أُبَلِّغُكُمۡ رِسَٰلَٰتِ رَبِّي وَأَنَا۠ لَكُمۡ نَاصِحٌ أَمِينٌ
I convey to you the messages of my Lord, and I am to you a trustworthy adviser
Literally ‘I am your well-wisher.’ This utterance of the prophet shows that the relationship between the call-giver and his addressees is not that of a rival or a competitor. It is a relationship of well-wishing and trust. The call-giver should be such that he should have nothing in his heart except good wishes for his addressees. Howsoever rude and unpleasant the behaviour that he comes across in his addressees may be, the call-giver should remain their well-wisher till the last moment. Then, while delivering his message, he should not have the feeling that he is bestowing upon another something which belongs to him. He should feel rather that it belongs to others and that he is holding it in trust for them, and that, by delivering it, he is relieving himself of a great responsibility.
حضرت نوح کی کشتی میں جو اہلِ ایمان بچے تھے ان میں آپ کے پوتے اِرَم کی اولاد سے ایک نسل چلی۔ وہ قدیم یمن میں آباد تھے اور عاد کہلاتے تھے۔ یہ لوگ ابتداء ً حضرت نوح کے دین پر تھے۔ بعد کو جب ان میں بگاڑ پیدا ہوا تو اللہ نے حضرت ہود کو ان کے اوپر اپنا پیغمبر مقرر کیا۔ مگر قوم کے سرداروں کو آپ کے اندر وہ عظمت نظر نہ آئی جو ان کے خیال مطابق خداکے پیغمبر کے اندر ہونا چاہیے تھی۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ شخص یا تو احمق ہے یا پھر وہ جھوٹا دعویٰ کررہاہے۔
’’میں تمھارا ناصح اور امین ہوں‘‘۔ پیغمبر کی زبان سے یہ فقرہ بتاتا ہے کہ داعی اور مدعو کا رشتہ قومی حریف یا سیاسی مد مقابل جیسا رشتہ نہیں ہے۔ یہ خیر خواہی اور امانت داری کا رشتہ ہے۔ داعی کو ایسا ہونا چاہیے کہ اس کے دل میں مدعو کے لیے خیر خواہی کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ مدعو کی طرف سے خواہ کیسا ہی ناخوش گوار رویہ سامنے آئے مگر داعی آخر وقت تک مدعو کا خیر خواہ بنا رہے۔ پھر جو پیغام وہ دے رہاہے اس کو دیتے ہوئے اس کے اندر یہ احساس نہ ہو کہ یہ میری کوئی اپنی چیز ہے جو میںدوسروں کو عطا کررہا ہوں۔ بلکہ یہ جذبہ ہو کہ یہ خود دوسروں کی چیز ہے۔ یہ دوسروں کے لیے خدا کی امانت ہے جو میں ان کو پہنچا کر بری الذمہ ہو رہاہوں۔
پیغمبروں کی دعوت کی بنیاد ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ انسان کے اوپر خدا کی نعمتیں یاد دلائیں اور اس کو اس بات سے ڈرائیں کہ اگر وہ خدا کا شکر گزار بن کر نہ رہا تو وہ خدا کی پکڑ میںآجائے گا۔ قومی جھگڑوں اور مادی مسائل کو پیغمبر کبھی اپنی دعوت کا عنوان نہیں بناتے۔ وہ آخری حد تک اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے اور مدعو کے درمیان اصل دعوت کے سوا کوئی چیز بحث کی بنیاد نہ بننے پائے، قوم ان کو صرف توحید اور آخرت کے داعی کے روپ میں دیکھے، نہ کہ کسی اور روپ میں۔
’’خدا کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو‘‘ —اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی نعمتوں کا استحقاق اُس کے لیے ہے جس نے دنیا میں خدا کی نعمتوں کا اعتراف کیا ہو۔ جنت خدا کے منعم ومحسن ہونے کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ اس ليے آخرت کی جنت کو وہی پائے گا جس نے دنیا میں خدا کے منعم ومحسن ہونے کو پالیا ہو۔ یہی معرفت جنت کی اصل قیمت ہے۔
6 further citations are on recordings that are not available on YouTube at the moment, so they are not shown here. They are still counted above and included in the download.