۞لَّيۡسَ عَلَيۡكَ هُدَىٰهُمۡ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَهۡدِي مَن يَشَآءُۗ وَمَا تُنفِقُواْ مِنۡ خَيۡرٖ فَلِأَنفُسِكُمۡۚ وَمَا تُنفِقُونَ إِلَّا ٱبۡتِغَآءَ وَجۡهِ ٱللَّهِۚ وَمَا تُنفِقُواْ مِنۡ خَيۡرٖ يُوَفَّ إِلَيۡكُمۡ وَأَنتُمۡ لَا تُظۡلَمُونَ
Not upon you, [O Muhammad], is [responsibility for] their guidance, but Allah guides whom He wills. And whatever good you [believers] spend is for yourselves, and you do not spend except seeking the countenance of Allah. And whatever you spend of good - it will be fully repaid to you, and you will not be wronged
One who spends his money for the sake of God in the way that He has commanded him to do, proves that he has been blessed with wisdom. Wisdom here means knowledge and understanding of the Quran. The biggest folly is to be so enamoured of one’s wealth that one fails to spend for the cause of God, and the greatest wisdom lies in recognizing that monetary interests do not present any obstacle to one’s engaging oneself in God’s work. One should consider God’s cause as one’s own. One who lives within the cocoon of personal interests and considerations cannot possess the insight which would enable him to see higher realities and experience higher states of consciousness. On the contrary, one who goes ahead towards God by ignoring all personal considerations raises himself above all limitations. His consciousness reaches the divine level of God, who is independent (free from all wants), praiseworthy, all-sufficient, and wise. Man is thus enabled to see things as they are. For he goes beyond the limitations which serve as obstacles to seeing things in their true form. However true any argument may be, its truth dawns upon one only when one can see it with an open mind.
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی سب سے بڑی مد یہ ہے کہ ان دینی خادموں کی مالی مدد کی جائے جو دین کی جدوجہد میں اپنے کو ہمہ تن لگا دینے کی وجہ سے بے معاش ہوگئے ہوں۔ایک کامیاب تاجر کے پاس کسی دوسرے کام کے لیے وقت نہیں رہتا۔ ٹھیک یہی معاملہ خدمت دین کا ہے۔ جو شخص یک سوئی کے ساتھ اپنے آپ کو دین کی خدمت میں لگائے اس کے پاس معاشی جدوجہد کے لیے وقت نہیں رہے گا۔ مزید یہ کہ ہر کام کی اپنی ایک فطرت ہے اور اپنی فطرت کے لحاظ سے وہ آدمی کا ذہن ایک خاص ڈھنگ پر بناتاہے جو شخص تجارت میں لگتاہے اس کے اندر دھیرے دھیرے تجارتی مزاج پیدا ہوجاتاہے۔ تجارت کی راہ کی باریکیاں فوراً اس کی سمجھ میں آجاتی ہیں۔ جب کہ وہی آدمی دین کے راستہ کی باتوں کو گہرائی کے ساتھ پکڑ نہیں پاتا۔ یہی معاملہ برعکس صورت میں دين كي خدمت كرنے والے کا ہوتا ہے۔ اب اس کا حل کیا ہو۔ کیوں کہ کسی معاشرہ میں دونوں قسم کے کاموں کا ہونا ضروری ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس معاشی وسائل جمع ہوگئے ہیں اس میں وہ ان لوگوں کا حصہ بھي لگائیں جو دینی مصروفیت کی وجہ سے اپنی معاشیات فراہم نہ کرسکے۔ یہ گویا ایک طرح کی خاموش تقسیم کار ہے جو طرفین کے درمیان خالص رضائے الٰہی کے لیے وقوع میںآتی ہے۔ خادم دین نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے یکسو کیا تھا، اس ليے وہ انسان سے نہیں مانگتا اور نہ اس سے پانے کا امیدوار رہتاهے۔ دوسری طرف صاحب معاش یہ سوچتاہے کہ میرے پاس معاشی وسائل اس قیمت پر آئے ہیں کہ میں دین کی راہ میں وہ خدمت نہ کرسکا جو مجھ کو کرنا چاہيے تھا۔ اس ليے اس کی تلافی كي صورت يہ ہے کہ میں اپنے مال میںاپنے ان بھائیوں کا حصہ لگاؤں جو گویا میری کمی کی تلافی خداکے یہاں کررہے ہیں۔
جب دین کی جدوجہد اس مرحلہ میں ہو کہ دین کے نام پر معاشی عہدے نہ ملتے ہوں، جب دین کی راہ میں لگنے والا آدمی بے روزگار ہوجائے، اس وقت دین کے خادموں کو اپنا مال دینا بظاہر ماحول کے ایک غیراہم طبقہ سے اپنا رشتہ جوڑنا ہے۔ ایسے افراد پر خرچ کرنا مجلسوں میں قابل تذکرہ نہیںہوتا۔ وہ آدمی کی حیثیت اور ناموری میں اضافہ نہیں کرتا۔ مگر یہی وہ خرچ ہے جو آدمی کو سب سے زیادہ اللہ کی رحمتوں کا مستحق بناتاہے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →