← Al IslamAl Islam
انفرادی صراط مستقیم
Urdu · 17 min
متفرق اور منحرف راستوں کے درمیان اللہ کا سیدھا راستہ کیا ہے؟ اس کو قرآن میں نہایت وضاحت کے ساتھ بتا دیا گیا ہے۔ انفرادی زندگی کے بارے میں بھی اور اجتماعی زندگی کے بارے میں بھی۔ قرآن کی چھٹی سورہ کا ایک ٹکڑا حسبِ ذیل ہے: قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُمَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ.
نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ. وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ. ذَٰلِكُمْ بَصَّاتُكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ. وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّهَا.
وَأَوْفُ الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ. لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا. وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبًا وَبِعَهْدِ اللَّهِ أَوْفُ. ذَٰلِكُمْ بَصَّاتُكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ.
وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوه. وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ. ذَٰلِكُمْ بَصَّاتُكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ. انعام 152 تا 53۔
کہو، آؤ میں سنا دوں جو حرام کیا ہے تم پر تمہارے رب نے: کہ شریک نہ کرو اس کے ساتھ کسی چیز کو، اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو، اور اپنی اولاد کو مار نہ ڈالو مفلسی کے ڈر سے۔ ہم روزی دیتے ہیں تم کو اور ان کو، اور نزدیک نہ جاؤ بے حیائی کے کام کے، خواہ وہ کھلا ہو یا چھپا، اور مار نہ ڈالو جان جس کو حرام کیا ہے اللہ نے مگر حق پر۔ اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سمجھو، اور نزدیک نہ جاؤ یتیم کے مال کے مگر ایسے طریقے سے جو کہ مستحسن ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے، اور ناپ اور تول کو پورا کرو انصاف کے ساتھ۔ ہم کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالتے۔
اور جب بات کہو تو حق کی کہو، گو وہ شخص قرابت دار ہی کیوں نہ ہو، اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ اللہ تم کو یہ بتاتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔ اور یہ کہ یہ ہے میرا سیدھا راستہ، سو اس پر چلو، اور مت پیروی کرو اور راہوں کی، وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گی۔ اللہ نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم خلاف ورزی سے بچو۔
یہ انفرادی زندگی کی صراط مستقیم ہے، اور اس کا خلاصہ ہے: توحید، لوگوں کے ساتھ حسن سلوک، خدا پر اعتماد، برائی سے بچنا، جان کا احترام کرنا، ظالمانہ رویے سے پرہیز، لین دین میں دیانت داری، ہر حال میں انصاف پر قائم رہنا، خدا کے ساتھ عہد بندگی کو پورا کرنا، ہر معاملے میں تقویٰ کی روش اختیار کرنا۔ جو لوگ صراط مستقیم پر ہوں، وہ اللہ کے انعام یافتہ گروہ ہیں۔ سورہ فاتحہ۔ ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لایا گیا ہے۔
سورہ ابراہیم آیت 1۔ ان کو خدا کی رحمت اور فضل میں سے خصوصی حصہ ملا ہے۔ سورہ نساء آیت 175۔ حتیٰ کہ ان پر خدا کی نعمتوں کا اتمام کر دیا گیا ہے۔
سورہ فتح آیت 2۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ ان خصوصیات کے حامل ہوں، ان کی زندگیاں عام انسانوں جیسی نہیں ہو سکتیں۔ ضروری ہے کہ ان کی زندگی میں یہ یافت مختلف شکلوں میں ظاہر ہو۔ نمبر 1۔
اس سلسلے میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ انہیں اعلیٰ ایمانی کیفیات حاصل ہوتی ہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ ابن رواحہ نے ایک شخص سے کہا: تَعَالَ نُؤْمِنْ سَاعَةً آؤ ہم تھوڑی دیر کے لیے ایمان لائیں۔ یہ سن کر وہ آدمی بگڑ گیا: کیا ہم مومن نہیں ہیں؟ أَوَ لَسْنَا بِمُؤْمِنِينَ؟
اس نے کہا۔ ابن رواحہ نے جواب دیا: بے شک ہم مومن ہیں، مگر جب ہم اللہ کا تذکرہ کرتے ہیں تو ہمارے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور شکایت کی کہ ابن رواحہ عجیب آدمی ہیں، وہ آپ کے ایمان کو چھوڑ کر ایک ساتھ کے ایمان کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: يَرْحَمُ اللَّهُ إِبْنَ رَوَاحَةِ إِنَّهُ يُحِبُّ الْمَجَالِسَ الَّتِي تَتَابَاهَا بِهَا الْمَلَائِكَةُ احمد، انس، ابن مالک۔
اللہ ابن رواحہ پر رحم کرے، وہ ایسی مجالس کو پسند کرتے ہیں جن پر فرشتے بھی فخر کرتے ہیں۔ حضرت ابن رواحہ نے جو بات کہی، وہ برتر ایمانی کیفیت کا ایک جملہ تھا، مگر جو شخص قانونی اسلام کے مقام پر تھا، وہ اس کو سمجھ نہ سکا۔ نمبر 2۔ ایسے لوگوں کے لیے ایمان یہ معنی رکھتا ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کے سپرد کر دیا ہے۔
یہ اندیشہ انہیں تڑپا دیتا ہے کہ وہ ایسی زندگی گزاریں جو خدا کی راہ سے ہٹی ہوئی ہو۔ قرآن میں جب یہ آیت اتری: وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ سورہ توبہ آیت 34۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تَبًّا لِلذَّهَبِ تَبًّا لِلْفِضَّةِ خرابی ہو سونے کے لیے، خرابی ہو چاندی کے لیے۔ آپ کے اصحاب پر یہ بات بہت شاخ گزری، انہوں نے آپس میں کہا: فَأَيُّ مَالٍ نَتَّخِذُ؟
اب ہم کس مال کو جمع کریں؟ اس کے بعد حضرت عمر اس مسئلے کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا: لِيَتَّخِذَ أَحَدُكُمْ لِسَانًا ذَاكِرًا وَقَلْبًا شَاكِرًا وَزَوْجَةً مُؤْمِنَةً تُعِينُ أَحَدُكُمْ عَلَى إِيمَانِهِ تفسیر ابن کثیر جلد 2 صفحہ 351۔ تم میں سے ہر ایک یہ کرے کہ یاد کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل، اور ایسی بیوی اختیار کرے جو آدمی کے ایمان پر اس کی مدد کرے۔ نمبر 3۔
اس کے اندر اعتراف کا مادہ کمال درجے میں پیدا ہو جاتا ہے۔ جابر ابن الارزخ غازری، ایک صحابی، وہ اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سفر میں آپ کے ساتھ ہو گئے۔ راستے میں ایک جگہ آپ نے قیام فرمایا اور سواری سے اتر کر اپنے چمڑے کے خیمے میں داخل ہو گئے۔ خیمے کے دروازے پر لوگوں کا ہجوم ہو گیا۔
وہ کہتے ہیں کہ مجھے ایک شخص نے دھکا دے کر دروازے سے ہٹانا چاہا، میں نے کہا: اب اگر تو نے مجھے دھکا دیا تو میں بھی تجھے دھکا دوں گا، اور اگر تو نے مجھے مارا تو میں بھی تجھے ماروں گا۔ یہ سن کر وہ آدمی بولا: يَا أَشَرَّ الرِّجَالِ اے لوگوں میں سب سے زیادہ شریر! میں نے کہا: خدا کی قسم، تو مجھ سے زیادہ شریر ہے۔ اس نے کہا: تم نے یہ بات کیسے کہی؟
میں یمن کے اطراف سے آ رہا ہوں تاکہ رسول اللہ سے کچھ سنوں اور واپس جا کر ان لوگوں سے بیان کروں جو میرے پیچھے ہیں، اور تو ہے کہ مجھے روک رہا ہے۔ یہ سنتے ہی جابر ابن الازرخ غازری کا جوش ٹھنڈا ہو گیا، فوراً ان کی زبان سے نکلا: صَدَقْتَ نَعَمْ وَاللَّهِ لَأَنَا شَرٌّ مِنْكَ كَنْزُ الْأَمَّالِ ہاں، تو نے سچ کہا، خدا کی قسم، میں تجھ سے زیادہ شریر ہوں۔ نمبر 4۔ وہ اپنے حقوق سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں کو دیکھنے لگتا ہے۔
مسند امام احمد میں ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی ایک مقدمہ لے کر آئے، ایک وراثتی جائیداد پر دونوں جھگڑ رہے تھے، ہر ایک کہتا تھا کہ یہ میری ہے، جبکہ دونوں میں سے کسی کے پاس اپنے حق میں واضح ثبوت نہیں تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنے مقدمے میرے پاس لاتے ہو، مگر میں انسان ہوں، ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی زیادہ بہتر وکالت کرنا جانتا ہو، اور اس کی باتوں کو سن کر میں اس کے حق میں فیصلہ دے دوں۔ مگر یاد رکھو، اگر میں نے کسی کو اس کے بھائی کا حق دیا ہوگا تو قیامت کے دن وہ اس کے لیے آگ کا ٹکڑا ثابت ہوگا۔ آپ کی زبان سے یہ سنتے ہی دونوں شخص رو پڑے، اور دونوں کا یہ حال ہوا کہ ہر ایک کہنے لگا کہ میرا حق میرے بھائی کے لیے، میرا حق میرے بھائی کے لیے، حَقِّي لِأَخِي حَقِّي لِأَخِي نمبر 5۔
اس آدمی کے اندر وہ بلند نظری پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنے چھوٹوں کا بھی اس طرح لحاظ کرنے لگتا ہے، گویا کہ وہ اس سے بڑے ہوں۔ امیر معاویہ نے اپنے زمانہ حکومت میں ایک بار ایک انصاری کے پاس 500 دینار بھیجے، انصاری کو یہ مقدار کم معلوم ہوئی، انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا: ان کو لے کر معاویہ کے پاس جاؤ اور ان کے منہ پر مار کر واپس کر دو۔ انہوں نے اپنے لڑکے کو قسم دلائی کہ وہ ایسا ہی کرے۔ وہ رقم لے کر امیر معاویہ کے پاس آیا اور کہا: اے امیرالمومنین، میرے باپ نے مجھے ایسا حکم دیا ہے، اور میں اس کی مخالفت کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔
امیر معاویہ نے اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیا اور کہا: جو کچھ تیرے باپ نے کہا ہے، اس کی تعمیل کر، مگر اپنے چچا سے ذرا نرمی کا سلوک کرنا۔ لڑکے کو شرم آ گئی اور دینار علیحدہ پھینک کر چلا آیا۔ امیر معاویہ نے اس کے بعد تعداد کو دگنا کر کے اسے انصاری کے پاس بھیج دیا۔ تاریخ الفخری۔
نمبر 6۔ اس سے وہ حقیقت شناسی پیدا ہوتی ہے کہ معمولی آدمی بھی ایسی باتیں کرنے لگے جو بڑے بڑے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیں۔ حضرت عمر کی خلافت کے زمانے میں جب سعد ابن ابی وقاص نے قادسیہ یعنی فارس پر چڑھائی کی، اس زمانے میں فارسی سپہ سالار رستم اور ان کے درمیان قاصدوں کا تبادلہ ہوا۔ اسی دوران ایک قاصد جب اپنے معمولی سر و سامان کے ساتھ رستم کے پر شوکت دربار میں پہنچا تو وہ اس کو حقیر دکھائی دیا۔
اس نے اس کے نیزے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ تکلے کی طرح تمہارے ہاتھ میں کیا چیز ہے؟ قاصد نے اطمینان کے ساتھ جواب دیا: انگارے کے لیے اس کا چھوٹا ہونا اس میں کوئی کمی پیدا نہیں کرتا۔ تاریخ الفخری۔ نمبر 7۔
اس سے وہ نظر پیدا ہوتی ہے کہ آدمی دشمن کی باریک ترین چالوں کو بھی دیکھ سکے۔ حضرت عمر کے ساتھ ہجرت کرنے والوں میں ایک شخص عیاش ابن ربیعہ تھے۔ قریش کو جب معلوم ہوا کہ وہ مدینہ پہنچ گئے تو ابوجہل ابن ہشام اور حارث ابن ہشام، جو ان کے رشتہ دار تھے، ان کے پیچھے مدینہ پہنچے اور عیاش ابن ربیعہ سے کہا کہ تم ہمارے ساتھ مکہ واپس چلو، تمہاری ماں کو تمہارے چلے آنے کا بہت صدمہ ہے۔ اس نے قسم کھائی ہے کہ جب تک تمہیں نہیں دیکھے گی، نہ بالوں میں کنگھی کرے گی اور نہ سائے کے نیچے جائے گی۔
حضرت عمر بات کی تہہ کو پہنچ گئے۔ انہوں نے عیاش ابن ربیعہ سے کہا کہ یہ تم کو واپس لے جانے کی سازش ہے، تمہیں ان باتوں سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ فَوَاللَّهِ لَوْ قَدْ أَذَىٰ أُمَّكَ الْقُمَّةُ لَمْ تَشَطَبْ وَلَوْ قَدْ اِشْتَدَّ عَلَيْهَا حَرُّ مَكَّةَ لَسْتَ ضَلَّتْ البدایہ والنہایہ جلد 3۔ خدا کی قسم، تمہاری ماں کو جو کاٹے گی تو وہ ضرور کنگھی کرے گی، اور جب مکے کی گرمی ستائے گی تو وہ ضرور سائے میں جائے گی۔
مگر عیاش ابن ربیعہ کی سمجھ میں نہیں آیا، وہ مکہ واپس گئے اور وہاں لوگوں نے انہیں فتنے میں مبتلا کر دیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے اس اجر عظیم سورہ طلاق آیت 5 کی خوشخبری دی گئی ہے کہ ان کی سیئات بھی حسنات میں تبدیل کر دی جاتی ہیں۔ سورہ فرقان آیت 70۔ حقیقت یہ ہے کہ غلطیاں ہر ایک سے سرزد ہوتی ہیں، مومن سے بھی اور غیر مومن سے بھی، مگر جس کو حقیقی مقام عبدیت حاصل ہو جاتا ہے، اس سے جب غلطی ہوتی ہے تو اس کے بعد وہ دگنی شدت کے ساتھ خدا کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔
اس طرح اس کی غلطی اس کو نئی شدید تر ایمانی کیفیت سے لبریز کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس دوسرا گروہ غلطیوں کے اندھیرے میں گم رہتا ہے، اس کی غلطیاں اس کو نئی ایمانی خوراک دینے کے بجائے صرف اس کی قصاوت میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُمْ مُبْصِرُونَ وَإِخْوَانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ اعراف 201 تا 202۔ یقینا جو لوگ ڈر رکھتے ہیں، جب پڑتا ہے ان پر شیطان کا گزر، وہ چونک جاتے ہیں۔
سو یکایک ان کو سوجھ آ جاتی ہے، اور جو شیطان کے بھائی ہیں، وہ ان کو گمراہی میں کھینچے چلے جاتے ہیں، پھر کمی نہیں کرتے۔