فَإِن تَوَلَّيۡتُمۡ فَمَا سَأَلۡتُكُم مِّنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِۖ وَأُمِرۡتُ أَنۡ أَكُونَ مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ
And if you turn away [from my advice] then no payment have I asked of you. My reward is only from Allah, and I have been commanded to be of the Muslims
Noah (Nuh) was a Prophet of the most ancient period. As long as he was silent, his community respected him, but when he came forward as a call-giver of the Truth and started telling the people what to do and what not to do, he became persona non grata in the eyes of his community, so much so that they gave him the ultimatum: ‘Either you give up this call-giving and tendering of advice or else we will not allow you to stay in this land of ours.’ Noah said that they were saying all this because they were treating his message as the affair of a human being, while this was actually God’s own concern. He said that, in order to fight with him, they would have to fight God. He further said, ‘If you don’t believe it, then what you can do is gather your companions and partners and formulate any unanimous plan against me, and then carry it out with all your might. Then you will see that your every plan against me is a failure.’ In the present world, the standard confirming the veracity of a caller for truth is that he fulfills his mission at all costs and nobody succeeds in thwarting him.
حضرت نوح قدیم ترین زمانہ کے رسول ہیں۔ وہ جب تک خاموش تھے، قوم ان کی عزت کرتی رہی۔ مگر جب آپ حق کے داعی بن کر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو بتانے لگے کہ ایسا کرو اور ویسا نہ کروتو وہ قوم کی نظر میں ایک ناپسندیدہ شخص بن گئے۔ یہاں تک کہ قوم نے اعلان کردیا کہ تم اپنی تبلیغ ونصیحت سے باز آؤ ورنہ ہم تم کو اپنی زمین میں نہیں رہنے دیں گے۔
حضرت نوح نے کہا کہ تم لوگ میرے معاملہ کو ایک انسان کا معاملہ سمجھتے ہو، اس لیے ایسا کہہ رہے ہو۔ مگر یہ معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ مجھ سے لڑنے کے لیے تم کو خدا سے لڑنا پڑے گا۔ تم کو اگر یقین نہ ہو تو تم اس طرح تجربہ کرسکتے ہو کہ اپنے ساتھیوں اور شریکوں کو ملا کر میرے خلاف کوئی متفقہ منصوبہ بناؤ اور اپنی تمام طاقت کے ساتھ اس کی تعمیل کر گزرو۔ تم دیکھو گے کہ میرے مقابلہ میں تمھارا ہر منصوبہ ناکام ہے۔ موجودہ دنیا میں داعی حق کی صداقت کو جانچنے کا معیار یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اپنا کام پورا کرکے رہتاہے۔ کوئی بھی اس کو زیر کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔
جو شخص خدا کی طرف سے حق کی دعوت لے کر اٹھے وہ ہمیشہ نشانی (دلیل) کے زور پر اٹھتا ہے۔ دلیل چونکہ ایک ذہنی چیز ہے اس لیے ظاہر پسند انسان اس کی عظمت کو سمجھ نہیں پاتا۔ وہ ذہنی طورپر لاجواب ہونے کے باوجود اس کے آگے جھکنے سے انکار کردیتا ہے۔
حق کے داعی کو جن آدابِ دعوت کا لازمی طورپر لحاظ کرنا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ داعی اپنے مدعو سے کسی بھی قسم کا معاشی اور مادی مطالبہ نہ کرے۔ خواہ اس یک طرفہ دست برداری کی وجہ سے اس کو کتنا ہی نقصان اٹھانا پڑے۔ ایسا کرنا اس لیے ضروری ہے کہ دونوں کے درمیان آخر وقت تک داعی اور مدعو کا تعلق باقی رہے، وہ کسی بھی حال میں قومی حریف اور مادی رقیب کا تعلق نہ بننے پائے۔
حضرت نوح نے جب اتمام حجت کی حد تک حق کا پیغام پہنچا دیا، پھر بھی ان کی قوم سرکشی پر قائم رہی تو سرکشوں کو سیلاب میں غرق کرکے زمین ان سے خالی کرا لی گئی اور مومنینِ نوح کو موقع دیاگیا کہ وہ زمین کے وارث بن کر اس پر آباد ہوں۔ اسی کو قرآن کی اصطلاح میں ’’خلافت‘‘ کہا جاتا ہے۔ سیلاب سے پہلے قومِ نوح زمین کی خلیفہ بنی ہوئی تھی، سیلاب کے بعد مومنین نوح زمین کے خلیفہ قرار پائے۔