وَقَٰتِلُوهُمۡ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتۡنَةٞ وَيَكُونَ ٱلدِّينُ كُلُّهُۥ لِلَّهِۚ فَإِنِ ٱنتَهَوۡاْ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِمَا يَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ
And fight them until there is no fitnah and [until] the religion, all of it, is for Allah. And if they cease - then indeed, Allah is Seeing of what they do
“And religion is wholly for God” in this connection those traditions are worth noting which are enshrined in Sahih al-Bukhari. When, after the fourth Caliph Ali ibn Abi Talib, political conflict ensued between Abdullah ibn Zubayr and the Umayyads, Abdullah ibn Umar, one of the senior-most companions of the Prophet, held himself aloof from the battle. People approached him and, quoting the verse of qital-al-fitna, asked him why he was not joining in the battle. Abdullah ibn Umar replied that ‘fitna’ as mentioned in the Quran did not refer to political infighting, but rather to the religious coercive system, that had already been put an end to by them. (Fathul Bari,
8/60
) From this we learn that the war against fitna was a war of limited duration, temporary in nature, meant to be engaged in only until its specific purpose had been served.
اسلام کا اصول یہ ہے کہ جو شخص جیسا عمل کرے اس کے مطابق وہ اپنا بدلہ پائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اس عام اصول میں اپنی رحمت سے ایک خاص استثناء رکھا ہے۔ وہ یہ کہ آدمی جب ’’توبہ‘‘ کرلے تو اس کے بعد اس کے پچھلے اعمال پر اس کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔ ایک شخص خدا سے دوری کی زندگی گزار رہا تھا۔ پھر اس کو ہدایت کی روشنی ملی۔ اس نے سچا مومن بن کر صالح زندگی اختیار کرلی تو اس سے پہلے اس نے جو برائیاں کی تھیں وہ سب معاف کردی جائیںگی۔ اس کے پچھلے گناہوں کی بنا پر اس کو نہیں پکڑا جائے گا۔
ٹھیک یہی اصول اجتماعی اور سیاسی معاملہ میں بھی ہے۔ کسی مقام پر حق اور باطل کی کش مکش برپا ہوتی ہے، آپس میں ٹکراؤ ہوتا ہے، اس ٹکراؤ کے دوران باطل کے علم بردار حق کے ليے اٹھنے والوں پر ظلم کرتے ہیں۔ بالآخر جنگ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ حق پرست غالباً آجاتے ہیں اور ناحق کے علم بردار مغلوب ہو کر زیر کرديے جاتے ہیں۔ اس معاملہ میں بھی اسلام کا اصول وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ یعنی فتح کے بعد پچھلے ظلم وستم پر کسی کو سزا نہیں دی جائے گی۔ البتہ جو شخص فتح کے بعد کوئی ایسی حرکت کرے جو اسلامی قانون میں جرم قرار دی گئی ہو تو ضرور کارروائی کے بعد اس کو وہ سزا ملے گی جو شریعت نے ایسے ایک مجرم کے ليے مقرر کی ہے۔
فتنہ کا مطلب ستانا (persecution) ہے۔ قدیم زمانہ میں سرداری اور حکومت شرک کی بنیاد پر قائم ہوتی تھی۔ آج حکومت کرنے والے عوام کے نمائندہ بن کر حکومت کرتے ہیں۔ ماضی میں خدا یا خدا کے شریکوں کا نمائندہ بن کر لوگ حکومت کیا کرتے تھے۔ اس کے نتیجہ میں شرک کو قدیم سماج میں با اقتدار حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔ اہل شرک اہل توحید کو ستاتے رہتے تھے۔ اللہ نے اپنے رسول اور آپ کے ساتھیوں کو حکم دیا کہ شرک اور اقتدار کے باہمی تعلق کو توڑ دو تاکہ مشرکین اہل توحید کو ستانے کی طاقت سے محروم ہوجائیں۔ چنانچہ آپ کے ذریعہ جو عالمی انقلاب آیا اس نے ہمیشہ کے ليے شرک کا رشتہ سیاسی نظام سے ختم کردیا۔ اب شرک ساری دنیا میں صرف ایک مذہبی عقیدہ ہے، نہ کہ وہ سیاسی نظریہ جس کی بنیاد پر حکومتوں کا قیام عمل میںآتا ہے۔
تاہم جہاں تک عرب کا تعلق ہے وہاں یہ مقصد دہری صورت میں مطلوب تھا، یہاں شرک اور مشرکین دونوں کو ختم کرنا تھا تاکہ حرمین کے علاقہ کو ابدی طورپر خالص توحید کا مرکز بنا دیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جزیرہ عرب سے مشرکین کو نکال دو۔ یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں شر وع ہوا اور حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانہ میں اپنی تکمیل کو پہنچا۔