يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَقُولُواْ رَٰعِنَا وَقُولُواْ ٱنظُرۡنَا وَٱسۡمَعُواْۗ وَلِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٞ
O you who have believed, say not [to Allah 's Messenger], "Ra'ina" but say, "Unthurna" and listen. And for the disbelievers is a painful punishment
Some people would sit in the Prophet’s company and, by playing on words, make a mockery of his teachings. For instance, instead of using the unambiguous Arabic word for ‘May we have your attention’—‘unzurna’—they would say ‘ra‘ina’. ‘Ra‘ina’, when pronounced properly, has much the same meaning as ‘unzurna’, but with the protraction of the second vowel, it becomes ‘raeena’, meaning ‘our shepherd,’ and with the protraction of the first it becomes ‘raaina’, which means idiot.
پیغمبروں کا انکار کرنے والوں کا جو انجام ہوا وہ گویا دنیا میں اس فیصلہ الٰہی کا جزئی ظہور تھا جو قیامت میں کلی طورپر تمام نوع انسانی کے لیے پیش آنے والا ہے۔قرآن اسی حقیقت کی ایک یاد دہانی ہے۔
دنیا میں آدمی جب حق کو نظر انداز کرتا ہے تو بظاہر یہ بہت ہلکی سی چیز معلوم ہوتی ہے۔ مگر آخرت میں آدمی کا یہ فعل اس کے لیے نہایت بھاری بوجھ بن جائے گا۔ جب خدائی بگل (صور) یہ اعلان کرے گا کہ امتحان کی مدت ختم ہوچکی۔اس وقت اچانک لوگ اپنے آپ کو ایک اور دنیا میں پائیں گے۔ جب آدمی پر یہ کھلے گا کہ جس دنیا کو وہ اپنی دنیا سمجھے ہوئے تھے، وہ دراصل خدا کی دنیا تھی تو اس پر اس قدر دہشت طاری ہوگی کہ اس کی ہیئت تک بدل جائے گی۔
موجودہ دنیا میں آدمی آخرت کو اس طرح نظر انداز کرتاہے جیسے وہ کوئی بہت دور کی چیز ہو۔ مگر قیامت آنے کے بعد آدمی کو ایسا معلوم ہوگا جیسے دنیا کی زندگی تو بس گنتی کے چند روز کی تھی۔ اس کے بعد ساری لمبی زندگی وہی تھی جو آخرت کے عالم میں گزرنے والی تھی۔