مَا كَانَ لِأَهۡلِ ٱلۡمَدِينَةِ وَمَنۡ حَوۡلَهُم مِّنَ ٱلۡأَعۡرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ ٱللَّهِ وَلَا يَرۡغَبُواْ بِأَنفُسِهِمۡ عَن نَّفۡسِهِۦۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ لَا يُصِيبُهُمۡ ظَمَأٞ وَلَا نَصَبٞ وَلَا مَخۡمَصَةٞ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا يَطَـُٔونَ مَوۡطِئٗا يَغِيظُ ٱلۡكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنۡ عَدُوّٖ نَّيۡلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُم بِهِۦ عَمَلٞ صَٰلِحٌۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
It was not [proper] for the people of Madinah and those surrounding them of the bedouins that they remain behind after [the departure of] the Messenger of Allah or that they prefer themselves over his self. That is because they are not afflicted by thirst or fatigue or hunger in the cause of Allah, nor do they tread on any ground that enrages the disbelievers, nor do they inflict upon an enemy any infliction but that is registered for them as a righteous deed. Indeed, Allah does not allow to be lost the reward of the doers of good
Our life is social in nature. That is why everyone, according to his tastes and aptitudes, forms a circle of his own in which to spend his days and nights. It is necessary for those who fear God and want to tread the path of faith to befriend those who are sincere, truthful, and God-fearing, and who are consistent in their words and deeds. By keeping company with such people, one is transformed into a truthful person too. On the contrary, if one seeks the company of insincere, hypocritical persons, one will necessarily come under their influence. There are times when Islam has to be served by risking one’s life; there are times when Islam has to be served at the cost of suffering the pangs of hunger and thirst; there are times when one is exhausted struggling for the cause of God; there are times when one has to serve God and His prophet by sacrificing one’s peace of mind. On such occasions one feels like opting for the safer course and hesitates to go ahead and answer the call of one’s faith. One is oblivious of the fact that those were the very opportunities to give practical proof of one’s attachment to God, when by doing so, one could have expected to be found worthy of paradise.
انسانی زندگی اجتماعی زندگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آدمی کا اپنے ذوق اور رجحان کے اعتبار سے ایک حلقہ بن جاتاہے جس میں وہ اپنے روز وشب گزارتا ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہوں اور ایمان کے راستہ پر چلنا چاہیں ان کے ليے لازم ہے کہ وہ اپنی صحبتوں اور ملاقاتوں کے لیے ان لوگوں کو چنیں جو سچے لوگ ہوں ۔ یعنی جن کے دل کا خوفِ خدا ان کی زندگی کی روش بن گیا ہو۔ جن کے قول اور عمل کے درمیان مطابقت پائی جاتی ہو۔ سچوں کے ساتھ رہ کر آدمی سچا بن جاتاہے۔ اس کے برعکس، اگر وہ جھوٹوں کا ساتھ پکڑے تو بالآخر وہ خود بھی جھوٹا بن جائے گا۔
آدمی کے سامنے ایسے مواقع آتے ہیں جب کہ جان کو خطرہ میں ڈال کر اسلام کی خدمت کرنے کا سوال ہو۔جب بھوک پیاس کا مقابلہ کرکے اسلام کے ليے اپنا حصہ ادا کرنا ہو۔ جب اپنے کو تھکا کر خدا کی راہ میں آگے بڑھنا ہو۔ جب دشمنوں کا خطرہ مول لے کر اپنے کو اسلام کی صف میں شامل کرنا ہو۔ جب اپنی پرسکون زندگی کودرہم برہم کرکے خدا ورسول کا ساتھ دینا ہو۔ ایسے مواقع پر آدمی احتیاط اور بچاؤ کا طریقہ اختیار کرکے پیچھے بیٹھ جانے کو پسند کرتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ یہی تو وہ مواقع ہیں جب کہ وہ خدا کے ساتھ اپنے تعلق کا عملی ثبوت پیش کرسکتا ہے۔ جب کہ وہ جنت کے ليے اپنی امیدواری کو خدا کی نظر میں قابل قبول ثابت کرسکتا ہے۔
غزوۂ تبوک کے موقع پر پیچھے رہنے والوں میں ایک ابو خیثمہ انصاری بھی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روانگی کے بعد وہ اپنے باغ میں گئے۔ وہاں خوش گوار سایہ تھا، بیوی نے پانی چھڑک کر زمین کو ٹھنڈا کیا، چٹائی کا فرش بچھایا، تازہ کھجور کے خوشے لاکر سامنے رکھے اور ٹھنڈا پانی پینے کے ليے پیش کیا۔ ابو خیثمہ دنیوی آسانیوں ہی کی خاطر تبوک کے سفر پر نہ جاسکے تھے۔ مگر جب جانے والے اور رہنے والے کے درمیان فرق اس انتہائی نوبت کو پہنچ گیا جو اب ان کے سامنے تھا تو ابو خیثمہ اس کو برداشت نہ کرسکے۔ انھوں نے کہا ’’میں یہاں باغ کے سایہ میں ہوں اور خدا کے بندے لو اور گرمی میں کوہ وبیابان طے کررہے ہیں ‘‘۔ انھوں نے تلوار سنبھالی اور تیز رفتار اونٹنی پر سوار ہو کر اسی وقت روانہ ہوگئے۔ یہاں تک کہ گردوغبار میں اٹے ہوئے قافلۂ تبوک سے جاملے۔(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 5419)
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →