Maulana Wahiduddin Khan
16 min left
0:00

← Al Islam
Al Islam

دین اور شریعت کا فرق

Urdu · 16 min

الدین کیا ہے؟ یہ توحید ہے، یعنی ایک ہستی کو خالق و مالک ماننا، اسی کو اپنی تمام توجہات کا مرکز و محور بنانا، اسی کو اپنا سب کچھ سمجھنا، اسی کے آگے اپنے آپ کو جھکا دینا؛ یہی دین کا اصل سرا ہے۔ اس کا ہاتھ آنا تمام چیزوں کا ہاتھ آنا ہے۔ یہ اگر چھوٹ جائے تو کوئی بھی چیز آدمی کے حصے میں باقی نہیں رہتی، خواہ ظاہرداری اور جدال کی سطح پر وہ اپنے آپ کو کتنا ہی دین دار ثابت کر رہا ہو۔

قرآن میں اقامت دین کا جو حکم دیا گیا ہے، وہ اسی الدین سے متعلق ہے۔ سورہ شوریٰ کی اس آیت میں اقامت دین سے مراد دراصل اقامت توحید ہے، یعنی بندے کو حقیقی معنوں میں خدا سے جوڑنا، اس کو وحدہ لا شریک کا راستہ سچا پرستار بنانا۔ اگر کوئی گروہ عبادت کے جزئی اور اختلافی مسائل پر فقہی نزاع کھڑی کرے، یا دین قائم کرنے کے نام پر حکمران جماعت سے سیاسی مقابلہ آرائی شروع کر دے، تو یہ اقامت دین نہیں ہوگا، بلکہ قرآن کے الفاظ میں سبل متفرقہ کا اتباع ہوگا، جو دین میں قطعاً ممنوع ہے۔ اس قسم کے ذیلی اور اختلافی امور پر معرکے کھڑے کرنا امت کی وحدت کو ختم کر دینا ہے۔

اس قسم کے ذیلی اور اختلافی امور پر معرکے کھڑے کرنا امت کی وحدت کو ختم کر دیتا ہے۔ امت فرقوں فرقوں میں بٹ کر اللہ کی اجتماعی نصرت سے محروم ہو جاتی ہے۔ اقامت دین متفق علیہ مسئلے کے لیے جدوجہد کرنے کا نام ہے، نہ کہ مختلفی مسائل کو لے کر مسلمانوں میں جدال و نزاع برپا کرنے کا۔ الدین سے مراد اصلًا اگرچہ توحید ہے، تاہم طبعًا اس میں وہ تمام مسائل شامل ہوتے چلے جائیں گے جو قرآن و سنت کے مطابق متفق علیہ ہوں، اور جن میں ایک سے زیادہ رائےوں کی گنجائش نہ ہو۔

مثلاً خدا کے وجود، اس کی وحدانیت، اس کی ربوبیت کو لوگوں کے سامنے لایا جائے، تو اس سے امت میں کوئی اختلاف واقع نہیں ہوگا، کیونکہ یہ عقائد محکم آیات و احادیث سے ثابت ہیں۔ اس کے برعکس اگر اس قسم کی بحثیں نکالی جائیں کہ خدا جسم رکھتا ہے یا نہیں، خدا کا عرش کہاں قائم ہے، خدا اپنا نظیر پیدا کرنے پر قادر ہے یا نہیں، وغیرہ، تو ان چیزوں میں کبھی تمام امت متفق الرائے نہیں ہو سکتی، کیونکہ یہ تمام چیزیں استنباطی نوعیت کی ہیں۔ ان میں خوض کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کسی کا استنباط اس کو ایک رائے کی طرف لے جائے گا، کسی کا دوسری طرف۔ اس طرح مختلف تعبیرات وجود میں آئیں گی۔

ہر تعبیر کے گرد اہل ایمان کا ایک گروہ جمع ہو جائے گا۔ ایک دین کے اندر کئی دین بن جائیں گے۔ اگر اول الذکر معتقدات کی تلقین کی جائے تو یہ اقامت دین ہوگا۔ اس کے برعکس اگر ثانی الذکر قسم کی اتحادی موشگافیاں کی جانے لگیں، تو یہ قرآن کے الفاظ میں تفریق فی الدین ہے: پہلی چیز مطلوب ہے اور دوسری چیز غیر مطلوب۔

یہی معاملہ ان امور کا ہے جن کو عبادات کہا گیا ہے۔ مثلاً نماز کے لیے وضو کا لازمی ہونا ایک متفق علیہ مسئلہ ہے، مگر اس کے ارکان و شروط کی تعداد کے بارے میں ایک سے زیادہ رائے ہیں۔ سنن و مستحبات کی تعداد تو درکنار، فرائض وضو کی تعداد کے بارے میں بھی فقہاء متفق الرائے نہیں ہیں۔ حنفیہ کے نزدیک فرائض وضو چار ہیں، مالکیہ کے نزدیک سات، شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک چھ۔

الفقہ علی المذاہب الاربع۔ اب اگر ان اختلافی امور میں تعداد کے تعین کو بحث و مباحثے کا موضوع بنایا جائے، تو مسئلے کے استنباطی ہونے کی وجہ سے ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ ان کی تعداد کے بارے میں سب کی رائے ایک ہو جائے۔ اس قسم کی کوشش اتحاد عملاً صرف اختلاف و انتشار پیدا کرنے کا سبب بنے گی۔ یہ ایک امت کو کئی امتوں میں تقسیم کر دے گی۔

اس لیے حکم دیا گیا کہ امور اتفاقی کو مدار دعوت بناؤ، امور اختلافی کو مدار دعوت نہ بناؤ۔ یہی معاملہ اسلامی سیاست کا ہے۔ اگر ایک شخص ایسا کرے کہ اپنے حکمرانوں کی اصلاح کے لیے اللہ سے دعا کرے، ان سے انفرادی ملاقات کر کے ان کو خدا پرستی اور آخرت پسندی کی تلقین کرے، سنجیدہ انداز میں تحریر و تقریر کے ذریعے اسلامی سیاست کے پہلوؤں کو نمایاں کرے، تو اس سے امت میں کوئی تفریق وجود میں نہیں آئے گی۔ اس کے برعکس اگر کچھ لوگ احتجاج و مطالبات کا جھنڈا لے کر کھڑے ہو جائیں اور سیاسی محاذ بنا کر حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی تحریک چلانے لگیں، تو اس کے نتیجے میں لازماً یہ ہوگا کہ امت فرقوں فرقوں میں بٹ جائے گی۔

ایک فرقہ حکمرانوں کا ساتھ دینے والوں کا ہوگا، دوسرا اس کو اقتدار سے ہٹانے والوں کا۔ اس طرح امت دو جتھوں میں بٹ کر ایک دوسرے سے لڑنا شروع کر دے گی۔ اقامت دین کے نام پر تفریق فی الدین وجود میں آ جائے گا۔ وضو کے آداب و قواعد کی تعداد کا معاملہ ایک استنباطی معاملہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس کے تعین کے بارے میں اہل علم کی کئی رائیں ہو گئی ہیں۔ یہی کیفیت امت مسلمہ کے سیاسی مشن کی ہے۔ یہ بھی تمام تر ایک استنباطی معاملہ ہے۔ کیونکہ قرآن و حدیث میں کوئی نس ایسی موجود نہیں ہے جو سیاسی مشن کی نوعیت کو صراحتاً متعین کر رہی ہو۔

اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اس باب میں اہل علم کی رائےوں میں تعدد پایا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے کے ایک گروہ کا اصرار ہے کہ امت مسلمہ کا اصلی نصب العین یہ ہے کہ حکومت اسلامی کے قیام کی جدوجہد کی جائے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ حکومت ایک امر موعود ہے، یعنی وہ اللہ کی طرف سے بطور انعام ملتی ہے، نہ کہ اس کو نشانہ بنا کر براہ راست جدوجہد کرنے سے۔ ایک اور طبقہ یہ کہتا ہے کہ اصل کام اصلاح معاشرہ ہے، نہ کہ اصلاح حکومت۔

معاشرے کی اصلاح ہو جائے تو خود بخود صالح حکومت قائم ہو جائے۔ ان نظری اختلافات کے علاوہ حکومت کا معاملہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں شدید عملی نزاکتیں بھی شامل ہیں۔ جب بھی کسی برسر اقتدار گروہ کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کی جائے گی، وہ لازماً اپنی طاقت کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرے گا۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر باہمی قتل و خون وجود میں آئے گا۔

اقامت دین عملاً تفریق فی الدین پر منتج ہوگا۔ شریعت کا ایسا معاملہ جس میں ایک سے زیادہ نقطہ نظر قائم کرنے کی گنجائش ہو، اس میں تمام لوگوں کو ایک جھنڈے کے نیچے لانے کی کوشش ہمیشہ یہ نتیجہ پیدا کرتی ہے کہ کئی جھنڈے وجود میں آ جاتے ہیں۔ اس لیے ہمیشہ کے لیے حکم دیا گیا کہ اختلافی امور کو مدار تحریک نہ بناؤ، صرف اتفاقی امور پر اپنی تحریکوں کی بنیاد قائم کرو۔ انہی اسباب کی بنا پر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ صدر اول کے بعد خلافت ملوکیت میں تبدیل ہو گئی اور ہزار برس تک چلتی رہی، مگر صلحائے امت نے کبھی اس کے خلاف خروج نہیں کیا۔

انہوں نے حکمرانوں کو انفرادی نصیحتیں کیں، مگر ان کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے کوئی ایجیٹیشن نہیں چلایا۔ یہ صرف عصر حاضر کی نظامی تحریکوں کی دین ہے کہ مسلمانوں میں ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو سیاسی انقلاب کو امت مسلمہ کا اصل مشن بتاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہر مسلم ملک میں مسلمانوں کے دو جتھے بن گئے ہیں: ایک حکمران گروہ کا، دوسرا ان کے مخالف انقلابیوں کا۔ دونوں مسلم گروہوں کے درمیان لامتناہی سیاسی جنگ جاری ہے، جو حرص اور نسل کی ہلاکت (سورہ بقرہ آیت 202) کے سوا کوئی اور تحفہ مسلمانوں کو نہیں دے رہی ہے۔

اور یہ سب کچھ ہو رہا ہے اقامت دین کے نام پر۔ سیاسی مشن کی نوعیت کے بارے میں علمائے امت کے درمیان کئی رائے کا پایا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی تحریکات کا مسئلہ سبل متفرقہ کے ذیل کا مسئلہ ہے، نہ کہ الدین کے ذیل کا مسئلہ۔ اس لیے ایک مصلح کے لیے یہ تو درست ہے کہ وہ مسلم حکمرانوں کے اندر بگاڑ دیکھے، تو ناصحانہ انداز سے اس کو اصلاح حال کی تلقین کرے۔ مگر دین کی اقامت کا نام لے کر حکمرانوں سے سیاسی ٹکراؤ کرنا کتاب اللہ سے انحراف کے ہم معنی ہے۔

یہ سبل متفرقہ کا اتباع ہے، نہ کہ حقیقتاً اقامت دین۔ اس تقسیم کا یہ مطلب نہیں کہ دین میں صرف کلیات مطلوب ہیں، جزئیات مطلوب نہیں ہیں۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ دین میں مطلوب حقیقی اور مطلوب اضافی کا جو فرق ہے، اس کو ملحوظ رکھا جائے۔ حقیقی حصے میں تاکید و تشدید کرتے ہوئے اس کے اضافی اجزاء میں توسع اور رواداری کا طریقہ اختیار کیا جائے۔

اس کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ کھانے کے سلسلے میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ حرام و حلال کے درمیان فرق کیا جائے۔ صرف حلال چیزوں کو اپنی غذا بنایا جائے اور حرام چیز کو حلق کے نیچے نہ اتارا جائے۔ دوسرا مسئلہ آداب طعام کا ہے۔

مثلاً ہاتھ سے کھایا جائے یا چمچے سے۔ فرش پر کھایا جائے یا میز کرسی پر۔ جوتا پہن کر کھایا جائے یا جوتا اتار کر، وغیرہ۔ پہلا مسئلہ کلیات دین کا مسئلہ ہے۔

اللہ نے نام لے کر متعین طور پر بتا دیا ہے کہ بندے کے لیے کیا چیز حلال ہے اور کیا حرام۔ مگر جہاں تک دوسری چیز کا تعلق ہے، اس میں اس قسم کی تعیناتی زبان استعمال نہیں کی گئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ اور اصحاب کرام کی زندگیوں میں اس سلسلے میں ایک سے زیادہ نمونے ملتے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر ایک شخص حرام و حلال کے منسوس احکام کو تاکید و تشدید کا موضوع بنائے تو امت میں فرقہ بندی کی نوبت نہیں آئے گی، کیونکہ یہ عملاً انہی چیزوں کی تاکید و تشدید ہوگی جو تمام علمائے امت کے درمیان پہلے سے متفق علیہ ہیں۔

رائے کی حد تک ان کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ اس کے برعکس اگر آداب طعام کے مسائل پر تاکید و تشدید کی جانے لگے تو ساری امت کا کسی ایک مسلک پر متحد الرائے ہونا ممکن نہ ہوگا۔ مثال کے طور پر ایک شخص کہے گا کہ جوتا اتار کر کھانا ضروری ہے، کیونکہ حدیث میں ہے: "اخلعوا انعالکم"۔ دوسری طرف کسی اور کو یہ کہنے کا موقع ہوگا کہ یہ کوئی جائز ناجائز کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ضرورت کا معاملہ ہے۔

جس میں سہولت ہو، ویسا کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ پوری حدیث اس طرح ہے: "اخلعوا نعالکم فإنها أرواح لأقدامكم"۔ اپنے جوتے اتار دو، کیونکہ اس میں تمہارے پیروں کے لیے زیادہ راحت ہے۔ اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ "کلو من الطیبات واعملوا صالحا"۔

مومنون 51 پر تو خوب زور دیا جائے۔ مگر آداب طعام کی نوعیت کی چیزوں میں رواداری اور توسع کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ تحریک اہل حدیث اپنی اصلی اور ابتدائی شکل میں اسی کا نام تھی، اگرچہ بعد کو وہ اس مسلک پر قائم نہ رہ سکی۔ کم از کم عوام کی سطح پر یہی صورتحال ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.