قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِن يَنتَهُواْ يُغۡفَرۡ لَهُم مَّا قَدۡ سَلَفَ وَإِن يَعُودُواْ فَقَدۡ مَضَتۡ سُنَّتُ ٱلۡأَوَّلِينَ
Say to those who have disbelieved [that] if they cease, what has previously occurred will be forgiven for them. But if they return [to hostility] - then the precedent of the former [rebellious] peoples has already taken place
It is the principle of Islam that the individual is rewarded according to his deeds. However, by His grace the Almighty God has made special exemptions to this general principle: when a man is truly repentant, he will not be punished thereafter for his earlier deeds. Suppose a man spent his life in ungodliness, then he received the light of guidance, became a true believer and adopted the righteous life, in this case, he will be forgiven for the evil deeds done by him earlier; he will not be seized on the basis of his earlier sins.
اسلام کا اصول یہ ہے کہ جو شخص جیسا عمل کرے اس کے مطابق وہ اپنا بدلہ پائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اس عام اصول میں اپنی رحمت سے ایک خاص استثناء رکھا ہے۔ وہ یہ کہ آدمی جب ’’توبہ‘‘ کرلے تو اس کے بعد اس کے پچھلے اعمال پر اس کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔ ایک شخص خدا سے دوری کی زندگی گزار رہا تھا۔ پھر اس کو ہدایت کی روشنی ملی۔ اس نے سچا مومن بن کر صالح زندگی اختیار کرلی تو اس سے پہلے اس نے جو برائیاں کی تھیں وہ سب معاف کردی جائیںگی۔ اس کے پچھلے گناہوں کی بنا پر اس کو نہیں پکڑا جائے گا۔
ٹھیک یہی اصول اجتماعی اور سیاسی معاملہ میں بھی ہے۔ کسی مقام پر حق اور باطل کی کش مکش برپا ہوتی ہے، آپس میں ٹکراؤ ہوتا ہے، اس ٹکراؤ کے دوران باطل کے علم بردار حق کے ليے اٹھنے والوں پر ظلم کرتے ہیں۔ بالآخر جنگ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ حق پرست غالباً آجاتے ہیں اور ناحق کے علم بردار مغلوب ہو کر زیر کرديے جاتے ہیں۔ اس معاملہ میں بھی اسلام کا اصول وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ یعنی فتح کے بعد پچھلے ظلم وستم پر کسی کو سزا نہیں دی جائے گی۔ البتہ جو شخص فتح کے بعد کوئی ایسی حرکت کرے جو اسلامی قانون میں جرم قرار دی گئی ہو تو ضرور کارروائی کے بعد اس کو وہ سزا ملے گی جو شریعت نے ایسے ایک مجرم کے ليے مقرر کی ہے۔
فتنہ کا مطلب ستانا (persecution) ہے۔ قدیم زمانہ میں سرداری اور حکومت شرک کی بنیاد پر قائم ہوتی تھی۔ آج حکومت کرنے والے عوام کے نمائندہ بن کر حکومت کرتے ہیں۔ ماضی میں خدا یا خدا کے شریکوں کا نمائندہ بن کر لوگ حکومت کیا کرتے تھے۔ اس کے نتیجہ میں شرک کو قدیم سماج میں با اقتدار حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔ اہل شرک اہل توحید کو ستاتے رہتے تھے۔ اللہ نے اپنے رسول اور آپ کے ساتھیوں کو حکم دیا کہ شرک اور اقتدار کے باہمی تعلق کو توڑ دو تاکہ مشرکین اہل توحید کو ستانے کی طاقت سے محروم ہوجائیں۔ چنانچہ آپ کے ذریعہ جو عالمی انقلاب آیا اس نے ہمیشہ کے ليے شرک کا رشتہ سیاسی نظام سے ختم کردیا۔ اب شرک ساری دنیا میں صرف ایک مذہبی عقیدہ ہے، نہ کہ وہ سیاسی نظریہ جس کی بنیاد پر حکومتوں کا قیام عمل میںآتا ہے۔
تاہم جہاں تک عرب کا تعلق ہے وہاں یہ مقصد دہری صورت میں مطلوب تھا، یہاں شرک اور مشرکین دونوں کو ختم کرنا تھا تاکہ حرمین کے علاقہ کو ابدی طورپر خالص توحید کا مرکز بنا دیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جزیرہ عرب سے مشرکین کو نکال دو۔ یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں شر وع ہوا اور حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانہ میں اپنی تکمیل کو پہنچا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →