۞وَمِنۡهُم مَّنۡ عَٰهَدَ ٱللَّهَ لَئِنۡ ءَاتَىٰنَا مِن فَضۡلِهِۦ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
And among them are those who made a covenant with Allah, [saying], "If He should give us from His bounty, we will surely spend in charity, and we will surely be among the righteous
Tha‘laba ibn Hathib Ansari requested the Prophet Muhammad to pray to God to bless him with wealth. The Prophet said that to be grateful to God for less wealth is better than acquiring a lot of wealth and then being unable to be grateful to Him. But Tha‘laba repeated his request several times. So, the Prophet prayed, ‘O God, bless Tha‘laba with wealth.’ Thereafter, Tha‘laba reared a goat. The breed of goats increased to such an extent that the land of Madinah could not provide enough fodder for his goats. Tha‘laba then shifted to a valley outside Madinah. Now Tha‘laba started becoming remiss in his Islamic observances. First of all he missed the congregational prayers. Then he missed the Friday prayers. A stage came when an official on behalf of the Prophet Muhammad approached Tha‘laba to collect alms (zakat) and he refused, saying, ‘This is nothing but a capital tax (jizyah); this is in no way different from the tax levied on those who deny the truth.’
ثعلبہ بن حاطب انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے ليے دعاکیجيے کہ خدا مجھے ما ل دے دے۔ آپ نے فرمایا: تھوڑے مال پر شکر گزار ہونا اس سے بہتر ہے کہ تم کو زیادہ مال ملے اور تم شکر ادا نہ کرسکو۔ مگر ثعلبہ نے بار بار درخواست کی چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ خدایا، ثعلبہ کو مال دے دے۔ اس کے بعد ثعلبہ نے بکری پالی۔ اس کی نسل اتنی بڑھی کہ مدینہ کی زمین ان کی بکریوں کے لیے تنگ ہوگئی۔ ثعلبہ نے مدینہ کے باہر ایک وادی میں رہنا شروع کیا۔ اب ثعلبہ کے اسلام میں کمزوری آنا شروع ہوئی۔ پہلے ان کی جماعت کی نماز چھوٹی۔ پھر جمعہ چھوٹ گیا۔ حتی کہ یہ نوبت آئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عامل ثعلبہ کے پاس زکوٰۃ لینے کے لیے گیاتو ثعلبہ نے زکوٰۃ نہیں دی اور کہا کہ زکوٰۃ تو جزیہ کی بہن معلوم ہوتی ہے (مَا هَذِهِ إِلا جِزْيَةٌ، مَا هَذِهِ إِلا أُخْتُ الْجِزْيَةِ )أسد الغابہ فی معرفة الصحابہ، جلد1، صفحہ
462
۔
وہ شخص خدا کی نظر میں منافق ہے جس کا حال یہ ہو کہ وہ مال کے ليے خدا سے دعائیں کرے اور جب خدا اس کو مال والا بنا دے تو وہ اپنے مال میں خدا کا حق نکالنا بھول جائے۔ آدمی کے پاس مال نہیں ہوتا تو وہ مال والوں کو برا کہتا ہے کہ یہ لوگ مال کو غلط کاموں میں برباد کرتے ہیں ۔ اگر خدا مجھ کو مال دے تو میں اس کو خیر کے کاموں میں خرچ کروں ۔ مگر جب اس کے پاس مال آتاہے تو اس کی نفسیات بدل جاتی ہے۔ وہ بھول جاتاہے کہ پہلے اس نے کیا کہا تھا اور کن جذبات کا اظہار کیا تھا۔ اب وہ مال کو اپنی محنت اور لیاقت کا نتیجہ سمجھ کر تنہا اس کا مالک بن جاتا ہے۔ خدا کا حق ادا کرنا اسے یاد نہیں رہتا۔
اس قسم کے لوگ اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے ليے مزید سرکشی یہ کرتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں جو خدا کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں ۔ کسی نے زیادہ دیا تو اس کو ریا کار کہہ کر گراتے ہیں ۔ اور کسی نے اپنی حیثیت کی بنا پر کم دیا تو کہتے ہیں کہ خداکو اس آدمی کے صدقہ کی کیا ضرورت تھی۔ جو لوگ اتنا زیادہ اپنے آپ میں گم ہوں انھیں اپنے آپ سے باہر کی اعلیٰ تر حقیقتیں کبھی دکھائی نہیں دیتیں ۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →