۞وَمَا كَانَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ لِيَنفِرُواْ كَآفَّةٗۚ فَلَوۡلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرۡقَةٖ مِّنۡهُمۡ طَآئِفَةٞ لِّيَتَفَقَّهُواْ فِي ٱلدِّينِ وَلِيُنذِرُواْ قَوۡمَهُمۡ إِذَا رَجَعُوٓاْ إِلَيۡهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَحۡذَرُونَ
And it is not for the believers to go forth [to battle] all at once. For there should separate from every division of them a group [remaining] to obtain understanding in the religion and warn their people when they return to them that they might be cautious
In this verse, a deeper knowledge of Islam (li yatafaqqahu fi’ddin), does imply education in the traditional sense, which would mean acquiring a detailed knowledge of the form of religion, that is the ritual part, because then the study of religion becomes synonymous with the study of problems relating to the formal aspects of religion. Understanding (tafaqquh) in religion implies deep knowledge of the fundamentals of religion, a knowledge which makes one enlightened, which makes one fully aware of the eternal teachings of religion and helps one to build one’s life on the concept of the Hereafter. This verse tells us that the aim of developing an understanding in religion is to acquire the ability to deliver the divine message to the people. The word ‘warn’ (inzar) used here means to make people aware of the consequences in the Hereafter of their actions. This shows that Islamic education should prepare individuals for the role of preachers (da‘is), so that their addressees may fear God and make Him their sole concern in their present lives. Islamic learning is basically to prepare messengers to convey the word of God to others and is not merely the study of the problems of jurisprudence or of Islamic laws as is commonly understood. From this point of view, Islamic education should come under two headings: 1. The Quran and the traditions of the Prophet. 2. Such studies as are necessary from the point of view of the addressee—who is the target of the Divine Call, for instance, the language of the addressee, and his mindset.
قرآن کی یہ آیت ایک اعتبار سے زیر بحث صورت حال سے متعلق ہے اور دوسرے اعتبار سے وہ ایک کلی حکم کو بتارہی ہے۔ ایک طرف وہ بتاتی ہے کہ مدینہ کے اطراف میں بسنے والے دیہاتیوں کی تعلیم وتربیت کس طرح کی جائے۔ دوسری طرف اس سے معلوم ہوتاہے کہ اسلام کا تعلیمی نظام اور نئی نسلوں کے ليے اس کا تربیتی ڈھانچہ کن اصولی بنیادوں پر قائم ہونا چاہیے۔
تعلیم ایک ایسا کام ہے جس میں آدمی کو دوسری مشغولیتوں سے فارغ ہو کر شامل ہونا پڑتا ہے۔ اب اگر سارے لوگ بیک وقت تعلیمی کام میں لگ جائیں تو زندگی کی دوسری سرگرمیاں ، مثلاً حصول معاش کی کوششیں ، متاثر ہوجائیں گی۔ اسلام کا یہ طریقہ نہیں کہ ایک کام کو بگاڑ کر دوسرا کام انجام دیاجائے، اس ليے حکم دیاگیا کہ باری باری کا اصول مقرر کرو۔ کچھ لوگ تعلیم کے مرکز میں آئیں تو کچھ اور لوگ دوسری سرگرمیوں کو انجام دینے میں لگے رہیں ۔ اس طرح دونوں کا م بیک وقت انجام پاتے رہیں گے۔
اس آیت میں اسلامی تعلیم کے ليے تفقہ فی الدین کا لفظ آیا ہے۔ اس سے مراد معروف فقہی تعلیم نہیں ہے جو شکل دین (بمقابلہ روح دین) کے تفصیلی علم کا نام ہے اور جس کے نتیجہ میں دین کا علم مسائل کے علم کے ہم معنی بن گیا ہے۔ یہاں تفقہ فی الدین کا مطلب خدا کے اتارے ہوئے اساسی دین کو جاننا اور اس میں سمجھ حاصل کرنا ہے۔ اس سے مراد وہ علم ہے جو حق شناسی پیدا کرے جو بنیادی حقیقتوں سے آدمی کو باخبر کرے اور آخرت کی بنیادوں پر زندگی کی تعمیر کرنا سکھائے۔
آیت میں تفقہ فی الدین (تعلیم دین) کا مقصد یہ بتایا گیاہے کہ آدمی قوم کے اوپر انذار کاکام کرنے کے قابل ہوسکے۔ انذار کے معنی ہیں ڈرانا۔ قرآن میں یہ لفظ آخرت کے مسئلہ سے ڈرانے اور ہوشیار کرنے کے ليے آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی تعلیم سے ایسے افراد تیار ہوں جو قوموں کے اوپر خدا کی طرف طرف سے منذر بن کر کھڑے ہوسکیں ۔ تاکہ لوگ خدا سے ڈریں اور دنیا کی زندگی میں اس روش سے بچیں جو انھیں آخرت کے ابدی عذاب کی طرف لے جانے والی ہو۔ اسلامی تعلیم دعوت الی اللہ کی تعلیم کا نام ہے، نہ کہ معروف معنوں میں صرف مسائل فقہ یا جزئیات شرع کی تعلیم کا۔
اس اعتبار سے اسلامی تعلیم کا نصاب دو خاص چیزوں پر مشتمل ہونا چاہیے:
1۔ قرآن وسنت
2۔ وہ علوم جو مدعو کی نسبت سے ضروری ہوں ۔ مثلاً مخاطب کی زبان، اس کے طرز فکر اور اس کی نفسیات، وغیرہ۔