وَلَقَدۡ جِئۡتُمُونَا فُرَٰدَىٰ كَمَا خَلَقۡنَٰكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةٖ وَتَرَكۡتُم مَّا خَوَّلۡنَٰكُمۡ وَرَآءَ ظُهُورِكُمۡۖ وَمَا نَرَىٰ مَعَكُمۡ شُفَعَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ زَعَمۡتُمۡ أَنَّهُمۡ فِيكُمۡ شُرَكَـٰٓؤُاْۚ لَقَد تَّقَطَّعَ بَيۡنَكُمۡ وَضَلَّ عَنكُم مَّا كُنتُمۡ تَزۡعُمُونَ
[It will be said to them], "And you have certainly come to Us alone as We created you the first time, and you have left whatever We bestowed upon you behind you. And We do not see with you your 'intercessors' which you claimed that they were among you associates [of Allah]. It has [all] been severed between you, and lost from you is what you used to claim
This haughtiness which develops in a man is due to his worldly position and the material goods that are available to him in the world. He forgets that whatever blessings come his way, are only for the purpose of testing him and that too during a finite period. As soon as the time of death arrives, all these things will suddenly be snatched from him. Thereafter, his will be a lone existence, just as it was at the time of his birth. Immediately after death man will reach that stage where he will have neither wealth nor position; where he will have neither his companions nor his intermediaries; there will be only God and himself. None of the things he was proud of in the world will be there to save him from God’s scourge. Many people try to charm their way through life with the magic of words. Every man seeks and finds words to show his existence to be justified and righteous. He portrays the path he treads as straightaway leading towards correct goals. But when the revolution of the Hereafter unveils the realities, how utterly meaningless will his words appear.
اللہ جب اپنے کسی بندے کو اپنی پکار بلند کرنے کے لیے کھڑا کرتا ہے تو اسی کے ساتھ اس کو خصوصی توفیق بھی عطا کرتا ہے۔ اس کے کردار میں خوفِ آخرت کی جھلک ہوتی ہے۔ اس کی باتوں میں خدائی استدلال کی طاقت نظر آتی ہے ۔ بے پناہ مخالفتوں کے باوجود وه اپنے پیغام رسانی کے عمل کو اعلیٰ ترین شکل میں جاری رکھنے میں کامیاب ہوتاہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کی زمین پر خدا کی نشانی ہوتا ہے۔ مگر جن کی نگاہیں دنیوی عظمت کی چیزوں میں گم ہوں وہ آخرت کے داعی کی عظمت کو سمجھ نہیں پاتے۔ حتی کہ ان کے مادی پیمانہ میں ان کی اپنی ذات برتر اور اللہ کے داعی کی ذات کم تر دکھائی دیتی ہے۔ یہ چیز ان کو تکبر میں مبتلا کردیتی ہے اور جو لوگ تکبر کی نفسیات میں مبتلا ہوجائیں ان سے کوئی بھی نامعقول رویہ مستبعد نہیں رہتا۔ حتی کہ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوسکتے ہیں کہ وہ بھی ویسا ہی کلام تخلیق کرسکتے ہیں جیسا کلام خدا کی طرف سے کسی بندہ پر اترتا ہے — وہ خدا کو طلسماتی نشانیوں ميں دیکھنا چاہتے ہیں اس لیے وہ بشری نشانیوں میں ظاہر ہونے والے خدا کو پہچان نہیں پاتے۔
یہ تکبر جو کسی آدمی کے اندر پیداہوتا ہے وہ اس دنیوی حیثیت اور مادی سامان کی بنا پر ہوتا ہے جو اس کو دنیا میں ملا ہوا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ اسے حاصل ہے وہ محض آزمائش کے لیے اور متعین مدت تک کے لیے ہے۔ موت کا وقت آتے ہی اچانک یہ تمام چیزیں چھن جائیں گی۔ اس کے بعد ہر آدمی اپنی زندگی کے اس مرحلہ میں پہنچ جاتاہے، جہاں نہ اس کی دولت ہوگی اور نہ اس کی حیثیت، جہاں نہ اس کے ساتھي ہوں گے اور نہ اس کے سفارشی۔ وہ ہوگا اور اس کا خدا ہوگا۔ دنیا میں اس کو جن چیزوں پر ناز تھا ان میں سے کوئی چیز بھی اس دن اس کو خدا کی پکڑ سے بچانے کے لیے موجود نہ ہوگی۔
دنیا میں ہر آدمی الفاظ کے طلسم میں جیتا ہے۔ ہر آدمی اپنے حسبِ حال ایسے الفاظ تلاش کرلیتا ہے جس میں اس کا وجود بالکل برحق دکھائی دے، اس کا راستہ سیدھا منزل کی طرف جاتاہوا نظر آئے۔ مگر آخرت کا انقلاب جب حقیقتوں کے پردے پھاڑ دے گا تو لوگوں کے یہ الفاظ اس قدر بے معنی ہوجائیں گے جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔