إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ ٱلۡفَٰحِشَةُ فِي ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ
Indeed, those who like that immorality should be spread [or publicized] among those who have believed will have a painful punishment in this world and the Hereafter. And Allah knows and you do not know
Criticism may therefore be legitimate or illegitimate. While the former is supported by strong arguments, the latter lacks any factual basis and must be refrained from. In practice, when it is an opponent against whom allegations are made, no great need is felt for any further investigation. The allegations are unquestioningly accepted and the story is spread far and wide. This is not only irresponsible, but is also a serious offence, which is punishable both in this world and the world Hereafter.
اس آیت میں ’’فاحشہ‘‘ کی اشاعت سے مراد اسی چیز کی اشاعت ہے جس کو اوپر آیت نمبر
11
میں اِفک کہا گیا ہے۔ یعنی کسی کے خلاف بے بنیاد الزام وضع کرنا اور اس کو لوگوں کے اندر پھیلانا۔
بات کہنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی صرف وہ بات اپنے منه سے نکالے جس کے حق میں اس کے پاس فی الواقع کوئی مضبوط دلیل ہو، جو شرعی طورپر ثابت کی جاسکے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کسی حقیقی بنیاد کے بغیر خود اپنے ذہن سے بات گھڑنا اور اس کو لوگوں سے بیان کرنا۔ پہلا طریقہ جائز طریقہ ہے اور دوسرا طریقہ سراسر ناجائز طریقہ۔
عام طورپر ایسا ہوتا ہے کہ اپنے مخالف کے بارے میں کوئی بات ہو تو آدمی اس کی زیادہ تحقیق کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ وہ بلا بحث اس کو مان لیتا ہے اور دوسروں سے اس کو بیان کرنا شروع کردیتا ہے۔ یہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ فعل ہے بلکہ وہ بہت بڑا جرم ہے۔ وہ دنیا میں بھی قابل سزا ہے اور آخرت میں بھی۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →