تَبَارَكَ ٱلَّذِي جَعَلَ فِي ٱلسَّمَآءِ بُرُوجٗا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَٰجٗا وَقَمَرٗا مُّنِيرٗا
Blessed is He who has placed in the sky great stars and placed therein a [burning] lamp and luminous moon
This passage possibly refers to what is known as the solar system. The original Arabic word buruj literally means a castle or fort, but scholars differ as to its exact meaning in this context.
برج کے لفظی معنی قلعہ کے ہیں۔ آسمانی برج سے کیا مراد ہے، اس کی کوئی متفقہ تفسیر ابھی تک نہیں کی جاسکی ہے۔ ممکن ہے کہ اس سے مراد وہ چیز ہو جس کو موجودہ زمانہ میں شمسی نظام کہاجاتا ہے۔ کائنات میں کروڑوں کی تعداد میں شمسی نظام پائے جاتے ہیں۔ انھیں میں سے ایک وہ ہے جو ہم سے قریب ہے اور جس کے اندر ہماری زمین اور سورج اور چاند واقع ہیں۔
شمسی نظام کی بے شمار نشانیوں میں سے ایک نشانی زمین کا سورج کے گرد مسلسل گھومنا ہے۔ اس کی ایک گردش مدار پر ہوتی ہے۔ یہ گردش سال میں پوری ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے موسم واقع ہوتے ہیں۔ اس کی دوسری گردش اس کے محور پر ہوتی ہے۔ یہ
24
گھنٹہ میں پوری ہوجاتی ہے اور اس سے رات اور دن پیدا ہوتے ہیں۔
اتھاہ خلا میں حددرجہ صحت کے ساتھ زمین کی گردش اور اس کا انسانی مصلحتوں کے اتنا زیادہ موافق ہونا اتنے حیرت ناک واقعات ہیں کہ جو شخص ان پر غور کرے گا وہ شکر خداوندی کے جذبہ میں غرق ہو کر رہ جائے گا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →