يُضَٰعَفۡ لَهُ ٱلۡعَذَابُ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيهِۦ مُهَانًا
Multiplied for him is the punishment on the Day of Resurrection, and he will abide therein humiliated
Real virtue in the eyes of God is a man’s becoming God-fearing. Any virtue which makes a man fearless of God is, in fact, a sin, while that sin which makes a man God-fearing is in fact, in terms of its result, a virtue. If a man happens to commit a sin but later on, seeing the error of his ways rushes towards Him in repentance (tawbah) and seeks His pardon, then God will mercifully add this sin to the list of his virtues, because that had made him turn towards Him.
اِس آیت میں تین گناہوں کا ذکر ہے۔ شرک اور قتل ناحق اور زنا۔ یہ تینوں گناہ خدااور بندوں کے حق میں سب سے بڑے گناہ ہیں۔ اللہ پر حقیقی ایمان کی علامت یہ ہے کہ آدمی ان تینوں گناہوں سے دور ہو جائے جو لوگ ان گناہوں میں ملوث ہوں وہ توبہ کرکے ان کے انجام سے بچ سکتے ہیں۔ جو لوگ توبہ اور رجوع کے بغیر مرجائیں ان کے ليے خدا کے یہاں نہایت سخت سزا ہے جس سے وہ کسی حال میں بچ نہ سکیں گے۔
خدا کے نزدیک اصل نیکی یہ ہے کہ آدمی خدا سے ڈرنے والا بن جائے۔ جو نیکی آدمی کو خدا سے بے خوف کرے وہ بدی ہے۔ اور جو بدی آدمی کو خدا سے ڈرائے وہ اپنے انجام کے اعتبار سے نیکی۔
اگر ایک آدمی سے برائی ہوجائے۔ اس کے بعد اس کو خدا کی یاد آئے۔ وہ خداکی باز پرس کو سوچ کر تڑپ اٹھے اور توبہ اور استغفار کرتے ہوئے خدا کی طرف دوڑ پڑے تو خدا اپنی رحمت سے ایسی برائی کو نیکی کے خانہ میں لکھ دے گا۔ کیوں کہ وہ آدمی کو خدا کی طرف رجوع کرنے کا سبب بن گئی۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →