وَٱلَّذِينَ لَا يَدۡعُونَ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ وَلَا يَقۡتُلُونَ ٱلنَّفۡسَ ٱلَّتِي حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ وَلَا يَزۡنُونَۚ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ يَلۡقَ أَثَامٗا
And those who do not invoke with Allah another deity or kill the soul which Allah has forbidden [to be killed], except by right, and do not commit unlawful sexual intercourse. And whoever should do that will meet a penalty
Three sins have been mentioned in this verse—polytheism, the killing of a person without justification and adultery. These three forms of wrongdoing are great sins against God and His subjects. The sign of real faith in God is that a man abstains from them. Those who have indulged in these sins can save themselves from retribution by repentance, but for those who die without repenting and reforming, there will be severe punishment before God at God’s behest, which they will in no way be able to avoid.
اِس آیت میں تین گناہوں کا ذکر ہے۔ شرک اور قتل ناحق اور زنا۔ یہ تینوں گناہ خدااور بندوں کے حق میں سب سے بڑے گناہ ہیں۔ اللہ پر حقیقی ایمان کی علامت یہ ہے کہ آدمی ان تینوں گناہوں سے دور ہو جائے جو لوگ ان گناہوں میں ملوث ہوں وہ توبہ کرکے ان کے انجام سے بچ سکتے ہیں۔ جو لوگ توبہ اور رجوع کے بغیر مرجائیں ان کے ليے خدا کے یہاں نہایت سخت سزا ہے جس سے وہ کسی حال میں بچ نہ سکیں گے۔
خدا کے نزدیک اصل نیکی یہ ہے کہ آدمی خدا سے ڈرنے والا بن جائے۔ جو نیکی آدمی کو خدا سے بے خوف کرے وہ بدی ہے۔ اور جو بدی آدمی کو خدا سے ڈرائے وہ اپنے انجام کے اعتبار سے نیکی۔
اگر ایک آدمی سے برائی ہوجائے۔ اس کے بعد اس کو خدا کی یاد آئے۔ وہ خداکی باز پرس کو سوچ کر تڑپ اٹھے اور توبہ اور استغفار کرتے ہوئے خدا کی طرف دوڑ پڑے تو خدا اپنی رحمت سے ایسی برائی کو نیکی کے خانہ میں لکھ دے گا۔ کیوں کہ وہ آدمی کو خدا کی طرف رجوع کرنے کا سبب بن گئی۔