وَلَا تَقۡرَبُواْ مَالَ ٱلۡيَتِيمِ إِلَّا بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ حَتَّىٰ يَبۡلُغَ أَشُدَّهُۥۚ وَأَوۡفُواْ بِٱلۡعَهۡدِۖ إِنَّ ٱلۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡـُٔولٗا
And do not approach the property of an orphan, except in the way that is best, until he reaches maturity. And fulfill [every] commitment. Indeed, the commitment is ever [that about which one will be] questioned
Whenever an orphan’s property is entrusted to the next of kin—the orphan being under age or not having reached maturity—it is incumbent upon the relatives to keep the orphan’s wealth intact and, as soon as he is able to understand matters of profit and loss, to hand over to him his entire wealth. Keeping promises is a sign of nobility of character. One, who makes a pledge, but does not fulfill it, is a worthless person before God and men. Literally ‘a pledge must be accounted for to God’. These words make it quite clear that if one man makes a promise to another, it does not concern just the two of them: God actively participates in the capacity of the third party. One who breaks his pledge to someone weaker than himself should fear God—who is also present—for it is quite impossible to escape His wrath.
نابالغ یتیم کے سرپرست اس کے قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں۔ مگر یتیم کا مال ان اولیاء کے ہاتھ میں اس وقت تک کے لیے بطور امانت ہے جب تک کہ یتیم عاقل وبالغ نہ ہوجائے۔ اولیاء کو چاہیے کہ وہ یتیم کے مال کو ہاتھ نہ لگائیں۔ وہ صرف اس وقت اس میں تصرف کرسکتے ہیں جب کہ خود یتیم کی خیر خواہی اور ترقی کا تقاضا ہو۔ اور یتیم جیسے ہی اپنے نفع نقصان کو سمجھنے کے قابل ہو اس کا مال پور ی طرح اس کے حوالے کردیا جائے۔
عہد کو پورا کرنا انسانی کردار کی اہم ترین صفت ہے۔ جو آدمی ایک عہد کرے اور پھر اس کو پورا نہ کرے وہ بالکل بے قیمت انسان ہے، بندوں کے نزدیک بھی اور خدا کے نزدیک بھی۔
’’عہد اللہ کے نزدیک قابل پرسش ہے‘‘— یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب ایک آدمی کسی دوسرے آدمی سے عہد کرتاہے تو یہ صرف دو انسانوں کا باہمی معاملہ نہیں ہوتا بلکہ اس میں خدا بھی تیسرے فرق کی حیثیت سے شریک ہوتاہے۔ آدمی کو عہد توڑتے ہوئے ڈرنا چاہیے کہ عہد کا دوسرا فریق صرف ایک کمزور انسان نہیں ہے بلکہ وہ خدا ہے جس کی پکڑ سے بچنا کسی طرح ممکن نہیں۔
دنیا میں ہر قسم کا کاروبار ناپ تول کی بنیاد پر قائم ہے۔ اس سلسلہ میں حکم دیاگیا کہ ناپ تول بالکل ٹھیک رکھا جائے اور جو چیز دی جائے پورے ناپ تول کے ساتھ دی جائے۔
یہ طریقہ بیک وقت اپنے اندر دو پہلو رکھتا ہے۔ ایک طرف وہ انسانی عظمت کے مطابق ہے۔ ناپ تول میں فرق کرناکردار کی پستی ہے۔ اور ناپ تول میں پورا دینا کردار کی بلندی۔ اس کادوسرا عظیم فائدہ یہ ہے کہ اس سے کاروبار کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ کیوں کہ کاروبار کی ترقی کی بنیاد تمام تر اعتماد پر ہے اور ناپ تول صحیح دینا وہ چیز ہے جس سے کسی شخص کا کاروبار ی اعتماد لوگوں کے درمیان قائم ہوتاہے۔