يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَيَبۡلُوَنَّكُمُ ٱللَّهُ بِشَيۡءٖ مِّنَ ٱلصَّيۡدِ تَنَالُهُۥٓ أَيۡدِيكُمۡ وَرِمَاحُكُمۡ لِيَعۡلَمَ ٱللَّهُ مَن يَخَافُهُۥ بِٱلۡغَيۡبِۚ فَمَنِ ٱعۡتَدَىٰ بَعۡدَ ذَٰلِكَ فَلَهُۥ عَذَابٌ أَلِيمٞ
O you who have believed, Allah will surely test you through something of the game that your hands and spears [can] reach, that Allah may make evident those who fear Him unseen. And whoever transgresses after that - for him is a painful punishment
During Hajj or ‘umrah (the pilgrimage to the Ka‘bah) it is the rule that before reaching the Ka‘bah, people are required to put on ahram (specified dress) at and from some specified places (miqat). Thereafter, on the journey towards the Ka‘bah, pilgrims come across many birds and animals which they could easily hunt, but this has been declared haram (forbidden). Hunting personally, or through others, is prohibited in these conditions. According to tradition, this verse was revealed during the Hudaybiyyah journey, when the Muslims were clad in ihram with the intention of performing ‘umrah. At that time, many birds and animals were roaming about so close that they could have been easily hunted down with arrows or spears. The Muslims wanted to hunt, as they normally did, to meet their requirements. But they immediately stopped on receiving this order. This order, which is applicable under ihram, has to be followed by the common man in day-to-day life.
حج یا عمرہ کے لیے یہ قاعدہ ہے کہ کعبہ پہنچنے سے پہلے مقررہ مقامات سے احرام باندھ لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کعبہ تک کے سفر میں جانور یا چڑیاں سامنے آتی ہیں جن کو بآسانی شکار کیا جاسکتا ہو۔ مگر ایسے شکار کو حرام قرار دیاگیا ہے۔ آدمی خواہ خود شکار کرے یا کسی دوسرے کو شكار کرنے میں مدد دے، دونوں چیزیں احرام کی حالت میں ناجائز ہیں۔ روایات کے مطابق یہ آیت حدیبیہ کے سفر میں اتری جب کہ مسلمانوں نے عمرہ کے ارادہ سے احرام باندھ رکھا تھا۔ اس وقت چڑیاں اور جانور کثیر تعداد میں اتنے قریب پھر رہے تھے کہ بآسانی انھیں تیر یا نیزے سے مارا جاسکتا تھا۔ مسلمان اس وقت اپنی عادت اور ضرورت کے تحت چاہتے بھی تھے کہ ان کا شکار کریں۔ مگر حکم اترتے ہی ہر ایک نے اپنا ہاتھ روک لیا — یہ حکم جو احرام کی حالت میںجانوروں کے بارے میں دیاگیا ہے وہی روز مرہ کی زندگی میں عام انسانوں کے ساتھ مطلوب ہے۔
اس حکم کا اصل مقصد یہ ہے کہ ’’اللہ جان لے کہ کون ہے جو اللہ کو دیکھے بغیر اللہ سے ڈرتا ہے‘‘۔ دنیا میں انسان کو رکھ کر خدا اس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا ہے۔ اب وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ لوگوں میں کون اتنا حقیقت شناس ہے کہ بظاہر خدا کو نہ دیکھتے ہوئے بھی اس طرح رہتا ہے جیسے کہ وہ اس کو اس کی تمام طاقتوں کے ساتھ دیکھ رہا ہے اور کون اتنا غافل ہے کہ خدا کو اپنے سامنے نہ پاکر بے خوف ہوجاتا ہے اور مَن مانی کارروائیاں کرنے لگتا ہے۔ اس کا تجربہ حج کے سفر میں چند دن اور انسانی تعلقات میں روزانہ ہوتا ہے۔ ایک آدمی کسی کی زد میں اس طرح آتا ہے کہ اس کے لیے بالکل ممكن ہوجاتا ہے کہ وہ اس کی جان پر حملہ کرے۔ وہ اس کو مالی نقصان پہنچائے۔ وہ اس کے بارے میں ایسی بات کہے جس سے اس کی رسوائی ہوتی ہو۔ اب ایک شخص وہ ہے جو اس طرح قابو پانے کے باوجود خدا کے ڈر سے اپنی زبان اور اپنے ہاتھ کواس کے معاملہ میں روک لیتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو کسی پر قابو پاتے ہی اس کو ذلیل کرتاہے اور اس کو اپنی طاقت کا نشانہ بناتا ہے۔ ان میں سے پہلے شخص نے یہ ثابت کیا کہ وہ دیکھے بغیر اللہ سے ڈرتا ہے اور دوسرے نے اپنے بارے میں برعکس حالت کا ثبوت دیا۔ پہلے کے لیے خدا کے یہاں بے حساب انعامات ہیں اور دوسرے کے لیے دردناک عذاب۔