أُحِلَّ لَكُمۡ صَيۡدُ ٱلۡبَحۡرِ وَطَعَامُهُۥ مَتَٰعٗا لَّكُمۡ وَلِلسَّيَّارَةِۖ وَحُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ صَيۡدُ ٱلۡبَرِّ مَا دُمۡتُمۡ حُرُمٗاۗ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ٱلَّذِيٓ إِلَيۡهِ تُحۡشَرُونَ
Lawful to you is game from the sea and its food as provision for you and the travelers, but forbidden to you is game from the land as long as you are in the state of ihram. And fear Allah to whom you will be gathered
Hunting is prohibited (haram) while in the state of ihram. This prohibition was ordained, not because of any feature inherent in the thing prohibited, but as a matter of human trial. In order to test man, God chose to ban certain items symbolically. However, wherever the Law-Giver felt that the trial might cause unnecessary hardship to His subjects, the Law was relaxed. For example, for pilgrims who travel by sea or river to the House of God, it is legitimate to fish in the waters and eat the catch if, during the voyage, there is nothing else available to them. Indeed, they have no alternative if they are to save their lives.
حالتِ احرام میں شکار حرام ہے مگر جو لوگ دریا یا سمندر سے بیت اللہ کا سفر کررہے ہوں ان کے لیے جائز ہے کہ وہ پاني میں شکار کریں اور اس کو کھائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شکار کی یہ ممانعت اس کے اندر کسی ذاتی حرمت کی بنا پر نہ تھی، بلکہ محض ’’آزمائش‘‘ کے لیے تھی۔ انسان کو آزمانے کے لیے اللہ نے علامتی طورپر کچھ چیزیں مقرر کردیں۔ اس لیے جہاں شارع نے محسوس کیا کہ جو چیز آزمائش کے لیے تھی وہ بندوں کے لیے غیرضروری مشقت کا سبب بن جائے گی وہاں قانون میں نرمی کردی گئی۔ کیوں کہ سمندر کے سفر میں اگر زادِ راہ نہ رہے تو آدمی کے لیے اپنی زندگی کو باقی رکھنے کی اس کے سوا اور صورت نہیں رہتی کہ وہ آبی جانوروں کو اپنی خوراک بنائے۔
کعبہ اسلام اور ملّت اسلام کا دائمی مرکز ہے۔ کعبہ کی طرف رخ کرنے کو نماز کی شر ط ٹھہرا کر اللہ نے دنیا کے ایک ایک مسلمان کو کعبہ کی مرکزیت کے ساتھ جوڑ دیا۔ پھر حج کی صورت میں اس کو اسلام کا بین اقوامی اجتماع گاہ بنا دیا۔ زیارتِ کعبہ کے ذیل میں جو شعائر مقرر كيے گئے ہیں ان کے احترام کی وجہ ان کا کوئی ذاتی تقدس نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آدمی کے امتحان کی علامت ہیں۔ بندہ جب ان شعائر کے بارے میں اللہ کے حکم کو پورا کرتاہے تو وہ اپنے ذہن میں اس حقیقت کو تازہ کرتاہے کہ اللہ اگر چہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا مگر وہ زندہ موجود ہے۔ وہ حکم دیتاہے ، وہ بندوں کی نگرانی کرتا ہے، وہ ہماری تمام حرکتوں سے باخبر ہے۔ یہ احساسات آدمی کے اندر اللہ کا ڈر پیدا کرتے ہیں اور اس کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ زندگی کے مختلف مواقع پر اللہ کا سچا بندہ بن کر رہ سکے۔
انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جس طرف بھیڑ ہو، جدھر ظاہری سازوسامان کی کثرت ہو اسی کو اہم سمجھ لیتا ہے۔ مگر خدا کے نزدیک ساری اہمیت صرف کیفیت کی ہے۔ مقداركي اس کے یہاں کوئی قیمت نہیں۔ جو لوگ ’’کثرت‘‘ کی طرف دوڑیں اور ’’قلت‘‘ کو نظر انداز کردیں، وہ اپنے خیال سے بڑی ہوشیاری کررہے ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ انتہائی نادان ہیں۔ کامیاب وہ ہے جو خدا کے ڈر کے تحت اپنا رویہ متعین کرے، نہ کہ مادی مصالح یا دنیوی اندیشوں کے تحت۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →