وَلَا تَقۡتُلُوٓاْ أَوۡلَٰدَكُمۡ خَشۡيَةَ إِمۡلَٰقٖۖ نَّحۡنُ نَرۡزُقُهُمۡ وَإِيَّاكُمۡۚ إِنَّ قَتۡلَهُمۡ كَانَ خِطۡـٔٗا كَبِيرٗا
And do not kill your children for fear of poverty. We provide for them and for you. Indeed, their killing is ever a great sin
It was the Lord who created all living creatures and it was He who made provision for their sustenance. In view of this, man’s action in killing anyone on the pretext of a lack of the means to survive amounts to committing a totally unjustifiable act. When God Himself undertakes the sustenance of all His creatures, nobody has the right to kill anybody for fear that another’s continuing to exist will reduce his own chances of survival. ‘It is We who provide (sustenance) for them, and for you.’ Through these words the thinking of man is directed towards construction rather than destruction. It is worth considering that if human beings at present can earn their livelihood, it is by their utilizing the productive resources provided by God. This will hold good for future generations also.
خدا ہی نے تمام جانداروں کو پیداکیا ہے۔ وہی ان کے رزق کا انتظام کرتاہے۔ ایسی حالت میں کسی انسان کا کسی کو رزق کی تنگی کا نام لے کر ہلاک کرنا ایک ایسا کام کرناہے جس کا اس سے کوئی تعلق نہ تھا۔ جب رزق کا انتظام خداکی طرف سے ہورہا ہے تو کسی کو کیا حق ہے کہ وہ کسی جان کو اس اندیشہ سے ہلاک کرے کہ وہ کھائے گی کیا۔
’’ہم ان کو بھی رزق دیں گے اور تم کو بھی‘‘ ان الفاظ کے ذریعہ انسان کے ذہن کواس معاملہ میں تخریب کے بجائے تعمیر کی طرف موڑا گیا ہے۔ غور کیجيے کہ جو انسان موجود ہیں وہ اپنا رزق کس طرح حاصل کررہے ہیں۔ وہ اس کو خدا کے فراہم کردہ پیداواری وسائل پر عمل کرکے حاصل کررہے ہیں۔ یہی طریقہ آئندہ آنے والی نسل کے لیے بھی درست ہے۔ تم کو چاہیے کہ مزید پیدا ہونے والوں کو خدا کے پیدواری وسائل میں مزید عمل کرنے پر لگاؤ، نہ کہ خود پیدا ہونے والوں کی آمد کو روکنے لگو۔
خدا انسانوں کے درمیان جن اعمال کو مکمل طورپر ختم کرنا چاہتاہے ان میں سے ایک زنا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ ’’زنا کے قریب نہ جاؤ‘‘ یعنی زنا اتنی بڑی برائی اور بے حیائی ہے کہ اس کے مقدمات سے بھی تم کو پرہیز کرنا چاہیے۔ یہاں اس سلسلہ میں صرف اصولی حکم دیا گیا ہے۔ اس کے تفصیلی احکام آگے سورۂ نور میں بیان کيے گئے ہیں۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →