أَوَعَجِبۡتُمۡ أَن جَآءَكُمۡ ذِكۡرٞ مِّن رَّبِّكُمۡ عَلَىٰ رَجُلٖ مِّنكُمۡ لِيُنذِرَكُمۡۚ وَٱذۡكُرُوٓاْ إِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوحٖ وَزَادَكُمۡ فِي ٱلۡخَلۡقِ بَصۜۡطَةٗۖ فَٱذۡكُرُوٓاْ ءَالَآءَ ٱللَّهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ
Then do you wonder that there has come to you a reminder from your Lord through a man from among you, that he may warn you? And remember when He made you successors after the people of Noah and increased you in stature extensively. So remember the favors of Allah that you might succeed
The basis of the missionary call of the prophets has always been to remind man of the bounties conferred on him, and to warn him that if he did not remain grateful to God, he would have to suffer the scourge of God. Communal and material issues are never made the topics of their missionary discourses by prophets. They try their best to ensure that in the discussions between them and their addressees nothing but truths of real concern are taken up; their community should see them as preachers of the cause of the one God and the Hereafter and in no other form. ‘Remember the favours of God, so that you may prosper.’ This shows that the bounties of the Hereafter are merited only by one who has admitted God’s grace in the world. Paradise is the greatest expression of God’s grace and bountifulness. So, the Paradise of the Hereafter will be attained by one who has found and recognised God’s attribute of grace and magnanimity. This realisation is the real price of Paradise.
حضرت نوح کی کشتی میں جو اہلِ ایمان بچے تھے ان میں آپ کے پوتے اِرَم کی اولاد سے ایک نسل چلی۔ وہ قدیم یمن میں آباد تھے اور عاد کہلاتے تھے۔ یہ لوگ ابتداء ً حضرت نوح کے دین پر تھے۔ بعد کو جب ان میں بگاڑ پیدا ہوا تو اللہ نے حضرت ہود کو ان کے اوپر اپنا پیغمبر مقرر کیا۔ مگر قوم کے سرداروں کو آپ کے اندر وہ عظمت نظر نہ آئی جو ان کے خیال مطابق خداکے پیغمبر کے اندر ہونا چاہیے تھی۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ شخص یا تو احمق ہے یا پھر وہ جھوٹا دعویٰ کررہاہے۔
’’میں تمھارا ناصح اور امین ہوں‘‘۔ پیغمبر کی زبان سے یہ فقرہ بتاتا ہے کہ داعی اور مدعو کا رشتہ قومی حریف یا سیاسی مد مقابل جیسا رشتہ نہیں ہے۔ یہ خیر خواہی اور امانت داری کا رشتہ ہے۔ داعی کو ایسا ہونا چاہیے کہ اس کے دل میں مدعو کے لیے خیر خواہی کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ مدعو کی طرف سے خواہ کیسا ہی ناخوش گوار رویہ سامنے آئے مگر داعی آخر وقت تک مدعو کا خیر خواہ بنا رہے۔ پھر جو پیغام وہ دے رہاہے اس کو دیتے ہوئے اس کے اندر یہ احساس نہ ہو کہ یہ میری کوئی اپنی چیز ہے جو میںدوسروں کو عطا کررہا ہوں۔ بلکہ یہ جذبہ ہو کہ یہ خود دوسروں کی چیز ہے۔ یہ دوسروں کے لیے خدا کی امانت ہے جو میں ان کو پہنچا کر بری الذمہ ہو رہاہوں۔
پیغمبروں کی دعوت کی بنیاد ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ انسان کے اوپر خدا کی نعمتیں یاد دلائیں اور اس کو اس بات سے ڈرائیں کہ اگر وہ خدا کا شکر گزار بن کر نہ رہا تو وہ خدا کی پکڑ میںآجائے گا۔ قومی جھگڑوں اور مادی مسائل کو پیغمبر کبھی اپنی دعوت کا عنوان نہیں بناتے۔ وہ آخری حد تک اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے اور مدعو کے درمیان اصل دعوت کے سوا کوئی چیز بحث کی بنیاد نہ بننے پائے، قوم ان کو صرف توحید اور آخرت کے داعی کے روپ میں دیکھے، نہ کہ کسی اور روپ میں۔
’’خدا کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو‘‘ —اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی نعمتوں کا استحقاق اُس کے لیے ہے جس نے دنیا میں خدا کی نعمتوں کا اعتراف کیا ہو۔ جنت خدا کے منعم ومحسن ہونے کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ اس ليے آخرت کی جنت کو وہی پائے گا جس نے دنیا میں خدا کے منعم ومحسن ہونے کو پالیا ہو۔ یہی معرفت جنت کی اصل قیمت ہے۔