وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلزِّنَىٰٓۖ إِنَّهُۥ كَانَ فَٰحِشَةٗ وَسَآءَ سَبِيلٗا
And do not approach unlawful sexual intercourse. Indeed, it is ever an immorality and is evil as a way
Literally ‘do not go near adultery.’ One of the evils, which God wants to root out completely, is adultery, or zina. That is what God says: ‘Do not go near adultery.’ That is, adultery is such a great evil and is proof of such shamelessness, that man should abstain even from its initial stages. Here, only a basic command has been given on this subject. Detailed orders have been given in chapter 24.
خدا ہی نے تمام جانداروں کو پیداکیا ہے۔ وہی ان کے رزق کا انتظام کرتاہے۔ ایسی حالت میں کسی انسان کا کسی کو رزق کی تنگی کا نام لے کر ہلاک کرنا ایک ایسا کام کرناہے جس کا اس سے کوئی تعلق نہ تھا۔ جب رزق کا انتظام خداکی طرف سے ہورہا ہے تو کسی کو کیا حق ہے کہ وہ کسی جان کو اس اندیشہ سے ہلاک کرے کہ وہ کھائے گی کیا۔
’’ہم ان کو بھی رزق دیں گے اور تم کو بھی‘‘ ان الفاظ کے ذریعہ انسان کے ذہن کواس معاملہ میں تخریب کے بجائے تعمیر کی طرف موڑا گیا ہے۔ غور کیجيے کہ جو انسان موجود ہیں وہ اپنا رزق کس طرح حاصل کررہے ہیں۔ وہ اس کو خدا کے فراہم کردہ پیداواری وسائل پر عمل کرکے حاصل کررہے ہیں۔ یہی طریقہ آئندہ آنے والی نسل کے لیے بھی درست ہے۔ تم کو چاہیے کہ مزید پیدا ہونے والوں کو خدا کے پیدواری وسائل میں مزید عمل کرنے پر لگاؤ، نہ کہ خود پیدا ہونے والوں کی آمد کو روکنے لگو۔
خدا انسانوں کے درمیان جن اعمال کو مکمل طورپر ختم کرنا چاہتاہے ان میں سے ایک زنا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ ’’زنا کے قریب نہ جاؤ‘‘ یعنی زنا اتنی بڑی برائی اور بے حیائی ہے کہ اس کے مقدمات سے بھی تم کو پرہیز کرنا چاہیے۔ یہاں اس سلسلہ میں صرف اصولی حکم دیا گیا ہے۔ اس کے تفصیلی احکام آگے سورۂ نور میں بیان کيے گئے ہیں۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →