۞إِنَّ ٱللَّهَ فَالِقُ ٱلۡحَبِّ وَٱلنَّوَىٰۖ يُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَمُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتِ مِنَ ٱلۡحَيِّۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُۖ فَأَنَّىٰ تُؤۡفَكُونَ
Indeed, Allah is the cleaver of grain and date seeds. He brings the living out of the dead and brings the dead out of the living. That is Allah; so how are you deluded
When anyone has to manufacture a motor car or any other such complex mechanism, he manufactures every part of it separately. Then he assembles these parts and gives them the requisite finish. But when God causes a tree to grow or creates a human being, the methodology is different. He produces the entity in its totality all at one time. In God’s workshop the whole tree or the whole man issues forth from the one seed or the one drop and then proceeds to grow. This is a unique process which no human being can set in motion. This proves that there exists a Being superior to the human being, a Being whose plan is superior to all other plans.
انسان کو جب ایک موٹر کار یا اور کوئی چیز بنانا ہوتا ہے تو وہ اس کے ہر جزء کو الگ الگ بناتا ہے۔ اور پھر اس کے اجزاء جوڑ کر مطلوبہ چیز تیار کرتاہے، مگر خدا جب ایک درخت اگاتا ہے یا ایک انسان پیدا کرتاہے تو اس کی نوعیت بالکل دوسری ہوتی ہے۔ وہ کسی چیز کو اس کے پورے مجموعہ کے ساتھ بیک وقت برآمد کردیتا ہے۔ خدائی کارخانہ میں پورا کا پورا درخت یا پورا کا پورا انسان ایک ہی بیج يا ايك ہی بوند سے بتدریج نکل کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ یہ انتہائی انوکھی تکنیک ہے جس پر کسی بھی انسان کو قابو نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں انسان سے برتر ایک ہستی موجود ہے جس کا منصوبہ تمام منصوبوں سے بلند ہے۔
سورج کی جسامت زمین سے بارہ لاکھ گنا زیادہ ہے۔ اور زمین چاند سے چوگنا زیادہ بڑی ہے۔ یہ سب اجرام مسلسل حركت ميں هيں۔ چاند زمين سے تقریباً ڈھائي لاكھ ميل دور ره كر زمين كے گرد چكر لگا رها هے۔ اور زمين سورج سے تقريباً ساڑھے نو کروڑ میل کے فاصلے پر رہتے ہوئے سورج کے گرد دو طریقہ سے گھوم رہی ہے، ایک اپنے محور پر اور دوسرے سورج کے مدار پر۔ اسی طرح ستاروں کی گردش کا معاملہ ہےجو دہشت ناک حد تک بعید فاصلوں پر حد درجہ باقاعدگی کے ساتھ متحرک ہیں۔ اسی کائناتی تنظیم سے دن اور رات پیداہوتے هيں۔ اسی سے اوقات کا نقشہ مقرر ہوتا ہے۔ اسی سے خشکی اور تری میں انسان کے لیے اپني زندگی کی ترتیب قائم کرنا ممکن ہوتاہے۔ یہ اتنا بڑا نظام اتنی صحت کے ساتھ چل رہا ہے کہ ہزاروں سال میں بھی اس کے اندر کوئی فرق نہیں آتا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں ایک ایسی ہستی ہے جس کی طاقتیں لامحدود حد تک زیادہ ہیں۔
خدا کی یہ نشانیاں بہت بڑے پیمانہ پر بتا رہی ہیں کہ اس کارخانہ کا بنانے والا بہت بڑے علم والا ہے۔ کوئی بے علم ہستی اتنا بڑا ڈھانچہ قائم نہیں کرسکتی۔ وہ بہت غلبہ والا ہے، اس کے بغیر اتنے بڑے کارخانہ کا اس طرح چلنا ممکن نہیں ہوسکتا۔ اس کی منصوبہ بندی انتہائی حد تک کامل ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو اتنی بڑی کائنات میں اس قدر معنویت اور ہم آہنگی کا وجود ناممکن ہوجائے۔
خدا کی دنیا خدا کے دلائل سے بھری ہوئی ہے۔ مگر دلیل ایک نظری معقولیت کا نام ہے، نہ کہ کسی ہتھوڑے کا۔ اس لیے دلیل کو ماننا کسی کے لیے صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ وہ فی الواقع سنجیدہ ہو، وہ شعوری طورپر اس کے لیے تیار ہو کہ وہ دلیل کو مان لے گا، خواہ وه اس کی موافقت میں جارہی ہو یا اس کے خلاف۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →