مَّن كَانَ يُرِيدُ ثَوَابَ ٱلدُّنۡيَا فَعِندَ ٱللَّهِ ثَوَابُ ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ سَمِيعَۢا بَصِيرٗا
Whoever desires the reward of this world - then with Allah is the reward of this world and the Hereafter. And ever is Allah Hearing and Seeing
In life it often happens that man is confronted with a situation where, on the one hand, lies the path of desire and self-interest, and on the other hand, lies the path of justice. Now those who are unmindful of God, those who have no conviction that God is watching them on all such occasions follow the path of their desire. They consider it an achievement to ignore the call of truth and take to the path of self-interest and worldly considerations. But those who fear God, who regard God as their guardian, have their eyes always set on truth and justice and act according to their demands. They sincerely desire that they may leave this world having done no injustice to anyone, having fully adhered to the path of truth and justice. This desire for truth and justice is so heightened in them that it becomes impossible for them to tolerate any behaviour which does not measure up to the standard of absolute justice. When confronted with wrongdoing, they dare to proclaim the demands of truth and justice, even if such a stand amounts to adversely affecting the interests of their family or goes against their own worldly considerations. They say only what justice would demand. It is also very wrong from the standpoint of justice to give influential persons their due while denying the rights of those who are weak and without influence. A true believer is one who deals justly with everyone, whether weak or powerful.
دنیا میں آدمی کو جو صالح زندگی اختیار کرنا ہے وہ اس کو اسی وقت اختیار کرسکتا ہے جب کہ وہ اندر سے اللہ والا بن گیا ہو۔ اللہ کو مالک کائنات کی حیثیت سے پالینا، صرف اللہ سے ڈرنا اور صرف اللہ پر بھروسہ کرنا، آخرت کو اصل سمجھ کر اس کی طرف متوجہ ہوجانا، یہی وہ چیزیں ہیں جو کسی آدمی کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ دنیا میں اس طرح كي صالح زندگی گزارے جو اللہ کو مطلوب ہے اور جو اس کو آخرت کی دنیا میں کامیاب کرنے والی ہے۔ اسی لیے نبیوں کی تعلیمات میں ہمیشہ اسی پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا رہا ہے۔
موجودہ دنیا آزمائش کے لیے ہے۔ یہاں ہر آدمی کو جانچ کر دیکھا جارہا ہے کہ کون اچھا ہے اور کون برا۔ اس مقصد کے لیے موجودہ دنیا کو اس ڈھنگ پر بنایا گیا ہے کہ یہاں آدمی کو ہر قسم کے عمل کی آزادی ہو۔ حتی کہ اس کو یہ موقع بھی حاصل ہو کہ وہ اپنے سیاہ کو سفید کہہ سکے اور اپنی بے عملی کو عمل کا نام دے۔ یہاں ایک آدمی کے لیے ممکن ہے کہ وہ برائیوںمیں مبتلا ہو مگر اس کو بیان کرنے کے لیے وہ بہترین الفاظ پالے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی ایک کھلی ہوئی سچائی کا انکار کردے اور اپنے انکار کی ایک خوب صورت توجیہہ تلا ش کرلے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی جاہ طلبی، شہرت پسندی، نفع اندوزی اور مصلحت پر اپنی زندگی کی تعمیر کرے اور اس کے باوجود وہ لوگوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوجائے کہ وہ خالص حق کے لیے کام کررہا ہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ ایک شخص خدا کے دین کو اپنے دنیوی اور مادی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنائے، اور پھر بھی وہ دنیا میں پھلتا اور پھولتا رہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی حلال کو چھوڑ کر حرام ذرائع اختیار کرے، انصاف کے بجائے وہ ظلم کے راستہ پر چلے اور اس کے باوجوداس کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ ہو۔ ان مختلف مواقع پر آدمی چاہے تو اپنے کو حق وصداقت کا پابند بنا لے اور چاہے تو سرکشی اور بے انصافی کی طرف چل پڑے۔ حقیقت یہ ہے کہ دین کے تمام احکام میں اہمیت کی چیز یہ ہے کہ آدمی اللہ سے ڈرتا ہے یا نہیں۔ یہ صرف اللہ کا ڈر ہے جو اس کو ذمہ دارانہ زندگی گزارنے کے قابل بناتا ہے۔ اگر اللہ کا ڈر نہ ہو تو ایک ایسی دنیا میں کسی کو باطل سے روکنے والی کیا چیز ہوسکتی ہے جہاں باطل کو بھی حق کے پیرایہ میں بیان کیا جاسکتا ہو اور جہاں بے انصافی کی بنیاد پر بھی بڑی بڑی ترقیاں حاصل کی جاسکتی ہوں۔ جہاں ہر ظالم کو اپنے ظلم کو چھپانے کے لیے خوب صورت الفاظ مل جاتے ہوں۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →