٰ کے کلمے پر جمائے رکھا، اور وہ اس کے حقدار اور لائق تھے۔ اور اللہ ہر چیز سے خبردار ہے۔
گویا اسلام کی اجتماعی جدوجہد کو صراط مستقیم پر رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ فریق ثانی کی طرف سے خواہ کتنی ہی حمیتِ جاہلیہ کا مظاہرہ ہو، ہم اس کو برداشت کرتے ہوئے تقویٰ کے کلمے کو مضبوطی سے پکڑے رہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ حریف کے رویے سے متاثر ہو کر جوابی ذہن یا ردِعمل کی نفسیات کے تحت ہرگز کوئی اقدام نہ کیا جائے، بلکہ مثبت نفسیات کے ساتھ خود اپنے متعین اصولوں اور اپنے مستقل مقاصد کی روشنی میں اپنا اجتماعی پروگرام بنایا جائے، اور حال کے بجائے ہمیشہ مستقبل پر نظر رکھی جائے۔ نمبر 2۔ اسی طرح اجتماعی ہدایت کا ایک اور اہم اصول یہ ہے کہ سبیلِ رب (سورہ نمل آیت 69) کی پیروی کی جائے۔
اس سلسلے میں قرآن میں درخت کی مثال دی گئی ہے۔ درخت اولاً زمین میں اپنی جڑ جماتا ہے، اس کے بعد دھیرے دھیرے اوپر اٹھتا ہے۔ اسی طرح ملت کی تعمیر میں اندرونی استحکام کو اولین اہمیت دی جائے۔ جڑ مضبوط کرنے سے پہلے ہرگز کوئی خارجی اقدام نہ کیا جائے۔
تلقین کی گئی ہے کہ درخت کو اگانے کے سلسلے میں قدرت نے جو طریقہ اختیار کیا ہے، اسی کو تم اپنی ملی تعمیر کے سلسلے میں اختیار کرو۔ أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ اجْتُثَّتْ مِن فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِن قَرَارٍ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الضَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ ابراہیم 24 تا 27۔ تو نے نہ دیکھا کیسی بیان کی اللہ نے ایک مثال، کلمہ طیبہ ایسا ہے جیسا ایک ستھرا درخت، اس کی جڑ خوب گھڑی ہوئی ہے اور اس کی شاخیں بلند ہیں، دیتا ہے پھل اپنا ہر فصل میں اپنے رب کے حکم سے، اور اللہ مثالیں بیان کرتا ہے لوگوں کے لیے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں، اور کلمہ خبیثہ کی مثال خراب درخت کی سی ہے کہ وہ زمین کے اوپر ہی اوپر سے اکھاڑ لیا جائے، نہیں اس کو ٹھہراؤ، اللہ ثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو مضبوط بات سے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں، اور بھٹکا دیتا ہے ظالموں کو، اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ غور کیجئے تو وہ ساری مثالیں جن میں کوئی گروہ اپنی ناکامیوں کا الزام کسی دوسرے گروہ کے سر رکھ رہا ہے، وہ حقیقتاً صرف اس بات کا اعلان ہے کہ اس نے شجرہ خبیثہ کی باغبانی کی تھی۔
اگر وہ اپنی اجتماعی تعمیر کو شجرہ طیبہ کے اصول پر کھڑی کرتا تو ناممکن تھا کہ بالآخر اس کے حصے میں یہ فریاد و ماتم آئے کہ فلاں گروہ نے میرے درخت کو اکھاڑ لیا ہے۔ نمبر 3۔ سن 3 ہجری میں جب کہ غزوہ بدر پیش آیا، مسلمانوں کے سامنے دو نشانے تھے: ایک قریش کا تجارتی قافلہ جو ابو سفیان کی سرکردگی میں شام سے مکہ واپس ہو رہا تھا، اس قافلے میں 1,000 اونٹ اور 50,000 دینار کا سامان تھا۔ دوسری طرف قریش کا 1,000 کا لشکر جو مدینے کی طرف بڑھ رہا تھا، اور جس میں ابو جہل اور دوسرے بڑے بڑے سرداران قریش شامل تھے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ کیا تو کچھ مسلمانوں کا رجحان یہ سامنے آیا کہ تجارتی قافلے کی طرف بڑھا جائے۔ قریبی تاریخ میں اس رائے کا پس منظر بھی موجود تھا، کیونکہ ہجرت کے بعد تقریباً ڈیڑھ سال تک یہ لائحہ عمل رہا تھا کہ مشرکین مکہ کے تجارتی قافلے جو شام کی طرف جاتے تھے، ان پر حملہ کر کے دشمن کی اقتصادی طاقت توڑ دی جائے، اور مسلمانوں کی مالی حالت مضبوط کی جائے۔ ہجرت کے پہلے سال ابوہ، بوعط، عشیرہ وغیرہ چھوٹے چھوٹے غزوات جن کا ذکر احادیث و سیر کی کتابوں میں ملتا ہے، اسی سلسلے میں وقوع پذیر ہوئے، مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور بڑے بڑے صحابہ کی رائے یہ تھی کہ قریش کے لشکر کا مقابلہ کیا جائے۔ إِذْ يَعِدُكُمُ اللَّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَيُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِينَ انفال 7۔
جب وعدہ کر رہا تھا اللہ دو جماعتوں میں سے کہ ایک تمہارے ہاتھ آ جائے گی، اور تم چاہتے تھے کہ جس میں تم کو کانٹا نہ لگے وہ ملے، اور اللہ چاہتا تھا کہ حق کو حق کر دکھائے اپنے کلمات سے، اور منکرین کی جڑ کاٹ دے۔ عقل حیوانی کبھی سمجھ نہیں سکتی کہ مدینے کے لٹے پٹے لوگ، جو معاشیات کے انتہائی طور پر محتاج تھے، بے زور تجارتی قافلے کو چھوڑ کر اپنے سے تین گنا فوجی لشکر کا مقابلہ کرنے کے لیے نکلیں۔ صرف وہ شخص جو مقام انسانیت پر ہو، وہی سمجھ سکتا تھا کہ فوجی طاقت کو توڑنا کتنے عظیم نتائج کا حامل ہے، حتیٰ کہ خود معاشیات کا حصول بھی۔ دور رس معنوں میں اسی طریقے پر ممکن ہے، نہ کہ فوجی لشکر کو چھوڑ کر تجارتی قافلے کی طرف دوڑنے میں۔
اس میں یہ تعلیم ہے کہ فوری مفادات کی بنیاد پر اقدام نہ کیا جائے، بلکہ اپنے اقدام کے سلسلے میں ہمیشہ دور تر مفادات کو سامنے رکھا جائے، اور اس کا بھی بنیادی اصول احقاق حق اور ابطال باطل ہو، نہ کہ دنیاوی مقاصد کو حاصل کرنا۔ کیونکہ دنیاوی مقاصد تو اپنے آپ آتے ہیں، پھر ان کو نشانہ بنانے کی کیا ضرورت؟ نمبر 4۔ اجتماعی عمل کو صراط مستقیم پر چلانے کا ایک اصول یہ ہے کہ بروقت جو مواقع حاصل ہیں، ان کو استعمال کیا جائے، نہ کہ مستقبل کے حوصلوں کی بنیاد پر بڑے بڑے اقدامات کیے جاتے رہیں۔
اس اصول پر عمل کرنے کی ایک مثال صحیفہ مدینہ سن 1 ہجری ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکے سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو یہاں اہل ایمان کے علاوہ مشرکین اور یہود کی بھی ایک بڑی جماعت موجود تھی۔ اگرچہ مشرکین اور یہود کے لیے مستقبل میں یہ مقدر تھا کہ مدینے سے ان کا خاتمہ کر دیا جائے، مگر اول مرحلے میں آپ نے اس کے مقابلے میں ایک کم تر درجے کی چیز پر قناعت اختیار کی۔ آپ نے ایک صحیفہ جاری کیا جس میں ان کی موجودہ حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مسلمان اپنے طریقے پر رہیں گے اور یہود اپنے طریقے پر۔
لِلْيَهُودِ دِينُهُمْ وَلِلْمُسْلِمِينَ دِينُهُمْ یہ اصل مقصود یا اپنے اسلامی حوصلے کے اعتبار سے دوسرے درجے کی چیز تھی، مگر آپ نے پہلے مرحلے میں اسی پر قناعت کر لیا، اور بعد کے نتائج نے اس تاریخی کلیے کی تصدیق کر دی کہ جو شخص پہلے مرحلے میں دوسری چیز، دوسری بہتر چیز پر قناعت کرتا ہے، وہ بالآخر پہلی بہتر چیز کو پا کر رہتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص پہلے ہی دن پہلی بہتر چیز کے لیے دوڑ پڑے، اس کے حصے میں نہ پہلی بہتر چیز آتی ہے نہ دوسری بہتر چیز۔ نمبر 5۔ حریف کے مقابلے میں جوابی کارروائی سے آخری حد تک پرہیز کیا جائے۔
اہل اسلام کے سامنے جو مستقل پروگرام ہونا چاہیے، وہ یہ کہ مواقع حیات پر اس طرح قبضہ کیا جائے کہ فریق ثانی کے لیے میدان تنگ ہوتا چلا جائے۔ حضرت علی کی ایک روایت کے مطابق آپ نے فرمایا: وَإِلْجَاءُوهُمْ إِلَى مَضَائِقِ الطَّرِيقِ ترمذی۔ ان کو راستے میں تنگ جگہ چلنے پر مجبور کر دو۔ یہی حقیقت قرآن میں ان لفظوں میں بیان ہوئی ہے: أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا أَفَهُمُ الْغَالِبُونَ سورہ انبیاء آیت 44۔
کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو گھٹاتے جا رہے ہیں؟ اس کے کناروں سے کیا اب بھی وہی جیتنے والے ہیں؟ اس آیت میں اس صورتحال کی طرف اشارہ ہے کہ اسلام اپنی خاموش تبلیغ کے ذریعے مسلسل پھیل رہا ہے۔ مکے کی بہت سی اہم شخصیتیں مسلمان ہو چکی ہیں، مکے کے اطراف کے قبائل، غفار، مزینہ، جینا اسلام کے دائرے میں آ چکے ہیں۔
مدینہ جو اہل مکہ کی تجارتی شاہراہ پر واقع ہے، اس کے دونوں قبائل یعنی اوس و خزرج مسلمان ہو چکے ہیں۔ اس طرح مخالفین اسلام کی زمین دن بدن سکڑتی جا رہی ہے۔ اس کے برعکس اسلام کا دائرہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ اہل مکہ کے سامنے اس کے سوا کوئی راہ نہ ہوگی کہ وہ چاروں طرف کے دباؤ سے مجبور ہو کر اسلام کے آگے ہتھیار ڈال دیں۔
قرآن میں طاقت کی فراہمی کا حکم دیا گیا ہے، مگر اس لیے نہیں کہ اس کو لازماً استعمال کیا جائے، بلکہ اس لیے کہ مخالفین اسلام پر رعب و دبدبہ قائم ہو۔ سورہ انفال آیت 60۔ اسی لیے پیغمبر اسلام نے فرمایا: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ عَلَى مَسِيرَةِ شَهْرٍ مجھے ایک مہینے کی مسافت تک کے رعب سے مدد دی گئی ہے۔ یعنی مجھے ایسا طریق عمل بتایا گیا ہے جس میں استعمال طاقت کے بجائے اکثر اظہار طاقت کافی ہوتا ہے، اور محض رعب و وقار کے ذریعے فتوحات حاصل ہو جاتی ہیں۔
اسی طریق عمل کا نتیجہ تھا کہ آپ کی زندگی میں اگرچہ 80 غزوات پیش آئے، مگر باقاعدہ جنگ و قتال کی نوبت صرف 9 غزوات میں آئی۔ بقیہ غزوات زیادہ تر رعب و دبدبے کے ذریعے فتح ہوتے چلے گئے۔ موجودہ دور میں علوم کے پھیلاؤ اور صنعت و ٹیکنالوجی کی ترقی نے اس طریق عمل کے لیے بے پناہ حد تک نئے مواقع پیدا کر دیے ہیں۔ جاپان نے دوسری عالمی جنگ کے بعد اس طریقے کو استعمال کیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امریکہ کے لیے جاپان میں عرصہ حیات اس قدر تنگ ہوا کہ اس کو جاپان چھوڑ دینا پڑا، حالانکہ جاپان نے امریکہ کے خلاف کوئی فوجی یا سیاسی طاقت استعمال نہیں کی تھی۔
نمبر 6۔ اس سلسلے کا آخری مگر اہم ترین اصول حقیقت پسندی ہے۔ عام انسانی طبع کے لیے سب سے زیادہ مشکل چیز حقیقت پسندی ہوتی ہے، مگر اللہ اور اس کے رسول نے اجتماعی جدوجہد کے لیے جو طریق عمل تجویز کیا ہے، اس کا انتہائی ناگزیر جز حقیقت پسندی ہے۔ حقیقت پسندی کیا ہے؟
جذباتی ردعمل کے جوش میں اٹھ پڑنے کے بجائے عقلی فیصلے کے تحت اقدام کرنا۔ ظاہری مرغوبات کے بجائے گہرے اسباب و عوامل کو سامنے رکھ کر کام کرنا۔ قریبی مفادات کے بجائے دور تر مواقع کے پیش نظر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرنا۔ فوری کامیابیوں کے بجائے ان فیصلہ کن قوتوں کو نشانہ بنانا جن کا سراہاٹ آ جانے کے بعد مخالف کا ہر وار بے اثر ہو کر رہ جاتا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی دعوت کو جس نہج پر چلایا، اس کو کسی ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو اس کے لیے حقیقت پسندی سے زیادہ موزوں لفظ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ مکے میں آپ کے سامنے حرم کعبہ میں 360 بت، بعض روایات کے مطابق اس سے زیادہ، رکھے ہوئے تھے، مگر ان کو حرم سے نکالنے کے لیے آپ نے کوئی ایجیٹیشن نہیں چلایا۔ اطراف عرب کی سامراجی حکومتوں کے عزائم آپ کو معلوم تھے، مگر آپ نے اس کے خلاف کوئی بیان تک نہیں دیا۔ مکہ والوں نے آپ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو پرجوش قائد کی طرح آپ نے اپنے کو شہادت کے لیے نہیں پیش کر دیا، بلکہ خاموشی سے مکہ چھوڑ کر چلے گئے۔
انصار کے وفد نے جب مکہ آ کر آپ سے بیعت کی تو بیعت کی تکمیل کے بعد ان کے لیڈر نے کہا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنْ شِئْتَ لَنُمِيلَنَّ عَلَى أَهْلِ مِنَا غَدًا بِأَسْيَافِنَا اے خدا کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اگر آپ چاہیں تو ہم کل ہی اہلِ منیٰ پر اپنی تلواروں کے ذریعے حملہ کر دیں۔ تہذیب سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ 109۔ آپ نے فرمایا: ہم کو اس کا حکم نہیں دیا گیا، تم لوگ اپنی منزل گاہوں کی طرف واپس جاؤ۔
خیبر مستقل طور پر آپ کے خلاف سازش کا گڑھ بنا ہوا تھا، مگر اس وقت تک آپ نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جب تک اہلِ مکہ سے یہ معاہدہ نہ ہو گیا کہ وہ آپ کے دشمنوں کے ساتھ شریک ہو کر آپ کے خلاف جنگ نہ کریں گے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر قریش کے لیڈروں نے اتنی زیادہ اشتعال انگیزی کی کہ ایک حضرت ابوبکر کو چھوڑ کر تمام صحابہ جوش اور غصے میں بھر گئے، مگر آپ نے انتہائی صبر اور برداشت سے کام لیتے ہوئے صلح کے معاہدے پر اپنی مہر ثبت کر دی۔ قرآن میں اس صابرانہ اور حقیقت پسندانہ طریق عمل کو انتہائی اہمیت دی گئی ہے۔ سورہ ہود کے آخر میں ارشاد ہوا ہے کہ دوسرے لوگوں کی عارضی کامیابیاں تمہیں اس شبہ میں نہ ڈالیں کہ انہی کا طریق عمل زیادہ مفید ہے۔
تم کو جو طریقہ تلقین کیا گیا ہے، اس پر جمے رہو۔ اسی قسم کے شبہ میں مبتلا ہو کر یہود اختلاف میں پڑ گئے اور دوسرے راستوں کی طرف جا نکلے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صراط مستقیم ان کے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ تم ہرگز ایسا نہ کرنا، ورنہ اندیشہ ہے کہ تمہیں آگ پکڑ لے اور تم خدا کی اس مدد سے محروم ہو جاؤ جو حقیقی کامیابی کی طرف پہنچانے والی ہے۔
سورہ ہود آیت 13 تا 14۔