وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا وَمَسَٰكِنَ طَيِّبَةٗ فِي جَنَّـٰتِ عَدۡنٖۚ وَرِضۡوَٰنٞ مِّنَ ٱللَّهِ أَكۡبَرُۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
Allah has promised the believing men and believing women gardens beneath which rivers flow, wherein they abide eternally, and pleasant dwellings in gardens of perpetual residence; but approval from Allah is greater. It is that which is the great attainment
The common qualities of the people of faith as mentioned in the above verse bring them together. They all run towards God. Everyone’s focus of obedience is the Prophet of God. When they meet each other, these are the things of common interest on which they talk; and solely on these bases are their mutual relations built up. These are the things which provide them with the goal towards which they have to strive unitedly; this furnishes them with the target towards which they have to move all together. The life of the people of Faith in this world is symbolic of their life in the Hereafter. In this world, the people of faith live like so many flourishing trees standing in a lush green garden; everyone adds to the beauty of the other. Every believer is the well-wisher and companion of other believers, so much so, that the whole atmosphere becomes that of an abode of peace and tranquillity. This godly life will turn into the heavenly life in the Hereafter. There, the believer will not only reap the harvest sown by him, but will also receive such bounty by the special grace of God as he had never hitherto imagined.
منافقانہ طورپر اسلام سے وابستہ رہنے والے لوگوں میں جو خصوصیات ہوتی ہیں وہ ہیں آخرت سے غفلت، دنیوی ضرورتوں سے دل چسپی، بھلائی کے ساتھ تعاون سے دوری اور نمائشی کاموں کی طرف رغبت۔ ان مشترک خصوصیات کی وجہ سے وہ ایک دوسرے سے خوب ملے جلے رہتے ہیں ۔ یہ چیزیں ان کو مشترک دل چسپی کا موضوعِ گفتگو دیتی ہیں ۔ اس سے انھیں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا میدان حاصل ہوتا ہے۔ یہ ان کے ليے باہمی تعلقات کا ذریعہ بنتا ہے۔
یہی معاملہ ایک اور شکل میں سچے اہل ایمان کاہوتاہے۔ ان کے دل میں خدا کی لگن لگی ہوئی ہوتی ہے۔ ان کو سب سے زیادہ آخرت کی فکر ہوتی ہے۔ وہ دنیا کی چیزوں سے بطور ضرورت تعلق رکھتے ہیں نہ کہ بطور مقصد، خدا کی پسند کا کام ہورہا ہو تو ان کا دل فوراً اس کی طرف کھینچ اٹھتا ہے۔ برائی کا کام ہو تو اس سے ان کی طبیعت اِبا کرتی ہے۔ ان کی زندگی اور ان کا اثاثہ سب سے زیادہ خدا کے ليے ہوتا ہے، نہ کہ اپنے ليے۔ وہ خدا کی یاد کرنے والے اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے ہوتے ہیں ۔
اہل ایمان کے یہ مشترک اوصاف انھیں ایک دوسرے سے قریب کردیتے ہیں ۔ سب کی دوڑ خدا کی طرف ہوتی ہے۔ سب کی اطاعت کا مرکز خدا کا رسول ہوتا ہے۔ جب وہ ملتے ہیں تو یہی وہ باہمی دلچسپی کی چیزیں ہوتی ہیں جن پر وہ بات کریں ۔انھیں اوصاف کے ذریعہ وہ ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں ۔ اسی کی بنیاد پر ان کے آپس کے تعلقات قائم ہوتے ہیں ۔ اسی سے انھیں وہ مقصد ہاتھ آتا ہے جس کے ليے وہ متحدہ کوشش کریں ۔ اسی سے ان کو وہ نشانہ ملتاہے، جس کی طرف سب مل کر آگے بڑھیں ۔
دنیا میں اہلِ ایمان کی زندگی ان کی آخرت کی زندگی کی تمثیل ہے۔ دنیا میں اہل ایمان اس طرح جیتے ہیں جیسے ایک باغ میں بہت سے شاداب درخت کھڑے ہوں ۔ ہر ایک دوسرے کے حسن میں اضافہ کررہا ہو۔ ان درختوں کو فیضانِ خداوندی سے نکلنے والے آنسو سیراب کررہے ہوں ۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا اس طرح خیرخواہ اور ساتھی ہو کہ پورا ماحول امن وسکون کا گہوارہ بن جائے۔ یہی ربانی زندگی آخرت میں جنتی زندگی میں تبدیل ہوجائے گی۔ وہاں آدمی نہ صرف اپنی بوئی ہوئی فصل کاٹے گا بلکہ خدا کی خصوصی رحمت سے ایسے انعامات پائے گا جن کا اس سے پہلے اس نے تصور نہیں کیا تھا۔