۞يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُواْ قَوَّـٰمِينَ بِٱلۡقِسۡطِ شُهَدَآءَ لِلَّهِ وَلَوۡ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمۡ أَوِ ٱلۡوَٰلِدَيۡنِ وَٱلۡأَقۡرَبِينَۚ إِن يَكُنۡ غَنِيًّا أَوۡ فَقِيرٗا فَٱللَّهُ أَوۡلَىٰ بِهِمَاۖ فَلَا تَتَّبِعُواْ ٱلۡهَوَىٰٓ أَن تَعۡدِلُواْۚ وَإِن تَلۡوُۥٓاْ أَوۡ تُعۡرِضُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٗا
O you who have believed, be persistently standing firm in justice, witnesses for Allah, even if it be against yourselves or parents and relatives. Whether one is rich or poor, Allah is more worthy of both. So follow not [personal] inclination, lest you not be just. And if you distort [your testimony] or refuse [to give it], then indeed Allah is ever, with what you do, Acquainted
In life it often happens that man is confronted with a situation where, on the one hand, lies the path of desire and self-interest, and on the other hand, lies the path of justice. Now those who are unmindful of God, those who have no conviction that God is watching them on all such occasions follow the path of their desire. They consider it an achievement to ignore the call of truth and take to the path of self-interest and worldly considerations. But those who fear God, who regard God as their guardian, have their eyes always set on truth and justice and act according to their demands. They sincerely desire that they may leave this world having done no injustice to anyone, having fully adhered to the path of truth and justice. This desire for truth and justice is so heightened in them that it becomes impossible for them to tolerate any behaviour which does not measure up to the standard of absolute justice. When confronted with wrongdoing, they dare to proclaim the demands of truth and justice, even if such a stand amounts to adversely affecting the interests of their family or goes against their own worldly considerations. They say only what justice would demand. It is also very wrong from the standpoint of justice to give influential persons their due while denying the rights of those who are weak and without influence. A true believer is one who deals justly with everyone, whether weak or powerful.
اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے سامنے ایسا معاملہ آتا ہے جس میں ایک راستہ اپنے مفاد اور خواہش کا ہوتا ہے اور دوسرا حق اور انصاف کا۔ جولوگ اللہ کی طرف سے غافل ہوتے ہیں، جن کو یقین نہیں ہوتا کہ اللہ ہر وقت ان کو دیکھ رہا ہے وہ ایسے مواقع پر اپنی خواہش کے رخ پر چل پڑتے ہیں۔ وہ اس کو کامیابی سمجھتے ہیں کہ حق کی پروا نہ کریں اور معاملہ کو اپنے مفاد اور اپنی مصلحت کے مطابق طے کریں۔ مگر جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں، جو اللہ کو اپنا نگراں بنائے ہوئے ہیں وہ تمام تر انصاف کے پہلو کو دیکھتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو حق و انصاف کا تقاضا ہو۔ ان کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ ان کو موت آئے تو اس حال میں آئے کہ انھوں نے کسی کے ساتھ بے انصافی نہ کی ہو، وہ اپنے آپ کو مکمل طورپر قسط اور عدل پر قائم کیے ہوئے ہوں۔
ان کی انصاف پسندی کا یہ جذبہ اتنا بڑھا ہوا ہوتا ہے کہ ان کے لیے ناممکن ہوجاتا ہے کہ وہ انصاف سے ہٹا ہوا کوئی رویہ دیکھیں اور اس کو برداشت کرلیں۔ جب بھی ایسا کوئی معاملہ سامنے آتا ہے کہ ایک شخص دوسرے کے ساتھ ناانصافی کررہا ہو تو وہ ایسے موقع پر حق کا اعلان کرنے سے باز نہیں رہتے۔ اگر انصاف کا اعلان کرنے میں ان کے قریبی تعلق والوں پر زد پڑتی ہو یا ان کی اپنی مصلحتیں مجروح ہوتی ہوں تب بھی وہ وہی کہتے ہیں جو انصاف کی رو سے انھیں کہنا چاہیے۔ ان کی زبان کھلتی ہے تو اللہ کے لیے کھلتی ہے، نہ کہ کسی اور چیز کے لیے۔ اسی طرح یہ بات بھی غلط ہے کہ صاحب معاملہ طاقت ور ہو تو اس کو اس کا حق دیا جائے اور اگر صاحب معاملہ کمزور ہو تو اس کا حق اس کو نہ دیا جائے۔ مومن وہ ہے جو ہر آدمی کے ساتھ انصاف کرے، خواہ وہ زور آور ہو یاکم زور۔
جب کوئی آدمی ناانصافی کا ساتھ دے تو وہ یہ کہہ کر ایسا نہیں کرتا کہ میں نا انصافی کرنے والے کا ساتھی ہوں۔ بلکہ وہ اپنی ناانصافی کو انصاف کا رنگ دینے کی کوشش کرتاہے۔ ایسے موقع پر ہر آدمی دو میں سے کوئی ایک رویہ اختیار کرتا ہے۔ یا تو وہ یہ کرتا ہے کہ بات کو بدل دیتا ہے۔وہ معاملہ کی نوعیت کو ایسے الفاظ میں بیان کرتا ہے جس سے ظاہر ہو که یہ ناانصافی کا معاملہ نہیں بلکہ عین انصاف کا معاملہ ہے جس کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے وہ اسی کا مستحق ہے کہ اس کے ساتھ ایسا کیا جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی خاموشی اختیار کرلے۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہاں ناانصافی کی جارہی ہے وہ کتراکر نکل جائے اور جو کہنے کی بات ہے اس کو زبان پر نہ لائے۔ اس قسم کا طرز عمل ثابت کرتاہے کہ آدمی اپنے اوپر اللہ کو نگراں نہیں سمجھتا۔