قَالُواْ ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ وَلَدٗاۗ سُبۡحَٰنَهُۥۖ هُوَ ٱلۡغَنِيُّۖ لَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ إِنۡ عِندَكُم مِّن سُلۡطَٰنِۭ بِهَٰذَآۚ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ
They have said, "Allah has taken a son." Exalted is He; He is the [one] Free of need. To Him belongs whatever is in the heavens and whatever is in the earth. You have no authority for this [claim]. Do you say about Allah that which you do not know
Imagining the sons and daughters of God is like imagining God on the lines of a human being. Man is the victim of shortcomings and limitations; he therefore needs children so that, through them he can compensate for these shortcomings and limitations. But imagining such a position in respect of God is absolutely baseless. The pattern of God’s creations itself confirms the existence of a Creator. The image of God which should be projected is that of one who is perfect to the final degree; one who is free of all kinds of flaws and deficiencies. Had God not been a perfect being, had He been full of shortcomings and defects, He would not have been able to create a universe like the present one and would not have been able to control it in the present, precisely regulated manner. This means that all the signs of heaven and the earth establish the existence of the one God, the concept of which has been presented by the prophets. But the concept of God devised for themselves by the polytheists has absolutely no proof in the present universe. Now, obviously, the polytheists’ acceptance of an unproved god shows that such people can never be successful, because how can a god who is actually non-existent come to help anybody or fulfil anybody’s wishes? God, who is really in existence, is not accepted by the polytheists and the god they accept does not exist anywhere. Under these circumstances, how can the polytheists be successful in the present universe? Their only possible fate will be to finally become helpless and without support and forever suffer disgrace and disappointment.
خدا کے لیے بیٹے بیٹیاں ماننا خدا کو انسان کے اوپر قیاس کرنا ہے۔ انسان کمیوںاور محدودیتوں کا شکار ہے، اس لیے اس کو اولاد کی ضرورت ہے تاکہ ان کے ذریعے وہ اپنی کمیوں اور محدودیتوں کی تلافی کرے مگر خدا کے معاملہ میں یہ قیاس بالکل بے بنیاد ہے۔
مخلوقات کانظام خود ہی اس قسم کے خالق کی تردید ہے۔ مخلوقات کا عالمی نظام جس خدا کی شہادت دے رہا ہے وہ یقینی طورپر ایک ایسا خدا ہے جو اپنی ذات میں آخری حد تک کامل ہے۔ وہ ہر قسم کے عیبوں اور کمیوں سے پاک ہے۔ خدا اگر اپنی ذات میں کامل نہ ہوتا، اگر وہ عیبوں اور کمیوں والا خدا ہوتا تو کبھی وہ موجودہ کائنات جیسی کائنات کو نہیں بنا سکتا تھا اور نہ اس کو اس طرح چلا سکتا تھا جس طرح وہ انتہائی معیاری صورت میں چل رہی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر جس خدائے واحد کا تصور پیش کررہا ہے اس کا وجود تو زمین وآسمان کی تمام نشانیوں سے ثابت ہے۔ مگر مشرکین نے خدا کا جو تصور بنا رکھا ہے، اس کا کوئی ثبوت موجودہ کائنات میں موجود نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ بے ثبوت خدا کو ماننا خود ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسے لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ کیوں کہ جو خدا سرے سے موجود نہ ہو وہ کیسے کسی کی مدد پر آئے گا اور کیسے کسی کو بامراد کرے گا۔جو خدا حقیقی طورپر موجود ہے، مشرکین اس کو مانتے نہیں، اور جس خدا کو مانتے ہیں اس کا کہیں وجود نہیں۔ ایسی حالت میں مشرکین موجودہ کائنات میں کیوں کر کامیاب ہوسکتے ہیں۔ ان کے لیے جو واحد انجام مقدر ہے وہ صرف یہ کہ بالآخر وہ بے بس اور بے سہارا ہو کر رہ جائیں اور ہمیشہ کے ليے ذلت وناکامی میں پڑے رہیں۔
موجودہ دنیا میں انکار یا شرک کا رویہ اختیار کرنے سے کسی کا کچھ بگڑتا نہیں۔ اس سے آدمی غلط فہمی میں پڑ جاتاہے۔ مگر یہ صورت حال صرف امتحان کی مہلت کی بنا پر ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کو امتحان کی وجہ سے عمل کی آزادی دی گئی ہے۔ جیسے ہی امتحان کی مدت ختم ہوگی موجودہ صورت حال بھی ختم ہوجائے گی۔ اس وقت آدمی دیکھے گا کہ اس کے پاس ان چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں ہے جس کا وہ اپنے آپ کو مالک سمجھ کر سرکش بنا ہوا تھا۔
حدیث میںآیا ہے کہ اللہ نے عقل سے کہا ’’اے عقل، اس کائنات میں میں نے تجھ سے افضل ، تجھ سے حسین اور تجھ سے بہتر مخلوق پیدا نہیں کی‘‘۔(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 1845) انسان کو ایسی عظیم نعمت دینے کا یہ تقاضا ہے کہ اس کی ذمہ داری بھی عظیم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کے نزدیک سچائی کا انکار سب سے بڑا جرم ہے۔ سچائی کو جب دلیل سے ثابت کردیا جائے تو آدمی کے اوپر لازم ہوجاتا ہے کہ وہ اس کو مانے۔ عقلی طور پر ثابت شدہ ہوجانے کے بعد اگر وہ سچائی کا انکار کرتاہے تو وہ ناقابلِ معافی جرم کا ارتکاب کررہا ہے۔ خدانے جب انسان کو ایسی عقل دی جس سے وہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا جان سکے تو اس کے بعد کیا چیز ہوگی جو خداکے یہاں اس کے ليے عذر بن سکے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →