ایک بار مدرٹریسا امریکہ میں مدعو کی گئیں وہ ایک بڑے جلسہ میں شریک ہوئیں جس میں صدر امریکہ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر مدرٹریسا سے کچھ بولنے کی فرمائش کی گئی اپنی بات شروع کرتے وئے انہوں نے پہلا جملہ یہ کہا: میں امیر بھارت سے غریب امریکا میں آئی ہوں۔
ان کا مطلب یہ تھا کہ امریکا اگرچہ مادی اعتبار سے امیر ہے مگر روحانی اعتبار سے وہ مفلس ہے، جب کہ بھارت مادی اعتبار سے پیچھے ہونےکے باوجود روحانی اعتبار سے امریکا سے آگے ہے۔
مدرٹریسا البانیہ میں پیدا ہوئیں۔ نوجوانی کی عمر میں انہوں نے انڈیا کی شہریت اختیار کرلی۔ اس کے بعد انہوں نے سچ مچ انڈیا کو اپنا وطن بنالیا۔ مذکورہ جملہ احساس وطنیت کے تحت نکلا ہوا جملہ ہے بہت سے لوگ جو انڈیا ہی میں پیدا ہوئے۔ اس کے باوجود وہ مذکورہ قسم کے احساس وطنیت سے محروم ہیں۔(ڈائری، 2اکتوبر1997)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.