يُؤۡتِي ٱلۡحِكۡمَةَ مَن يَشَآءُۚ وَمَن يُؤۡتَ ٱلۡحِكۡمَةَ فَقَدۡ أُوتِيَ خَيۡرٗا كَثِيرٗاۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ
He gives wisdom to whom He wills, and whoever has been given wisdom has certainly been given much good. And none will remember except those of understanding
One who spends his money for the sake of God in the way that He has commanded him to do, proves that he has been blessed with wisdom. Wisdom here means knowledge and understanding of the Quran. The biggest folly is to be so enamoured of one’s wealth that one fails to spend for the cause of God, and the greatest wisdom lies in recognizing that monetary interests do not present any obstacle to one’s engaging oneself in God’s work. One should consider God’s cause as one’s own. One who lives within the cocoon of personal interests and considerations cannot possess the insight which would enable him to see higher realities and experience higher states of consciousness. On the contrary, one who goes ahead towards God by ignoring all personal considerations raises himself above all limitations. His consciousness reaches the divine level of God, who is independent (free from all wants), praiseworthy, all-sufficient, and wise. Man is thus enabled to see things as they are. For he goes beyond the limitations which serve as obstacles to seeing things in their true form. However true any argument may be, its truth dawns upon one only when one can see it with an open mind.
آدمی دنیا میں جو کچھ کماتا ہے اس کو خرچ کرنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو شیطان کے بتائے ہوئے راستہ میں خرچ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ اس کو اللہ کے بتائے ہوئے راستہ میں خرچ کیا جائے۔ شیطان یہ کرتا ہے کہ آدمی کے ذاتی تقاضوں کی اہمیت اس کے دل میں بٹھاتا ہے۔ وہ اس کو سکھاتا ہے کہ تم نے جو کچھ کمایا ہے اس کا بہترین مصرف یہ ہے کہ اس کو اپنی ذاتی ضرورتوں کو پورا کرنے میں لگاؤ۔ پھر جب شیطان دیکھتا ہے کہ آدمی کے پاس اس کی حقیقی ضرورت سے زیادہ مال ہے تو وہ اس کے اندر ایک اور جذبہ بھڑکا دیتاہے۔ یہ نمود و نمائش کا جذبہ ہے۔ اب وہ اپنی دولت کو بے دریغ نمائشی کاموں میں بہانے لگتا ہے اور خوش ہوتا ہے کہ اس نے اپنی دولت کو بہترین مصرف میں لگایا۔
آدمی کو چاہيے کہ اپنے مال کو اپنی ذاتی چیز نہ سمجھے بلکہ اللہ کی چیز سمجھے۔ وہ اپنی کمائی میں سے اپنی حقیقی ضرورت کے بقدر لے لے اور اس کے بعد جو کچھ ہے اس کو بلند تر مقاصد میں لگائے۔ وہ خدا کے کمزور بندوں کو دے اور خدا کے دین کی ضرورتوں میں خرچ کرے۔ آدمی جب اللہ کے کمزور بندوں پر اپنا مال خرچ کرتا ہے تو گویا وہ اپنے رب سے اس بات کا امیدوار بن رہا ہوتا ہے کہ آخرت میں جب وہ خالی ہاتھ خداکے سامنے حاضر ہو تو اس کا خدا اس کو اپنی رحمتوں سے محروم نہ کرے۔ اسی طرح جب وہ دین کی ضرورتوں میں اپنا مال دیتاہے تو وہ اپنے آپ کو خدا کے مشن میں شریک کرتاہے۔ وہ اپنے مال کو خدا کے مال میں شامل کرتاہے تاکہ اس کی حقیر پونجی خدا کے بڑے خزانہ میں مل کر زیادہ ہوجائے۔
جو شخص اپنے مال کو اللہ کے بتائے هوئے طریقے کے مطابق خرچ کرتا ہے وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اس کو حکمت ودانائی میں سے حصہ ملا ہے۔ سب سے بڑی نادانی یہ ہے کہ آدمی مال کی محبت میں مبتلا ہو اور اس کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے سے رک جائے اور سب سے بڑی دانائی یہ ہے کہ اقتصادی مفادات آدمی کے لیے اللہ کی راہ میں بڑھنے میں رکاوٹ نہ بنیں۔ وہ اپنے آپ کو خدا میں اتنا ملا دے کہ خدا کو اپنا اور اپنے کو خدا کا سمجھنے لگے۔ جو شخص ذاتی مصلحتوں کے خول میں جیتا ہے اس کے اندر وہ نگاہ پیدا نہیں ہوسکتی جو بلند تر حقیقتوں کو دیکھے اور اعلیٰ کیفیات کا تجربہ کرے۔ اس کے برعکس، جو شخص ذاتی مصلحتوں کو نظر انداز کرکے خدا کی طرف بڑھتا ہے وہ اپنے آپ کو محدودیتوں سے اوپر اٹھاتا ہے، وہ اپنے شعور کو اس خدا کے ہم سطح کرلیتاہے جو غنی وحمید اور وسیع وعلیم ہے۔ وہ چیزوں کو ان کے اصلی روپ میں دیکھنے لگتا ہے۔ کیوں کہ وہ ان حد بندیوں کے پار ہوجاتا ہے جو آدمی کے لیے کسی چیز کو اس کے اصلی روپ میں دیکھنے میں رکاوٹ بنتی ہیں — کوئی بات خواہ کتنی ہی سچی ہو مگر اس کی سچائی کسی آدمی پر اسی وقت کھلتی ہے جب کہ وہ اس کو کھلے ذہن سے دیکھ سکے۔